امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں تیل پیداوارپرتندوتیز مباحثے کے بعد کیا بہتری آگئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکا اور سعودی عرب اب گذشتہ سال تیل کے بحران سے آگے بڑھ کر اربوں ڈالر مالیت کے دفاعی اور ہوا بازی کے معاہدوں اور ممکنہ جوہری تعاون پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کا رواں ہفتے سعودی عرب کا دورہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی تازہ علامت ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سوڈان اور یوکرین میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے تعاون جاری ہے۔

جو بائیڈن کی انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ کبھی مشرق اوسط میں واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک تھا۔ یہ گذشتہ سال اکتوبر میں صورت حال کے برعکس ایک تبدیلی ہے، جب سعودی عرب اور روس کی سربراہی میں تیل پیدا کرنے والے کارٹیل اوپیک پلس نے پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وجہ سے امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے ایک ماہ قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

لیکن اس کے بعد سے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے بعد، دونوں ممالک اپنے جھگڑے سے آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔یہاں تک کہ سعودی عرب جولائی میں یومیہ اضافی 10 لاکھ بیرل تیل پیداوار میں کٹوتی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس بات کے اشارے یہ ہیں کہ دفاعی شعبے اور شہری ہوا بازی کے معاہدے، مشرق اوسط میں چین کے اقدامات پر جنگی تیاری اور سعودی،اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دباؤ اب واشنگٹن کے لیے زیادہ اہم ہے۔

ریپڈن انرجی گروپ کے صدر اور وائٹ ہاؤس کے ایک سابق عہدہ دار باب میکنیلی نے تیل پیداوار میں حالیہ کٹوتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ بائیڈن انتظامیہ گذشتہ سال اکتوبر کی لفظی جنگ کی طرف لوٹنا چاہتی ہے اور اس فیصلے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرے گی‘‘۔

امریکا کے لیے کم سے کم 265 ارب ڈالر مالیت کے سعودی آرڈرز داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ان کی مالیت امریکا کی دفاعی اور ہوا بازی کی صنعت کے بڑے سودوں میں سے ہے۔

امریکا کی طیارہ ساز بوئنگ کمپنی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے 737 میکس جیٹ لائنرز میں سے کم سے کم 150 کو سعودی عرب کی نئی سرکاری کمپنی طیران الریاض کو فروخت کرنے کے لیے ایک اضافی معاہدہ طے کرنے پر کام کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کا حجم 55 ارب ڈالر ہے۔

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اشاروں میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے حکام سوڈان میں متحارب فریقوں کو جنگ بندی پر قائل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ پینٹاگون کی ایک اعلیٰ عہدہ دار مارا کارلن نے سعودی عرب میں منعقدہ عرب سربراہ اجلاس میں یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کی شرکت کا خیر مقدم کیا تھا۔ انھوں نے دیگر اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ روس کے حملے کے خلاف کیف کے دفاع کی حمایت کا اظہار کریں۔

حال ہی میں دونوں ملکوں میں خلائی تحقیق اور خلانوردی میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور امریکا کے سب سے تجربہ کار خلابازوں میں سے ایک قریباً ایک سال کی تربیت کے بعد دو سعودیوں کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پراترے تھے۔اس ٹیم میں اس طرح کا مشن انجام دینے والی پہلی سعودی خاتون بھی شامل تھیں۔

نیا سفیر

واشنگٹن نے مارچ میں مائیکل ریٹنی کو الریاض میں اپنا نیا سفیر مقرر کیا تھا۔ان کا تقرر امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لانے کے عزم کی علامت ہےلیکن دونوں میں اختلافات باقی ہیں۔

بلاشبہ سب سے مشکل بات یہ ہے کہ سعودی عرب ایک سویلین جوہری پروگرام چاہتا ہے جس میں اندرون ملک یورینیم کی افزودگی بھی شامل ہو۔ سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے والے متعدد امریکی اور سعودی تجزیہ کاروں کے مطابق مملکت امریکی آشیرباد کے بغیر بھی آگے بڑھنے کو تیار ہے۔

امریکا یورینیم افزودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے۔

سعودی مصنف اور مبصر علی شہابی کا کہنا ہے کہ امریکا کو جوہری تعاون سے انکار کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود الریاض متوازی مذاکرات کر رہا ہے اور میز پراس کے مدمقابل فریق میں روسی اور چینی بھی شامل ہیں، جو سعودی عرب کو یورینیم کے ذخائر کا نقشہ بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔

امریکی حکام مشرق اوسط میں چین کے بڑھتے ہوئے قدموں سے پریشان ہیں، حالانکہ جارحانہ اور آزاد سعودی قیادت معاملات کو مختلف انداز میں دیکھتی ہے۔

سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد الفالح نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ’’ہم چین کے ساتھ کئی طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

بلومبرگ کے اعدادو شمار کے مطابق سعودی عرب کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں چین کو زیادہ خام تیل بھیجتا ہے، جس کی فروخت کی مالیت اپریل میں قریباً 45 ارب ڈالر تھی۔ چین کے ساتھ سعودی عرب کی تجارت کا حجم امریکا اور یورپی یونین کی مشترکہ تجارت کے برابر ہے۔

اسرائیل اور یورینیم افزودگی

چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مئی کے اوائل میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کو نئے اتحادوں میں شامل کرنے پر زور دیا تھا جن میں بھارت اور ممکنہ طور پر اسرائیل شامل ہیں۔

عوامی سطح پر سعودی عرب اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرچکا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام پیشگی شرط ہے۔ سینیر سعودی حکام سے ملاقات کرنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق نجی طور پر سعودی عرب نے امریکا سے مضبوط دفاع اور سلامتی کی ضمانت، اعلیٰ درجے کے امریکی ہتھیاروں تک رسائی اور جوہری پروگرام کے لیے گرین سگنل بشمول اندرون ملک افزودگی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک اور تھنک ٹینک فاؤنڈیشن برائے دفاع جمہوریت کے سربراہ مارک ڈوبووٹز نے اپریل میں سعودی حکام سے ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ یورینیم کی افزودگی ان کی ایک اہم ترجیح ہے لیکن یہ سب سے مشکل مسئلہ ہے۔

دریں اثناء اسرائیل کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے سویلین جوہری پروگرام تیار کرنے کے مخالف ہیں۔

جوہری توانائی کے پروگرام کی ترقی ویژن 2030 کا ایک ستون ہے۔سعودی عرب مصفا یورینیم دوسرے ممالک کو برآمد کرنا چاہتا ہے اور اسے مقامی پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے والے پانچ افراد کے مطابق وہ ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی طرح کے کسی معاہدے پر دست خط کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔اس میں یواے ای کی طرف سے ٹیکنالوجی تک رسائی کے بدلے میں افزودگی اور ری پروسیسنگ کو ترک کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کونسل کے سینہر ڈائریکٹر برائے اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ پرنائے وڈی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا:’’ہم افزودگی کے پھیلاؤ کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہمیشہ ایسا ہی رہے گا‘‘۔

کولمبیا یونیورسٹی کے مرکز برائے گلوبل انرجی پالیسی کی سینیر ریسرچ اسکالر کیرن ینگ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری اور سعودی عرب کے جوہری پروگرام میں چین کے ملوّث ہونے پر امریکی خدشات واشنگٹن کو الریاض کے ساتھ سمجھوتا کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ان کی رائے میں ’’ہر چیز کی طرح جب چین مذاکرات میں داخل ہوتا ہے تو امریکا زیادہ توجہ دیتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں