سی این این نے غلطیوں کے ارتکاب پر سی ای او کرس لیخٹ کو چلتا کیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو مبیّنہ طور پر بعض غلطیوں پرملازمت سے فارغ خطی دے دی گئی ہے۔

کرس لیخٹ کی ملازمت کا برا سال گذشتہ ہفتے ایک میگزین پروفائل کی وجہ سے اختتام پذیر ہوا اور کچھ ہی دنوں بعد ان کی 13 ماہ کی ہنگامہ خیز مدت ختم ہوگئی۔اکاون سالہ لیخٹ کو بدھ کی صبح ان کی برطرفی کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور اس کا اعلان ادارتی عملہ کے روزانہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔اسی جگہ دودن پہلے لیخٹ نے کہا تھا کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے’’جہنم کی طرح لڑیں گے‘‘۔

سی این این کی مادرکمپنی وارنر برادرز ڈسکوری کے سی ای او ڈیوڈ زسلاف نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں نیٹ ورک کی افراتفری کا کچھ الزام قبول کیا اور انھوں نے چار افراد پر مشتمل عبوری قیادت کی ٹیم مقرر کی تھی۔ زسلاف نے سی این این کے عملہ سے لیخٹ کے متبادل کی مکمل تلاش کا وعدہ کیا ہے۔

سی این این کے میڈیا رپورٹر اولیور ڈارسی نےاپنے نیٹ ورک پر کہا:’’یہ واقعی سی این این کے لیے ایک ہنگامہ خیز سال ہے جس میں منافع میں کمی، پروگرامنگ کی غلطیاں اور ملازمین کے حوصلے میں کمی دیکھی گئی ہے‘‘۔

لیخٹ کو خبروں پر توجہ مرکوز کرنے اور سی این این کو ملک کی سیاسی تقسیم کے دونوں اطراف کے لیے زیادہ قابل قبول بنانے کی کوشش کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل حملوں کے بعد ری پبلکنز کے اس نیٹ ورک کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا تھا۔

لیکن نیٹ ورک کے کچھ لوگوں نے اس تبدیلی کو ان کے ماضی کے کام کی تردید کے طور پر دیکھا۔ گذشتہ ماہ ٹرمپ کے ساتھ ایک لائیو ٹاؤن ہال انٹرویو کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ، جس میں سابق صدر کیٹلان کولنز نے متعدد غلط بیانیوں کا اظہار کیا تھا ، جب کہ ٹرمپ کے حامی براہ راست سامعین نے ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

سال کے اوائل میں ، لیخٹ نے نیٹ ورک کے مارننگ شو کو از سر نو تشکیل دیا ، لیکن یہ ناکام ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں طویل عرصے سے مشہور شخصیت ڈان لیمن کو برطرف کردیا گیا۔

ایم ایس این بی سی کے مارننگ نیوز شو 'مارننگ جو'، سی بی ایس کے مارننگ نیوز شو اور اسٹیفن کولبرٹ کے رات دیر گئے کے شو کو پروڈیوس کرنے والے لیخٹ کو ایک سال قبل ہی زسلاف نے اندرونی طور پر مقبول جیف زکر کی جگہ سی ای او مقرر کیا تھا۔زکر کو سی این این کے ایک ساتھی ایگزیکٹو کے ساتھ رضامندی سے تعلقات کا انکشاف نہ کرنے پر برطرف کردیا گیا تھا۔ان کے لیے ایک شو پروڈیوسر سے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی قیادت تک ترقی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔

اٹلانٹک میگزین میں جمعہ کو لیخٹ کی ایک تفصیلی خاکا شائع ہوا تھا۔اس کا عنوان تھا:’’انسائڈ دی میلٹ ڈاؤن ایٹ سی این این‘‘۔یہ تحریر ان کے لیے شرمناک ثابت ہوئی اور ممکنہ طور پر ان کی قسمت پر مہر لگ گئی۔ اس کے مصنف معروف صحافی ٹم البرٹا نے اس بات پر اظہارخیال کیا تھا کہ کس طرح سی این این کی ٹرمپ دشمنی کی وجہ سے ناظرین تک پہنچنے کی لیخٹ کی کوشش ناکام ہوگئی اور سی این این کے صحافیوں کے ساتھ ان کی حیثیت کو نقصان پہنچا‘‘۔

واضح رہے کہ مئی میں سی این این کے پرائم ٹائم ناظرین کی تعداد 494,000 تھی جو اپریل کے مقابلے میں 16 فی صد کم تھی اور اس کے نیوز حریف ایم ایس این بی سی کے نصف سے بھی کم تھی۔ یہ مئی 2022 میں 660،000 کے اوسط سے 25 فی صد کم تھا۔سی این این کا منافع بھی ڈوب رہا ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے مطابق، نیٹ ورک نے 2022 میں 89 کروڑ20 لاکھ ڈالر کا منافع کمایا، جو 2020 میں ایک ارب 80 لاکھ ڈالر سے کم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں