پر امن مزاحمت کی سزا، اسرائیل نے فلسطینی گاؤں کو الگ تھلگ کردیا

تین ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے المغیر گاؤں کی تقریباً مکمل بندش نافذ کر دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رام اللہ کے مشرق میں واقع المغیر گاؤں اپنے مکینوں، یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان میدان جنگ میں تبدیل ہونے کی طرف جانے لگا ہے۔ وادری اردن کے قریب واقع اس گاؤں کے اطراف یہودی بستیوں کی تعمیر پر فریقین میں تصادم مسلسل جاری ہے۔ انتہا پسندوں کو بستیوں میں لا کر بسایا جارہا ہے۔ ان آباد کاروں میں سے کچھ کا تعلق گینگ ’’ ہل بوائز ‘‘ سے ہے۔ یہ گینگ فلسطینیوں پر حملے کرتا اور ان کی جائیدادوں کو ہتھیانے میں ملوث ہے۔

فلسطنی گاؤں ’’المغیر‘‘ روڈ "90" کے قریب واقع ہے۔ اس روڈ کو "ایالون" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وادی اردن اور مغربی کنارے کے دیگر علاقے کو الگ کرتا ہے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے زرعی گلیوں کی تعمیر اور زراعت کے لیے ضروری پانی کے کنویں کھودنے سے روکنے کے بعد آباد کار نے گاؤں کی زمینوں پر نئی بستیاں قائم کرنے کی کوشش کرنا شروع کردی ہیں، آباد کار گاؤں والوں کو جلاوطن کر کے ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ تاہم اہل علاقہ نے آباد کاروں کی ان کوششوں کو پر امن جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا رکھا ہے۔ لیکن حالات کو اس رخ پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گاؤں والے حقیقی اور عملی مزاحمت کا پروگرام شروع کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ یہودی آباد کار گاؤں والوں کو نکالنے کے مطالبے کر رہے ہیں۔ اسرائیلی ارکان پارلیمان نے بھی یہودی آباد کاروں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

تین ہفتوں سے اسرائیلی فوج نے ’’المغیر‘‘ گاؤں پر تقریباً مکمل بندش عائد کر رکھی ہے۔ خاص طور پر دوپہر سے کچھ دیر پہلے گاؤں سے داخلے اور خارجے کو روک دیا گیا ہے۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں جن کی نقل و حرکت میں فوجی چوکیوں کی وجہ سے رکاوٹ ہے۔

گاؤں کی ولیج کونسل کے سربراہ امین ابو علی نے وضاحت کی ہے ’’المغیر‘‘ گاؤں اپنی جغرافیائی مقام کی قیمت ادا کر رہا ہے کیونکہ یہ وادی اردن سے ملا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا دیہاتیوں کی جانب سے اپنی زمینوں کے دفاع نے آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کو ناراض کردیا ہے۔ اسرائیل دیہاتیوں کے خلاف "اجتماعی سزا کی پالیسی" پر عمل پیرا ہوگیا ہے۔ گاؤں کے رہائشیوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔ قابض اسرائیلی فوج لڑکوں اور نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے لیے ہر روز رات کے وقت گاؤں پر دھاوا بولتی ہیں۔ یہ اقدام اس لیے کیا جاتا ہے کہ ان یہودی آباد کاروں نے سڑکوں پر کم سکیورٹی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ آباد کار آئے روز گاؤں والوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن سے وابستہ اینٹی وال اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن کے دستاویزی اور اشاعت کے شعبہ کے ڈائریکٹر امیر داؤد نے کہا کہ ’’المغیر‘‘ کے مکین آباد کاروں کے حملوں کے باوجود پرامن عوامی مزاحمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ان کے خلاف گرفتاریوں کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ اپنے ننگے سینوں کے ساتھ گاؤں اور اس کے آس پاس کی زمینوں پر کئی آباد کار چوکیوں کے قیام کو روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان آباد کاروں کی سرگرمیاں صرف اس گاؤں تک محدود نہیں بلکہ آس پاس کے گاؤں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے المغیر گاؤں کا محاصرہ کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گاؤں میں داخل ہونے اور جانے والی گاڑیوں کا معائنہ کرتی ہے۔ یہ اقدام حالیہ عرصہ میں حملوں میں اضافے کے رد عمل میں کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں