قدیم مصری ملکہ کے کنگن سے فراعنہ کے تجارتی نیٹ ورکس کا انکشاف

ماہرین نے ان تجارتی نیٹ ورکس کا انکشاف کیا ہے جو قدیم مصر کو یونان سے ملاتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری ملکہ حتب حرس اول کے مقبرے سے ملنے والے کنگنوں نے ان تجارتی نیٹ ورکس کے بارے میں انکشاف کیا ہے جو قدیم مصر کو یونان سے جوڑتے تھے۔

یہ ملکہ بادشاہ خوفو کی ماں تھی، وہ فرعون جس نے عظیم اہرام کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔

"لائیو سائنس" ویب سائٹ کے مطابق زیورات سے لیے گئے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے انکشاف کیا کہ کنگنوں کو بنانے میں تانبا، سونا اور سیسہ کا استعمال ہوا ہے۔

ان میں فیروزہ، سنگ لاجورد اور عقیق جیسے پتھر بھی جڑے ہیں جو قدیم مصری زیورات کی عام خصوصیت تھی۔

تاہم، ان میں چاندی کے موجودگی کے نشانات بھی موجود ہیں، حالانکہ قدیم مصر میں 2600 قبل مسیح میں جب یہ زیورات تیار کیے گئے تھے تو اس قیمتی دھات کے کوئی مقامی ذرائع نہیں تھے۔

ٹیم نے آئسوٹوپس کے تناسب کو بھی دیکھا اور دیکھا کہ ایٹموں کے مرکزے میں نیوٹران کی تعداد ان کے معمول سے مختلف تھی۔

جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس کے جون کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس تجزیے کی بنیاد پر، ماہرین نے خیال ظاہر کیا کہ یہ دھات بحیرہ ایجیئن میں یونانی جزیروں کے ایک گروپ،"سائیکلیڈس کی کچ دھاتوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ اسی طرح جنوبی یونان کے ایک قصبے لیوریون میں بھی یہ دھات پائی جاتی تھی۔

سرکردہ مصنف کیرن سوادہ، سڈنی کی میکوری یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور آثار قدیمہ کے لیکچرر نے بیان میں کہا کہ تیسری صدی کے دوران بنے ان فن پاروں میں استعمال ہونے والی چاندی کی اصلیت اب تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

یہ نئی دریافت پہلی بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ اہرام کی تعمیر کے دور میں قدیم مصر کے زیر استعمال تجارتی نیٹ ورکس کی ممکنہ جغرافیائی حد کہاں تک تھی۔"

ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ چاندی اس وقت لبنان میں جبیل کی بندرگاہ سے آتی تھی۔

کیوں کہ چوتھی صدی کے آخر میں جبیل کے مقبرے چاندی کے بہت سے ٹکڑے پر مشتمل تھے ، اور یہ کہ اس وقت اس بندرگاہ اور مصر کے درمیان آمد ورفت کا انکشاف بھی ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق کنگن پر چاندی کی موجودگی مصر اور یونان کے درمیان طویل فاصلے کی تجارت کا بھی پہلا ثبوت ہے۔

ملکہ حتب حرس قدیم مصر کی بااثر ترین ملکاؤں میں سے تھی۔

وہ چوتھے خاندان (2575 قبل مسیح سے 2465 قبل مسیح) کے پہلے فرعون، سنیفیرو کی بیوی تھی۔

1925 میں جیزہ میں دریافت ہونے والی اس کی قبر سے بہت سا خزانہ بھی ملا تھا، جس میں سنہری فرنیچر، سنہری برتن اور زیورات، اور یہ طلائی 20 کنگن بھی موجود تھے۔

ان میں سے کچھ کنگن اب بوسٹن کے میوزیم آف فائن آرٹس کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں