یواے ای:قانونی اصلاحات اور بدلتے روّیے؛ بیضے منجمد کرنے والی خواتین میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
13 منٹ read

متحدہ عرب امارات میں ایسی خواتین کی تعداد میں "نمایاں" اضافہ ہوا ہے جو قانون میں نرمی، تولیدی علاج کے بارے میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور خاندان شروع کرنے کے منصوبوں میں تاخیر کے پیش نظر اپنے بیضے (انڈے) منجمد کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اس عمل میں ایک عورت کے بیضے جمع کرکے منجمد کیے جاتے ہیں اوروہ بعد میں وقت ضرورت پگھل سکتے ہیں۔ اس عمل کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ماں بننے سے پہلے ’’وقت لینے‘‘کی کوشش کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں فرٹیلٹی کلینکس اور آئی وی ایف ماہرین نے اس طریق کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اپنی زرخیزی کو برقرار رکھنے کا انتخاب کرنے والی خواتین میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

ابوظبی میں واقع فقیہ آئی وی ایف فرٹیلٹی سینٹر میں تولیدی ادویہ اور بانجھ پن کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر یاسمین سجاد نے بتایا کہ’’ثقافتی عقائد اور مذہبی قواعد و ضوابط کی وجہ سے جی سی سی ممالک میں بیضوں کو منجمد کرنے کی رفتار سست رہی ہے، لیکن اب یہ رجحان بڑھ رہا ہے اور متحدہ عرب امارات میں بھی یہ رجحان جی سی سی کے دیگرممالک کے برابر ہے۔ جی سی سی اور خاص طور پر یواے ای میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور تعلیم کی وجہ سے بیضے منجمد ہونے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ بیضے منجمد کرنے کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ یہ ہے کہ اس سے وہ خواتین جو بچہ پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ،انھیں بعد کی زندگی میں خاندان شروع کرنے کی لچک ملتی ہے جب ان کی قدرتی زرخیزی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

انھوں نے العربیہ کو اس بڑھتی ہوئی مانگ کی وجوہ کے بارے میں بتایا کہ ’’خواتین کی بڑھتی ہوئی تعلیم اور لیبر مارکیٹ میں شرکت کی وجہ سے، وہ اپنے کیریئر پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ وہ کیریئر میں مہارت حاصل کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ ،ان کی کامیابی انھیں بیضے منجمد کرنے کے طریق کار کو برداشت کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تمام خواتین کے لیے مؤثر مانع حمل کے اختیارات میں اضافہ خواتین کے تاخیر سے بچے پیدا کرنے کی ایک اور وجہ ہے۔

ڈاکٹریاسمین کا کہنا تھا کہ ’’بیضے منجمد ہونے کے ساتھ خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور انھیں بہترین کارکردگی کا احساس ہوتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ان کا اپنی زرخیزی پر زیادہ کنٹرول ہے اور 'بائیولوجیکل گھڑی' کے خوف کے بغیر انھیں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ کنٹرول شاید ان کی پچھلی نسلوں کے پاس نہیں تھا، اور زندگی میں بعد میں بچے پیدا کرنے کا داغ آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔

کووِڈ 19 کی وجہ سے بیضوں کے انجمادمیں اضافہ

اگرچہ سماجی طور پر اپنے بیضے کو منجمد کرنے والی خواتین میں اضافہ ہوا ہے ، لیکن کووِڈ 19 کی وَباکے بعد اس میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹریاسمین سجاد اس کی ایک وجہ یہ بتاتی ہیں کہ وبائی مرض کی وجہ سے خواتین کے لیے ہم پلہ جیون ساتھی کی تلاش مشکل ہو گئی ہے، اس سے خاندان شروع کرنے کے بارے میں ان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیضے منجمد کرنے کے آپشن کا انتخاب کررہی ہیں کیونکہ وبائی مرض نے بہت سی خواتین کے لیے عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی۔ لہٰذا بیضوں کو منجمد کرنے سے انھیں اچھے جیون ساتھی کے انتخاب تک ’’وقت لینے‘‘' کا موقع مل گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سماجی طور پربیضے منجمد کرنے سے خواتین کو اپنے کیریئر اور مستقبل کے خاندان کی منصوبہ بندی کے بارے میں لچک اور آزادی ملتی ہے۔ پچھلی نسلوں میں خواتین کی زرخیزی سے متعلق اس قسم کی لچک کا فقدان تھا۔اب خواتین اپنے کیریئر میں جلدی کرنے یا ساتھی تلاش کرنے کے لیے کم دباؤ محسوس کرتی ہیں۔

جیسے جیسے عورت کی عمر بڑھتی ہے، انڈوں کی محدود تعداد اور معیار کم ہوتا جاتا ہے۔لہذا، عام طور پر 38 سال سے کم عمر کی خواتین کو بیضے منجمد کرنے کی پیش کش کی جاتی ہے تاکہ وہ بعد میں زندگی میں صحت مند اور جینیاتی طور پر مضبوط بچے پیدا کرسکیں۔

کم عمری میں ان بیضوں کو "پکڑنے" سے ایک عورت کو بعد میں زندگی میں صحت مند بچے پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے اور ماں کی بڑھتی عمر کے ساتھ پیدائشی کروموسوم کی خرابیوں والے بچوں کے پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

بیضوں کو منجمد کرنے کا طریق کار

اس عمل کے دوران میں خواتین کے بیضے نکالے جاتے ہیں، منجمد کیے جاتے ہیں اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔بعد میں، جب وہ حاملہ ہونے کے لیے تیار ہوتی ہے، تو انڈوں کو پگھلایا جا سکتا ہے اور ایمبریو میں تخم کیا جا سکتا ہے. اس کے بعد ایمبریو کو بچہ دانی میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر یاسمین سجاد نے العربیہ کو بتایا کہ’’یہ خواتین کی کم عمری میں زرخیزی کو برقرار رکھنے کا ایک ثابت شدہ اور کامیاب طریقہ ہے۔ اس عمل میں خواتین کو 9-10 دنوں تک کنٹرول ہارمونل محرک سے گزرنے کی ضرورت ہوتی ہے. اس کے بعد، وہ اپنے بیضے کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایک چھوٹے سے عمل سے گزرتی ہیں‘‘۔

اس کے بعد انڈوں کو منجمد کیا جاتا ہے یا ویٹریفیکیشن نامی جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے محفوظ (کریپروسیورڈ) کیا جاتا ہے۔ نظری طور پر بیضوں کو غیر معینہ مدت تک منجمد کیا جاسکتا ہے، کیونکہ کریپریزرویشن کے دوران میں کوئی حیاتیاتی سرگرمی نہیں ہوتی ہے۔

لیکن متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت کریپریزرویشن کی مدت پانچ سال ہے اور اس میں مزید پانچ سال کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

ایک ملازم لیبارٹری میں بیضے (انڈے) نکالنے کے عمل کا مظاہرہ کررہا ہے۔
ایک ملازم لیبارٹری میں بیضے (انڈے) نکالنے کے عمل کا مظاہرہ کررہا ہے۔

بیضے منجمد کرنے سے متعلق ترمیمی قانون

19دسمبر ، 2019 کو، یواے ای کے سابق صدر مرحوم شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے نئے آئی وی ایف قانون کا اعلان کیا تھا۔اس سے خواتین کو کم سے کم پانچ سال تک اپنے ایمبریو کو منجمد کرنے کی سہولت مل گئی تھی۔

پرانے آئی وی ایف قانون میں کہا گیا تھا کہ وزارت صحت کے زیر انتظام ایک تکنیکی کمیٹی کو ایمبریو کو منجمد کرنے کی نگرانی اور منظوری دینا ہوگی۔نئے آئی وی ایف قانون نے،جو سرکاری طور پر یکم جنوری ، 2020 کو نافذ العمل ہوا، پرانے آئی وی ایف قانون کو منسوخ کردیا تھا۔نیا قانون تولیدی صحت کے مراکز کو انسانی ایمبریو اور غیرزرخیز بیضوں اور اسپرم کو منجمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پرانے آئی وی ایف قانون کے تحت انسانی ایمبریو کو منجمد کرنا غیر قانونی تھا اور صرف غیر زرخیز بیضے منجمد کیے جا سکتے تھے۔

’’قانون میں اس تبدیلی نے ان جوڑوں کو زیادہ اختیارات فراہم کیے جو یا تو حاملہ ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں یا جو خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں زیادہ لچک چاہتے ہیں ۔اس قانون کا ایک مقصد متحدہ عرب امارات کے اندر جوڑوں کو علاج کے موقع مہیا کرنا اور انھیں اس مقصد کے لیے بیرون ملک سفر سے روکنا ہے‘‘۔ ڈاکٹریاسمین سجاد نے العربیہ کو بتایا۔

فرٹیلٹی سینٹرز اب انسانی ایمبریو کو پانچ سال کے لیے منجمد کر سکتے ہیں۔ اس مدت کو درخواست پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ وقت کی حد اب بھی دوسرے ممالک سے پیچھے ہے - مثال کے طور پر ، برطانیہ میں خواتین اب 2022 میں قانون میں تبدیلی کے تحت اپنے منجمد انڈوں کو 55 سال تک ذخیرہ کر سکتی ہیں (یہ مدت پچھلی 10 سال کی حد سے بڑھا دی گئی ہے) - متحدہ عرب امارات خواتین کو اپنی تولیدی صحت کی حفاظت کے لیے آپشنز دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

نئے آئی وی ایف قانون میں غیر شادی شدہ خواتین کو بھی اپنے بیضے پانچ سال تک منجمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یہ قانون یقینی طور پر ان خواتین کے لیے راحت فراہم کرتا ہے جو طبی علاج سے گزر رہی ہیں جو طویل مدت میں ان کی زرخیزی کو متاثر کرے گی اور وہ خواتین بھی جو بڑی عمر میں شادی کرنے کا انتخاب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے نہ صرف مستقبل میں ان جوڑوں کے لیے آئی وی ایف کے دور کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی جنھوں نے بہن بھائیوں کے حمل کے لیے اضافی ایمبریو ذخیرہ کیے ہیں بلکہ کامیاب حمل کے امکانات میں بھی اضافہ ہوگا اور آئی وی ایف سے وابستہ تناؤ اور غیر یقینی صورت حال کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

اووسیو فرٹیلٹی کلینک کے شریک بانی مجد أبو زنط نے کہا کہ اس قانون سے متحدہ عرب امارات میں "زرخیزی کے تحفظ کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے"۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’یہ ایک ناقابل یقین پیش رفت ہے جس سے خواتین کو اپنی زرخیزی میں کمی کے بارے میں فکرمند ہوئے بغیر اپنی زندگی اور خاندانی منصوبوں کو سمجھنے کے لیے کافی وقت مل گیا ہے‘‘۔

’آپشنز کھلے رکھنا چاہتی تھی'

متحدہ عرب امارات کے نئے قانون سے راحت محسوس کرنے والی ایک فرانسیسی مصری تارک وطن نوئل السعدانی ہیں۔ وہ گذشتہ 16 سال سے متحدہ عرب امارات میں رہ رہی ہیں۔ انھوں نے تین سال پہلے 38 سال کی عمر میں کوِوڈ-19 کے دوران میں اپنے بیضے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذہنی صحت کی وکیل اورادارہ 8 ویل نیس کی بانی السعدانی نے العربیہ کو بتایا کہ ’’میں بچے پیدا کرنے کا آپشن کھلا رکھنا چاہتی ہوں۔میں ہمیشہ سے بچے پیدا کرنا چاہتی تھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ ایسا ہونے والا ہے یا نہیں۔میرے تعلقات اوپر نیچے جا رہے تھے اور بنیادی طور پر، میرا رشتہ ٹوٹنے والا تھا اوریہ علاحدگی کافی اہم تھی۔میں نے صرف یہ محسوس کیا کہ مجھے اپنی زندگی میں کسی طرح کا کنٹرول واپس لینے کی ضرورت ہے اور بچے کو جنم دینا ان میں سے ایک نہیں تھا ، یا میں ماں بننے کے قابل نہیں تھی‘‘۔

السعدانی کی ایک طبی تاریخ بھی تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اس سے کم یا بانجھ پن کا خطرہ بڑھ جائے گا۔بشمول پولی سیسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس)، آٹو امیون ڈس آرڈر کے ساتھ طویل مدتی جنگ اور اس سے پہلے سڑک حادثے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں۔ اس صورت حال میں انھوں نے ابوظبی اور دبئی دونوں شہروں میں اپنے اختیارات تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے ہمیشہ اس بات کی فکر رہتی تھی کہ قدرتی طور پر حاملہ ہونا میرے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا۔اس کیفیت نے مجھے کئی سال تک تک بے چینی میں مبتلا کر دیا‘‘۔

انھوں نے اپنے مسئلہ کے حال کے لیے ملک بھر کے پانچ کلینکس کے چکر لگائے۔ان سے مشاورت اور ایک دوست سے مشورہ لینے کے بعد، جو اسی طریق کار سے گزرچکی تھیں، اور طبی پیشہ ور افراد سے "بہت سارے سوالات" پوچھنے کے بعد، السعدانی نے بیضے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ بیضوں کو منجمد کرنے کے ایک اوسط چکر پر 30,000 درہم (8،167 ڈالر) خرچ ہو سکتے ہیں اور "میرے جسم کو تیار کرنے" کے لیے ہارمونل انجیکشن کا ایک کورس کرنا ہوگا۔اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ دوستوں ، خاندان اور ساتھیوں کی طرف سے بہت سے مختلف نقطہ نظر کا سامنا کرنا پڑا۔

السعدانی کا ماننا ہے کہ بہت سی خواتین ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔اس وقت بچہ پیدا کرنے کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں یا زرخیزی کے علاج کے لیے سازگار حالات میں نہیں ہیں لیکن مستقبل میں بچے کو جنم دینے کے امکان کو مسترد نہیں کرنا چاہتی ہیں۔

نوئل السعدانی
نوئل السعدانی

ابوزنط نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں بیضے منجمد کرنے کی اوسط قیمت عام طور پر 5200 ڈالر سے 6800 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔مزید برآں، خواتین کو ابتدائی زرخیزی کی تشخیص کی لاگت پر غور کرنا چاہیے، جو قریباً 400 ڈالر ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں