چیٹ جی پی ٹی انسانیت کے لیے خطرہ نہیں ہوگا: منتظم اوپن اے آئی

اوپن اے آئی کو ٹیکنالوجی کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے وقف کیا گیا ہے: سیم آلٹمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دنیا کے سب سے مشہور اور تیزی سے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے پروگرام چیٹ جی پی ٹی کے مالک اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ انسانوں اور مشینوں کے درمیان زیادہ قدرتی اور باہمی بات چیت کو فروغ دے رہا ہے۔

سیم آلٹمین نے الحسین ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران اردن کی کراؤن پرنس فاؤنڈیشن کے اقدامات میں سے ایک کا جائزہ لیا۔ ایک بیان کے مطابق اس ڈائیلاگ سیشن میں مصنوعی ذہانت کی مہارت، تجربات، مستقبل کی خواہشات اور وہ کردار جو مصنوعی ذہانت صنعتوں کو تبدیل کرنے کے لیے ادا کر سکتی ہے کا جائزہ لیا گیا تھا۔

’’ OpenAI ‘‘ کے منتظم نے زور دیا کہ "ChatGPT" کبھی بھی انسانیت کے لیے خطرہ نہیں ہو گا جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل میں نئی ملازمتوں کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا یقیناً انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے وجود میں آنے کے بعد سے یہ بہترین لمحات میں سے ایک ہے۔ آج کوئی بھی کاروباری شخص کمپنی شروع کر سکتا ہے اور ایک پروڈکٹ تیار کر سکتا ہے۔ اوپن اے آئی ٹیکنالوجی کی حدود کو آگے بڑھانے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک دستیاب کرنے کے لیے وقف ہے۔ آج سب کو دنیا کی خاطر ایک قدم اٹھانا چاہیے۔ وہ جس ملک یا خطے کی سرحدوں پر رہتے ہیں انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ دنیا کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سیم آلٹمین نے ٹیسلا اور سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کے ساتھ شراکت میں 2022 میں اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی اور کم عمری میں ہی پروگرامنگ میں دلچسپی کا آغاز کیا اور سٹینفورڈ یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں ٹرانسپورٹیشن کے شعبہ میں اپنی پہلی کمپنی ’’ loopt ‘‘ قائم کی۔ انہوں نے 28 سال کی عمر میں انہیں مشہور بزنس انکیوبیٹر ’’ Y Combinator ‘‘ نے سی ای او کے طور پر منتخب کرلیا۔ انہوں نے ابتدائی مرحلے کی بہت سی کمپنیوں، بشمول Dropbox ، میں سرمایہ کاری کی۔ پھر اپنے آپ کو اوپن اے آئی کی بنیاد رکھنے اور چیٹ جی پی ٹی ایپلیکیشن تیار کرنے کے لیے وقف کر دیا۔

اوپن اے آئی میں لینگویج ٹیکنالوجی ٹیم اور اے آئی ماہرین کے ذریعے تیار کیا گیا چیٹ جی پی ٹی مصنوعی ذہانت کا ایک جدید نمونہ ہے۔ جدید ترین ڈیپ لرننگ الگورتھم سے طاقت پانے والا یہ سسٹم صارفین کے ساتھ فطری اور باہمی بات چیت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔

یہ بنیادی طور پر پہلے سے موجود علم اور سیاق و سباق کو سمجھنے کے ذریعے کام کرتا ہے تاکہ موضوعات کی ایک وسیع رینج میں درست جوابات فراہم کیے جاسکیں۔ چیٹ جی پی ٹی کو انسانوں جیسی بات چیت کی نقل کرنے اور بامعنی بات چیت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں