’افریقی سیاہ فام غلام احمد جس نے پائلٹ بن کرخلافت عثمانیہ کا تختہ الٹنے میں مدد کی‘

عثمانی فوج میں بھرتی ہونے والا غلام زاد احمد علی چیلکٹن جس نے غلامی کے سخت دور سےتکالیف اٹھائیں مگر اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز ہوکر اقتدار کے مزے بھی لوٹے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پہلی جنگ عظیم کے دوران بہت سے جدید ہتھیار مارکیٹ میں آئے اور ان کا عملاً استعمال بھی کیا گیا۔ ان میں کیمیائی گیس، فلیمتھرورز اور ٹینکوں کے علاوہ پہلی بار بڑے پیمانے پر ہوائی جہاز بھی استعمال کیے گئے۔ آغاز میں ہوائی جہاز کا کردار بنیادی طور پر جاسوسی مشنوں اور فضائی لڑائیوں تک محدود تھا۔ بہت زیادہ تعداد میں بمبار طیارے بنانے کا رحجان ابھی زور نہیں پکڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی جہازوں کو محدود فضائی بمباری کی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔

خلافت عثمانیہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں ایک اہم عالمی کھلاڑی تھا اور اس کی فوج طویل وعریض علاقوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ چنانچہ تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ کچھ یوں ملتا ہے کہ عثمانی فوج میں ایک افریقی نسل کے پائلٹ کو بھرتی کیا گیا جو خود ایک غلام زاد تھا۔ یہ افریقی اس سے قبل سلطنت عثمانیہ میں صدیوں سے پھیلے ہوئے غلامی اور انسانی اسمگلنگ کے جال میں پھنس چکے تھے۔

عثمانی فوج میں شامل ایک پائلٹ احمد علی چیلیکٹن افریقی نژاد تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نائیجیریا میں رہتے تھے جہاں سے ان کے آباؤ اجداد کو غلام بنا کر عثمانیوں کے ہاتھ بیچا گیا تھا۔

احمد علی چیلیکٹن کی ہوائی جہاز کے ساتھ تصویر
احمد علی چیلیکٹن کی ہوائی جہاز کے ساتھ تصویر

غلام لونڈی بنائے جانے کے بعد احمد علی چیلکٹن کے اجداد کو پہلے مصر میں رکھا گیا۔ اس کے بعد موجودہ ترکیہ کی ازمیر اور کریت ریاستوں میں منتقل کیا گیا۔

احمد علی سنہ 1883ء میں پیدا ہوئے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ایک غلام ابن غلام کل کو دنیا کی سب سے بڑی خلافت کا تختہ الٹنے میں ایک مہرہ ثابت ہوگا۔

اپنے فوجی کیرئیر کے آغاز کے ساتھ ہی 1904ء میں افریقی نسل کے اس نوجوان نے نیول اسکول میں داخلہ لیا، جہاں سے اس نے سنہ 1908ء میں لیفٹیننٹ کے عہدے کے ساتھ گریجویشن کا امتحان پاس کیا۔

 احمد علی چیلیکٹن،  ترک فوج کے اہلکاروں کے ہمراہ
احمد علی چیلیکٹن، ترک فوج کے اہلکاروں کے ہمراہ

بعد ازاں احمد علی چیلیکٹن نے نیول ایوی ایشن اسکول میں تعلیم حاصل کی اور سن سٹیفانو میں سنہ1914ء میں اپنی عسکری تربیت مکمل کی۔ 11 نومبر 1916 کو احمد علی چیلیکٹن ایوی ایشن کے شعبے میں گریجویشن اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد تاریخ میں افریقی نسل کے پہلے پائلٹ بنے۔ بعد ازاں انہیں پہلی جنگ عظیم میں استنبول کے اتحادی برلن بھیجا گیا۔

ان کامیابیوں کی بدولت احمد علی چیلیکٹن نے برلن سے واپسی پر ازمیر میں نیول ایوی ایشن ڈویژن میں ذمہ داری سنھبالنے سے قبل کپتان کا عہدہ حاصل کیا۔ بہت سے مؤرخین کے مطابق نائجیرین نژاد اس نوجوان کو تاریخ کا پہلا سیاہ فام پائلٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس وقت امریکی فوج میں کچھ افریقی نژاد امریکی پائلٹ تھے، لیکن اس وقت ریاستہائے متحدہ امریکا میں نافذ نسلی امتیاز کی پالیسی کی وجہ سے انہیں طیارے اڑانے کی اجازت نہیں تھی۔

مصطفی کمال اتاترک
مصطفی کمال اتاترک

پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی احمد علی چیلیکٹن نے ترکیہ کی آزادی کی تحریک میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت مصطفیٰ کمال اتاترک کرہے تھے۔ پائلٹ احمد علی مصطفیٰ کمال کے دست راست بن گئے اور سلطنت عثمانیہ کا تختہ الٹنے اور اس کے وجود کو ختم کرنے کے لیےترک قوم پرستوں کے ساتھ مل کر جنگ لڑی۔ اس وقت احمد علی چیلیکٹن نے قونیہ ایئر بیس پر تعینات فوجی رجمنٹ کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ وہاں انہیں عثمانیوں کی دکانوں اور اڈوں میں جنگی طیاروں کو لوٹنے کے مشن کے دوران پائلٹوں کی مدد اور رہ نمائی کا کام سونپا گیا تھا۔

ترک فضائیہ کی کمان کے اعزاز کےحصول کے ساتھ احمد علی چیلیکٹن نے استنبول سے اماصرہ کی طرف تقریباً 3 عثمانی طیاروں کی لوٹ مار اور نقل و حمل میں اپنا حصہ ڈالا۔

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سنہ1928ء میں احمد علی چیلیکٹن ایک فضائی مشیر بن گئے اور انہیں مصطفی کمال اتاترک کی طرف سے بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے سنہ1969ء میں اپنی موت سے قبل کئی دہائیاں ترک فضائیہ میں گزاریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں