کیا انرجی ڈرنکس میں پایا جانے والا ایک مادہ زندگی بڑھاتا ہے؟ نئی تحقیق آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس کے متعدد نقصانات کے بارے میں بات کرنے کے باوجود سائنسدانوں نے جانوروں پر تجربات کرنے کے بعد انرجی ڈرنکس کے ایک بہت بڑے فائدے کا انکشاف کردیا ہے۔ انرجی ڈرنکس میں ایک امائینو ایسڈ ہوتا ہے جو بڑھاپے کو کم کرتا ہے اور نوجوانوں کی شرح کو بڑھاتا ہے۔

ان نتائج نے سائنسدانوں کو ٹورائن (Taurine) کا ایک بڑا کلینیکل ٹرائل کرنے کی ترغیب دی جو بہت سے انرجی ڈرنکس میں پایا جاتا ہے۔ جب جانوروں میں اس کا مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ سپلیمنٹس عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں اور صحت مند زندگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ ’’گارڈین‘‘ کے مطابق محققین نے تلاش کیا ہے کہ ٹورائن کی سطح عمر کے ساتھ ڈرامائی طور پر کم ہوتی ہے لیکن ٹورائن کی بڑھتی ہوئی سطح چوہوں اور بندروں کی صحت کو بڑھاتی ہے اور یہاں تک کہ چوہوں کی عمر بھی بڑھا دیتی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کیا اس تیزاب سے انسانوں کو بھی اسی طرح فائدہ ہوگا۔ یا اس کی زیادہ مقدار میں خوراک محفوظ ہیں لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ بڑے پیمانے پر تجربہ کیا جاسکے۔ خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ "ٹورائن" پہلے ہی جسم میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اسے کم مقدار میں خوراکوں میں بطور ضمیمہ استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر وجے یادیو نے کہا کہ ٹورائن کی کثرت عمر کے ساتھ تضاد رکھتی ہے۔ ٹورائن کی کمی کو تبدیل کرنے سے جانور طویل اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ بالآخر یہ نتائج انسانوں سے متعلق بھی ہونے چاہئیں۔

ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ میں ٹیم کے مالیکیولر ایکسرسائز فزیالوجسٹ پروفیسر ہیننگ ویکر ہاگ نے وضاحت کی کہ یہ تجربہ اس بات کا موازنہ کرے گا کہ روزانہ "ٹورائن" یا اس کاسپلیمنٹس لینے کے بعد لوگوں نے کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ جاننا شاید بہت مشکل ہے کہ آیا ٹورائن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں یا نہیں، لیکن کم از کم ہم یہ جانچ سکتے ہیں کہ آیا وہ زیادہ دیر تک صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔

انرجی ڈرنکس
انرجی ڈرنکس

ٹیم نے درمیانی عمر کے چوہوں پر اضافی "ٹورائن" کے اثر کی جانچ کی کیوں کہ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ صحت مند دکھائی دیتے ہیں، ان کی ہڈیاں مضبوط ہیں، عضلات مضبوط ہیں، یادداشت بہتر ہے اور ان میں زیادہ جوانی کا مدافعتی نظام ہے۔

صحت کو بہتر بنانے کے علاوہ ٹورائن کھلائے جانے والے چوہوں کی عمر میں بھی اضافہ ہوا۔ مذکر چوہوں میں 10 فیصد اور موئنث چوہیوں میں 12 فیصد زیادہ عمر دیکھی گئی۔ چوہوں کی عمر میں تین سے چار ماہ اضافہ ہوا۔ اسے انسانی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عمر آٹھ سے نو سال بنتی ہے۔ انسانوں کے لیے مساوی خوراک تین سے چھ گرام یومیہ ہوسکتی ہے۔

سائنسدانوں نے پھر تجربہ کیا کہ ٹورائن کی چھ ماہ کی خورااکوں کے بعد انسانوں کے حیاتیاتی طور پر قریب جانور مکاکوں میں وزن بڑھنا کم ہوا۔ ان کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہوئی، ان کی ہڈیوں کی کثافت بہتر ہوگئی اور ان مدافعتی نظام بھی بہتر ہوگیا۔

تاہم ٹورائن سپلیمنٹس کے نفع یا نقصان کو ثابت کرنے کے لیے بڑے ٹرائل کی ضرورت ہے۔ ایسے بڑے ٹرائل کے بغیر سائنسدان لوگوں کو گولیوں، انرجی ڈرنکس یا غذائی تبدیلیوں کے ذریعے ان کی مقدار بڑھانے کا مشورہ نہیں دے رہے ہیں۔

ٹورائن قدرتی طور پر جسم میں بنتی ہے اور یہ گوشت اور شیلفش کھانوں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن صحت مند غذا زیادہ تر پودوں پر مبنی ہوتی ہے۔

اگرچہ کچھ انرجی ڈرنکس ٹورائن پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انرجی ڈرنکس میں دیگر مادے بھی ہوتے ہیں جو زیادہ مقدار میں لینے پر محفوظ نہیں ہوتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں