برائےفروخت پھلوں اور سبزیوں پر لگے اسٹیکرز کس بات کی نشاندہی کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر پوسٹس پھیلائی جا رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جن پھلوں اور سبزیوں پر نمبروں والے اسٹیکرز لگے ہیں وہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پھل ہیں۔

تاہم یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ وہ نمبر جو بنیادی طور پر سامان کی ٹریکنگ اور اسٹاک کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، بعض صورتوں میں اس بات کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ پھل نامیاتی ہیں۔

پھل فروشی اور ان پراسٹیکرچسپاں کرنے والے ماہرین نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کوبتایا کہ کوئی مخصوص اسٹیکرنہیں جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آیا پھل جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے ہیں یا نہیں۔

نمبر "3108" کا مطلب کیا ہے؟

تفصیلات کے مطابق جن اسٹیکرز پر "3108" نمبر درج ہیں ان کے ساتھ مالٹے کی کی تصویر شامل ہے۔ انہوں دعویٰ کیا کہ ان نمبروں میں ایسے اشارے ہیں جو صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اسٹیکرز کے مطابق "اگر نمبر 4 ہندسوں پر مشتمل ہے اور 3 یا 4 سے شروع ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس پھل پر کیڑے مار دوا کا اسپرے کیا گیا ہے۔ اگر ہندسوں کی تعداد 5 ہے اور پہلا نمبر 9 ہے تو یہ اشارہ کرتا ہے کہ یہ پھل یا سبزیاں نامیاتی ہیں۔

لیکن اگرنمبر 8 سے شروع ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہےبعض اسٹیکرز کے مطابق یہ پھل "جینیاتی طور پر تبدیل شدہ" ہیں، جو ان کے خطرے کی وارننگ دیتے ہیں۔

بعض اسٹیکرز عربی اور فرانسیسی زبان میں انٹرنیٹ پر وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں اور برسوں سے زیر گردش ہیں۔ ان پر بہت زیادہ رد عمل بھی آچکا ہے۔

حوالہ نمبر

انٹرنیٹ پر سرچنگ سے پتہ چلتا ہے کہ ان اسٹیکرز پر موجود علامتوں کو "پرائس لک اپ" کوڈز یا ‘PLU’ کوڈز کہا جاتا ہے۔

فرنچ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل پروفیشنل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ علامتیں بہت سے ممالک میں مصنوعات کی نشاندہی کرنے، اسٹاک کو اپ ڈیٹ کرنے اور اسٹورز میں ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔

ان نمبروں کے کام کے بارے میں اس نے بتایا کہ "PLU کوڈز قسطوں پر اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیاں فروخت کرتے وقت طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کا استعمال پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ گری دار میوے اور جڑی بوٹیوں کی شناخت کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ PLU کوڈ پھلوں اور سبزیوں سے منسلک ایک چھوٹے اسٹیکر پر پرنٹ کیا جاتا ہے اور اس میں 4 یا 5 نمبر ہوتے ہیں۔

قسطوں کے تاجروں کی آسانی کے لیے

مخصوص کوڈز جاری کرنے والی انٹرنیشنل فیڈریشن آف پروڈکشن اسٹینڈرڈز (IFPS) کی مصنوعات کی شناختی کمیٹی کے سربراہ جین پراکٹر نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "PLU سسٹم کو ادائیگی کے دوران قسطوں میں چیزیں فروخت کرنے والے تاجروں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ بڑی مقدار میں فروخت ہونے والی مصنوعات کی پیکنگ کے بغیر ان کی صحیح شناخت اور صارفین کے لیے ان کی صحیح قیمت کی ادائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی حوالہ یا اسکیننگ سسٹم کے کیشئرز یہ جاننے سے قاصر ہوں گے کہ ان کے سامنے کس قسم کی پروڈکٹ ہے۔ آیا وہ نامیاتی ہے یا غیر نامیاتی ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف پروڈکشن اسٹینڈرڈز کی ویب سائٹ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یونین نے یہ نمبر بنائے اور ان میں سے ہر ایک کو 3000، 4000، 83000 اور 84000 نمبروں کی سیریز مختلف پھلوں یا سبزیوں کے لیے مختص کیا۔

مثال کے طور پرعام تصویر مالٹے کی تصویر پر"3108" چسپاں علامت PLU کوڈز کی عالمی اور علاقائی فہرست کے صفحہ 10 پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس نمبر سے ایک درمیانے سائز کا والینسیا کینو مراد ہے۔

قیمت کے کوڈز سے شروع ہونے والے نمبروں کی کیا اہمیت ہے؟

یہ درست ہے کہ نمبر 9 اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پھل نامیاتی ہیں لیکن پھر یہ جان بوجھ کر قاری کو گمراہ کرتا ہے جب وہ غیر نامیاتی پھلوں یا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پھلوں کے بارے میں بات کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے کوئی خاص علامت نہیں ہے۔

3000 اور 4000 سیریز کے 4 ہندسوں کے کوڈ کا مطلب یہ ہے کہ پھل یا سبزی "روایتی" طریقہ کے مطابق تیار کی گئی تھی۔ بین الاقوامی فیڈریشن فار پروڈکشن اسٹینڈرڈز نے اپنی ویب سائٹ پر اسی طرف اشارہ کیا ہے یعنی اس کی پیداوار میں کیڑے مار ادویات اور کھادیں استعمال کی گئیں تھیں۔

اسی بات کی تصدیق فرانسیسی فروٹ اینڈ ویجیٹیبل پروفیشنل ایسوسی ایشن نے اے ایف پی کو کرتے ہوئے بتایا کہ "4 ہندسوں کی سیریز روایتی طریقوں سے اگائے جانے والے پھلوں اور سبزیوں کی شناخت کرتی ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں جو افواہیں پھیلی ہوئی ہیں وہ مبالغہ آرائی پرمبنی ہیں کہ جوعلامتیں 3 یا 4 سے شروع ہوتی ہیں ان کی مصنوعات کو "اسپرے" کیا گیا ہے۔ نقصان دہ کیڑے مار ادویات ادویات استعمال کی گئی ہیں۔

جہاں تک نامیاتی مصنوعات کا تعلق ہے نمبر 9 کوڈ کے شروع میں 5 ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کوڈ 4011 روایتی طریقوں سے اگائے جانے والے کیلے کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ کوڈ 94011 سے مراد نامیاتی کیلا ہے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹوں کی طرف سے جو کچھ فروغ دیا جاتا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ نمبر 8 سے شروع ہونے والی علامت اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ پھل جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے ہیں۔

تصویر 8 حوالہ کی علامتوں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے

فروخت کے لیے دستیاب تازہ پیداوار کی تعداد میں اضافے کے ساتھ پیشہ ور افراد کو ان حوالہ جات کے لیے مزید نئے ہندسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے ایک بار جب 3000 اور 4000 سیریز میں 4 ہندسوں کے تصادفی طور پر تفویض کردہ کوڈز ختم ہو گئے تو ہندسہ 8 شامل کر دیا گیا اور نیا حوالہ نمبر 83000 اور 84000 سیریز میں رکھے گئے تھے۔

جین پراکٹر نے کہا کہ "کچھ موقع پر حوالہ کوڈز میں نمبر 8 شامل کرنے کے بارے میں سوچا گیا تھا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ یہ پروڈکٹ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پھل یا سبزی ہے۔

درحقیقت 2018 میں انٹرنیشنل فیڈریشن فار پروڈکشن اسٹینڈرڈز نے ایک پریس ریلیز میں توجہ دلائی تھی کہ 8 ہندسوں والے کوڈز(83000-84999) ماضی میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات کے لیے مختص تھے لیکن اسے خوردہ فروخت میں کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں