نیل یا ایمازون، دنیا کا سب سے طویل دریا کونسا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گنیز ورلڈ ریکارڈز، برٹانیکا اور امریکی حکومت اس بات پر متفق ہیں کہ نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔ دریائے نیل کو افریقی دریاؤں کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ عرصہ میں پرتگالی تعلیمی ویب گاہوں پر ایک مختلف رائے گردش کر رہی ہے۔ اس رائے کے مطابق برازیل میں دریائے ایمازون جو جنوبی امریکہ سے گزرتا ہے دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔

یہ بحث سائنسی برادری میں بھی ہو رہی ہے۔ ہر ماہر دستیاب معلومات، سائنسی حقائق اور دستیاب آلات کی بنیاد پر اپنی رائے پیش کر رہا ہے۔ کیا یہ طے کرنا ممکن ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا دریا زیادہ لمبا ہے؟

ایمازون
ایمازون

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس کا جواب دینے کے لیے ایک انگلش کینیڈن مہم جو کرسٹوفر اونڈاٹجے نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نیل یقینی طور پر ایمازون سے لمبا ہے۔

دوسری طرف برازیل کے جغرافیہ و شماریات کے ادارہ میں زمینی سائنس کے سابق ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایمازون دریائے نیل سے لمبا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

یو ایس جی ایس اور برٹانیکا کے مطابق ان دونوں دریاؤں کی لمبائی میں فرق صرف 132 میل کا ہے۔ دریائے نیل 4 ہزار 132 میل یعنی 6 ہزار 649.8 کلو میٹر طویل ہے۔ دوسری طرف دریائے ایمازون کی لمبائی پورے 4 ہزار میل یعنی 6 ہزار 437.376 کلومیٹر ہے۔ اس طرح ایمازون کے مقابلے میں نیل 212.424 کلو میٹر زیادہ لمبا ہے۔

اس جھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش میں بین الاقوامی محققین اور مہم جوؤں کی ایک ٹیم اب دریائے ایمازون کے ساتھ ایک سفر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر ان کا یہ مشن ممکن نہیں ہو سکے گا۔

دریائے نیل
دریائے نیل

اگلے سات مہینوں میں اراکین بہت سے خطرات کے باوجود دریا کے بحر اوقیانوس تک پہنچنے تک اس کے پورے راستے کو چارٹ اور پیمائش کریں گے۔ پھر اگر سب کچھ آسانی سے چلتا ہے تو دریائے نیل کے نیچے کا سفر اگلا ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کون سے دریا لمبے ہیں اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے۔ دریا اپنی دیگر جغرافیائی خصوصیات کے حوالے سے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان خصوصیات کی تشریحات مختلف ہوتی ہیں۔ دریا کہاں ختم ہوتا اور اور کہاں سے نکلتا ہے صرف اسی چیز کا تعین کرکے لمبائی کا حساب نہیں لگایا جاتا۔ پیمائش میں کوئی انحراف یا دریا کے دھارے میں کوئی تبدیلی مختلف طوالت کا باعث بن سکتی ہے۔

1846 میں ’’اٹلس آف یوز فل نالج میپس‘‘ کے مطابق ایمازو دنیا کا سب سے لمبا دریا تھا۔ اس کے مطابق ایمازون 3200 میل اور نیل 2750 میل طویل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں