سعودی ویژن 2030

چار سعودی فٹ بال کلب پی آئی ایف کی ملکیت میں؛ کھیلوں میں کیا انقلاب برپا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار بڑے سعودی فٹ بال کلبوں کے بڑے حصص حاصل کرے گا۔یہ اقدام مملکت میں کھیلوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

سعودی عرب کا سرکاری 600ارب ڈالر مالیت کا فنڈ نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کا بھی مالک ہے۔اس نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے شروع کردہ منصوبے کے حصے کے طور پر الاہلی، الہلال، الاتحاد اور النصرکلبوں کے 75 فی صد حصص حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔النصر کلب کے لیے مشہور فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کھیلتے ہیں اور الاتحاد نے حال ہی میں مشہور کھلاڑی کریم بینزیما کے ساتھ معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

ان چاروں کلبوں کی این جی اوز باقی 25 فی صد حصص کی مالک ہوں گی۔سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق ،’’کلبوں کی نج کاری اور ملکیت کی منتقلی کا مقصد مملکت بھر میں مختلف کھیلوں میں پیش رفت کو تیز کرنا ، شرکت میں مزید اضافہ ، جدید سہولیات کی فراہمی ، مسابقت میں اضافہ اور مستقبل کے چیمپیئنز کی پرورش کرنا ہے‘‘۔

پی آئی ایف کے مطابق چار کلبوں کی منتقلی سے کھیلوں میں سرمایہ کاری، شراکت داری اور اسپانسرشپ سمیت مختلف تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔

ترقی کے مواقع

اسپورٹس مارکیٹنگ کے ماہر اور مصنف خالد الربیان کے مطابق اس اقدام سے سعودی عرب کے اندرون ملک اور بین الاقوامی کھیلوں کے منظرنامے پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔العربیہ سے بات کرتے ہوئے البیان کا کہنا تھا کہ اس کے اثرات بہت زیادہ ہوں گے، چاہے وہ ملکی سطح پر ہوں یا بین الاقوامی سطح پر۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے بڑا اندرونی اثر سعودی نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا کرنا ہوگا۔ صرف پہلے دو سال میں 30،000 سے 40،000 ملازمتیں پیدا ہوں گی ، جو نوجوانوں اور ان کے روزگار کے لیے مملکت کی مسلسل سرمایہ کاری اور حمایت کا ایک بڑا اشارہ ہے۔

کھیلوں کے شعبے میں نجی شراکت داری اور تعاون کو بڑھانا بھی ولی عہد کے اسپورٹس کلبوں کی نج کاری کی اجازت دینے کے فیصلے کا ایک اہم نتیجہ ہے۔معیشت کو متنوع بنانے کے لیے ویژن 2030 اصلاحاتی منصوبے کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب غیرتیل کے شعبوں میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

اسپورٹس مارکیٹنگ اسپیشلسٹ نے کہا کہ ’’تازہ ترین منصوبہ یقینی طور پر حکومت پر’’بوجھ کم‘‘ کرے گا کیونکہ ذمہ داری نجی کمپنیوں کو منتقل ہوجائے گی۔اس اقدام سے مملکت میں اسپورٹس کلبوں کے نظم ونسق کو بہتر بنایا جائے گا، جس سے وہ زیادہ پیشہ ورانہ اور پائیدار بن جائیں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی پرو لیگ اب یورپی کلبوں کی طرح اپنے پیشہ ورانہ دور میں مضبوطی سے داخل ہوگئی ہے۔ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں کلبوں کی کوئی حد نہیں ہے۔یہ منصوبہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان مسابقتی ماحول پیدا کرے گا۔

دوسرے کلبوں کی کمپنیوں کو منتقلی

مزید برآں، چار دیگر کلبوں کو کمپنیوں کے حوالے کردیا گیا ہے اور ان کی ملکیت ترقیاتی ایجنسیوں کو منتقل کر دی گئی ہے۔

القدسیہ کلب کی ملکیت سعودی آرامکو، درعیہ کلب کی ملکیت ڈی جی ڈی اے، العلاء کلب کی شاہی کمیشن برائے العلاء (آر سی یو) اورالصقور کلب کی ملکیت نیوم کو منتقل کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، آٹھ کلب کمپنیوں میں سے ہر ایک کے لیے سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا گیا تھا اوران کی ملکیت بھی ان کمپنیوں کو منتقل کردی گئی ہے تاکہ وہ ان کے لیے پائیدار منافع حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکے۔

اس منصوبے کے تین تزویراتی مقاصد ہیں: سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا اور سعودی عرب کے کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کو پُرکشش بنانا۔ مملکت میں اسپورٹس کلبوں کے نظم ونسق کو بہتر بنانا اورانھیں زیادہ پیشہ ورانہ اور پائیدار بنانا۔
اور کلبوں کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے ان کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا۔

سعودی عرب میں فٹ بال کا فروغ

سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے فٹ بال کلبوں کی ملکیت ایسے وقت میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جب سعودی پہلے سے کہیں زیادہ کھیلوں میں دل چسپی لے رہے ہیں اور مختلف کھیل کھیل رہے ہیں۔

ایس پی اے کے مطابق کھیلوں میں مردوں اور خواتین دونوں کی بڑے پیمانے پر شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2015 میں یہ شرح 13 فی صد تھی جو بڑھ کر 2022 میں 50 فی صد کے قریب ہوگئی۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں کھیلوں کی فیڈریشنوں کی تعداد 2015 میں 32 سے بڑھ کر 2022 میں 95 سے زیادہ ہو گئی ہے اور یہ اضافہ سرمایہ کاری کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی 80 فی صد سے زیادہ آبادی یا تو فٹ بال کھیلتی ہے، اس کے میچوں میں بہ نفس نفیس شرکت کرتی ہے یا اس کے مقابلوں کو دیکھنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتی ہے۔اس منصوبے نے سعودی پرو لیگ کو مرکزی حیثیت دی ہے۔اس میں 40 سے زیادہ ممالک کے کھلاڑی شریک ہوتے ہیں اور گذشتہ سال کے دوران میں اس میں قریباً 150 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سعودی پرو لیگ کی تجارتی آمدنی 2022 میں 45 کروڑریال (119.9 ملین ڈالر) تھی۔ توقع ہے کہ یہ آیندہ برسوں میں بڑھ کر نئے منصوبے کے تحت سالانہ 1.8 ارب ریال سے زیادہ ہوجائے گی جبکہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور 2030 تک اس کی مارکیٹ قدر تین ارب ریال سے بڑھ کر 8 ارب ریال سے زیادہ ہوجائے گی۔

نئے منصوبے کے تحت سعودی پرو لیگ کو دنیا کی دس سرفہرست لیگوں میں شامل کرنے کے عزائم میں بہت مدد ملے گی۔

الربیان کے مطابق، کرسٹیانو رونالڈو اور کریم بینزیما جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کی مظہر ہے کہ انھیں سعودی پرو لیگ کی اہم صلاحیتوں کو تسلیم کرنے میں کوئی عارنہیں ہے۔سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز کے ساتھ ، مشہور فٹ بال کھلاڑی اپنے پلیٹ فارم کو یہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کہ یہ لیگ کتنی پیشہ ورانہ اور مسابقتی ہوسکتی ہے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے الربیان نے مزید کہا کہ گذشتہ تین ،چار سال میں ولی عہد کی وجہ سے ہم نے سیاست میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ہم نے معیشت کے شعبے کے علاوہ سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اب کھیلوں میں مہارت حاصل کرنے کا وقت ہے۔ ان کے بہ قول عرب میں کھیلوں کے شعبے کے بارے میں دنیا کا نقطہ نظر تبدیل ہو جائے گا۔

النصر کے اسٹار کھلاڑی کرسٹیانا رونالڈو کا بھی یہ ماننا ہے کہ اگر اس شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری جاری رہتی ہے تو لیگ اگلے چند سال میں دنیا کی پانچ بہترین لیگوں میں شمار ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

’’مجھے لگتا ہے کہ لیگ بہت اچھی اورمسابقتی ہے، ہمارے پاس اب بھی ترقی کرنے کے بہت سے مواقع ہیں ۔ہمارے پاس بہت اچھی ٹیمیں ہیں۔ ہمارے پاس بہت اچھے عرب کھلاڑی ہیں‘‘۔ رونالڈو نے رواں ماہ کے اوائل میں روشن سعودی لیگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا تھا کہ ’’میرے خیال میں انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔میری رائے میں اگر وہ کام جاری رکھتے ہیں جو وہ اگلے پانچ سال تک کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں سعودی لیگ دنیا کی پانچویں بڑی (ٹاپ) لیگ بن سکتی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں