ابوظہبی میں کورل کی بحالی: سمندری سائنسدان رنگین ریف کی بحال میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ابوظہبی کے قریب ایک جزیرے کے ساحل پر ایک کشتی پہ سوار، سمندری سائنسدان حماد الجیلانی کورل (مرجان ) کو دیکھ رہے ہیں، جنہیں ریف نرسری سے اٹھا کر سمندری پانی کے ایک ڈبے میں پیک کیا جاتا ہے، اور پھر ان کا بغور مطالعہ کیا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ان کا رنگ کھو نہ جائے۔

یہ کورل ریف ایک بار بلیچنگ کے عمل کا شکار ہوچکے ہیں۔ مگر اب وہ بڑے، صحت مند اور اپنی اصلی حالت میں واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔

حماد الجیلانی کورل کا ایک ٹکڑا دکھا رہے ہیں۔
حماد الجیلانی کورل کا ایک ٹکڑا دکھا رہے ہیں۔

الجیلانی ، جو ابوظہبی کے ماحولیات کی ایجنسی کے مرجان کی بحالی کے پروگرام کا حصہ ہیں نے کہا، کہ "ہم انہیں بہت چھوٹے ٹکڑوں سے اگانے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک ان میں سے کچھ میری مٹھی کے سائز تک پہنچ چکے ہیں،"

نرسری میں مرجانوں کو صحت یاب ہونے کے لیے تیز دھاروں، سورج کی روشنی کی صحیح مقدار کے ساتھ صاف پانی جیسے بہترین حالات فراہم کیے جاتے ہیں۔

دبئی میں کورل کی کاشت کے بعد غوطہ خور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
دبئی میں کورل کی کاشت کے بعد غوطہ خور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

الجیلانی وقتاً فوقتاً ان کی نشوونما کی جانچ کرتے ہیں، ممکنہ طور پر نقصان دہ سمندری گھاس کو ہٹاتے ہیں، اور یہاں تک کورل کی صفائی کے لیے مچھلیوں کو بھی یہاں آنے دیا جاتا ہے۔ صحت مند ہونے کے بعد انہیں سمندر میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

انوائرمنٹ ایجنسی ابوظہبی 2021 سے مرجانوں کی بحالی کا کام کر رہی ہے، جب متحدہ عرب امارات کے ساحل پر ریف کو صرف پانچ سالوں میں بلیچنگ کے دوسرے عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

ابو ظبی کے ساحل پر کورل کی نگرانی پر مامور عملہ۔
ابو ظبی کے ساحل پر کورل کی نگرانی پر مامور عملہ۔

یہ منصوبہ ملک بھر میں سرکاری اور نجی سطح پر چٹانوں اور ان پر منحصر سمندری حیات کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے بہت سے اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس سے کچھ درست پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ماہرین گلوبل وارمنگ کے باعث کورل ریف کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

کورل بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور سورج کی چمک الجی کو باہر نکال دیتی ہے جو کورل میں رنگت کا باعث ہوتی ہے۔ کورل بلیچنگ کے عمل کے بعد زندہ رہ سکتے ہیں، لیکن سمندری زندگی کو مؤثر طریقے سے سہارا نہیں دے سکتے، ان پر انحصار کرنے والی آبادیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

ابوظہبی انوائرمنٹ ایجنسی کے مطابق، 2017 میں جب پانی کا درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسیس (99 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا تھا، خاص طور پر ابوظہبی کے آس پاس، تو متحدہ عرب امارات میں کورل کا 70 فیصد تک ضائع ہوگیا تھا۔

لیکن الجیلانی نے کہا کہ 40-50 فیصد مرجان 2021 میں دوسرے بلیچنگ عمل سے بچ گئے تھے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ یہ مرجان درحقیقت اس قسم کے حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں بلیچنگ کے واقعات کثرت سے رونما ہو رہے ہیں کیونکہ انسانی ساختہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پانی گرم ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کورل ریف نظاموں کو بڑے پیمانے پر بلیچنگ کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر آسٹریلیا کی گریٹ بیریئر ریف۔

ترقیاتی کمپنی یو آر بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2040 تک دبئی کے ساحلوں کی 80 کلومیٹر (50 میل) پٹی پر 200 مربع کلومیٹر (124 مربع میل) کے رقبے پر 1 بلین مصنوعی مرجان اور 100 ملین مینگروو کے درخت اگانا چاہتی ہے۔

دبئی کی ڈائیونگ کمیونٹی بھی مرجان کے تحفظ کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ڈائیونگ کورس کے ڈائریکٹر عمرو انور ایک مصدقہ ریف بحالی کورس بنانے کے عمل میں ہیں جو غوطہ خوروں کو سکھاتا ہے کہ غوطہ خوروں کے پنکھوں یا کشتی کے لنگر سے ٹکرا کر گرنے والے کورل کو کیسے جمع کرنا اور دوبارہ لگانا ہے۔

ابو ظبی کے ساحل پر اگنے والے کورل کا ایک نمونہ
ابو ظبی کے ساحل پر اگنے والے کورل کا ایک نمونہ

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندروں کے زیادہ گرم ہونے کے خطرے پر توجہ نہیں دی جاتی، مرجان بلیچنگ کے واقعات ہوتے رہیں گے، جس سے دنیا بھر میں چٹانوں کو نقصان پہنچے گا۔

ممالک نے صنعتی دور کے بعد عالمی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس (2.7 ڈگری فارن ہائیٹ) تک محدود کرنے کا عہد کیا ہے، جس کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرہ ارض پر گرمی کے اثرات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں، اور کچھ ممکنہ طور پر ناقابل واپسی بھی ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں