جَل پری اس مرتبہ ایک حقیقی عورت کے روپ میں دوبارہ زندہ ہوگئی

پرکشش مقامات کی کثرت کے باوجود نئی "ڈزنی" فلم کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اس سال ’’ دا لٹل مرمیڈ‘‘ 1989 میں اپنی تخلیق کے بعد 34 سال کی ہوگئی ہے۔ ڈزنی کی بنائی گئی اب تک کی سب سے مشہور اینی میٹڈ فلموں میں سے ایک کا ریمیک سامنے آگیا ہے۔ گویا دی لٹل مرمیڈ نام کے فلم کی جَل پری اس مرتبہ ایک حقیقی عورت کے روپ دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔

اس مرتبہ "Ariel" ایک حقیقت پسندانہ ورژن میں واپس آئی ہے۔ اس مرتبہ یہ ابھرتی ہوئی امریکی اداکارہ اور گلوکارہ 23 سالہ ہیلی بیلی کی شکل میں ہے۔ اس کے ساتھ معروف اداکاروں کے ایک گروپ ہے۔ جن میں جیویور بارڈیم بطور کنگ ٹرائٹن موجود ہیں۔ میلیسا میکارتھی نے ’’ ارسولہ‘‘ کی ایک بری ڈائن کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم میں کیکڑا "سیبسٹین"، مچھلی "فلاؤنڈر" اور پرندہ "سکاٹل" بھی متحرک ہیں۔

اینیمیٹڈ فلم کا ایک منظر
اینیمیٹڈ فلم کا ایک منظر

نئے حقیقت پسندانہ ورژن کا "The Little Mermaid" کے اصل متحرک ورژن سے موازنہ کرنا غیر منصفانہ ہو سکتا ہے۔ وہ فلم حرکت پذیری کی دنیا میں ایک ایسا رجحان تھا جو تاریخ میں نیچے جا رہا تھا۔ اس وقت اس فلم نے 80 کی دہائی کے آخر میں ڈزنی کو ایک انتہائی ضروری نشاۃ ثانیہ دیا تھا۔ اب 2023 میں ڈائریکٹر روب مارشل نے نئے ورژن میں جدید ٹیکنالوجی کو ڈینش مصنف ہنس کرسچن اینڈرسن کی کہانی کی روح کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

یہ ایک ایسی نسل کے لیے عجیب لگ سکتا ہے جو "ایریل" اور اس کے ساتھیوں کو پہلے سے جانتی تھی۔ وہ نسل اب انہیں پانی کے نیچے حرکت کرتے ہوئے حقیقی انسانوں کے طور پر دیکھیں گے۔ انہیں ایسا محسوس ہوگا جیسے پردہ سکرین ایک "ایکویریم" ہے۔ کمپیوٹر سے تیار کردہ اثرات اور تصاویر کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس فلم کے اصل ورژن کو دیکھنے والوں کی پرانی یادیں ضرور متاثر ہو جائیں گی۔ تاہم نئی نسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہانی کو دریافت کریں اور اس کی ہیروئین کو ایک جدید فریم ورک میں جان لیں۔

اس فلم میں گہرے سمندر کے مناظر اکثر اتنے تاریک ہیں کہ دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس لمحے کا جادو ختم ہو جاتا ہے۔ شاید پروڈیوسرز نے اس بات کو ذہن میں نہیں رکھا کہ ہر وہ سکرین جس پر فلم دکھائی جائے گی اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی سے لیس نہیں ہوگی۔ فلم کے پرانے ورژن کا دورانیہ ایک گھنٹہ اور 20 منٹ تھا لیکن اس مرتبہ مبالغہ آمیز حد تک اسے بڑھا کر دو گھنٹے 15 منٹ کردیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں کچھ پلگ ان بیکار اور طویل لگ رہے ہیں۔

بہر حال یہ فلم اینیمیٹڈ کلاسیک کو حقیقی زندگی کے ورژن میں منتقل کرنے میں ڈزنی کی سابقہ ناکامیوں کی کمی کو پورا کرتا دکھائی دے رہی ہے۔ یہ کمیاں ہمیں "دی لائن کنگ" اور "بیوٹی اینڈ دی بیسٹ" میں دیکھنے کو ملی تھیں۔ فلم میں کچھ خامیوں کے باوجود کہانی کے جادو، کرداروں کی کشش اور خوبصورت تصویر کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھی گئی ہے۔

اس مرتبہ فلم میں متجسس جَل پری "ایریل" کی صرف کہانی ہی توجہ مبذول کرانے کے لیے کافی ہے۔

فلم میں موسیقی کا ایک بڑا حصہ شامل کیا گیا ہے۔ اس میں گانے شامل ہیں۔ گانوں کے علاوہ بیلی بیلی کی اداکاری بھی ناقدین اور ناظرین دونوں کو حیران کر رہی ہے۔ وہ اپنے لمبے سرخ بالوں کے ساتھ سیاہ جَل پری کے کردار کے لائق ہے۔

کشش کے عناصر میں وہ بامعنی پیغامات بھی شامل ہیں جنہیں فلم پیش کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ان پیغامات میں انسانی فضلے سے سمندری آلودگی کے بحران کو طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

تاہم اس مرتبہ نہ تو ڈزنی اور نہ ہی ہیلی بیلی کو نسل پرستی کے طعنوں اور تیروں سے بچایا گیا۔ جیسے ہی سیاہ فام اداکارہ کو نئی ’’ایریل‘‘ کے لیے منتخب کرنے کی خبر پھیلی سوشل میڈیا پر ’’یہ ایریل نہیں ہے‘‘ کے نعرے کے تحت ایک شدید جوابی مہم شروع ہو گئی۔

اسی نسل پرستی کا شاخسانہ تھا کہ ریٹنگ سائٹس پر مثبت جائزوں میں کمی آگئی۔ اس کے ساتھ آمدنی میں بھی کمی آئی۔ معلوم ہوا کہ فلم کو منفی ریٹنگ دینے کے لیے الیکٹرانک فوجوں کو خصوصی طور پر بھرتی کیا گیا تھا جس سے مشہور IMDB سائٹ کو اپنے ریٹنگ سسٹم کو ایڈجسٹ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں