دبئی کا سب سے مہنگا گھر 204 ملین ڈالر میں فروخت کے لیے پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی میں قدیم ویرسائی محل سے مشابہ ایک منشن 750 ملین درہم (204 ملین ڈالر) میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسے شہر میں سب سے بیش قیمت گھر ہے جہاں لگژری پراپرٹی عام ہے۔

ایمریٹس ہلز میں یہ پراپرٹی 60,000 مربع فٹ جگہ پر محیط ہے حالانکہ اس میں صرف پانچ بیڈروم ہیں۔

4,000 مربع فٹ پر محیط، بنیادی بیڈروم زیادہ تر گھروں سے بڑا ہے۔ گراؤنڈ فلور پر کھانے اور تفریح کے لیے کمرے ہیں۔

دیگر سہولیات میں 15 کاروں کے لیے گیراج، انڈور اور آؤٹ ڈور پول، ایک 70,000 لیٹر (15,400-گیلن) کورل ریف ایکویریم، ایک پاور سب اسٹیشن شامل ہیں۔

یہ مکان 70,000 مربع فٹ کی ایک محفوظ کمیونٹی میں گولف کورس کے سامنے واقع ہے۔

یہ پراپرٹی جسے ایجنٹوں نے "ماربل پیلس" کے نام سے موسوم کیا ہے، اندازاً 80 ملین سے 100 ملین درہم کے اطالوی پتھر کے استعمال سے بنایا گیا ہے۔

اس کی تعمیر میں تقریباً 12 سال لگے اور 2018 میں مکمل ہوا۔

بروکریج کا کہنا ہے کہ مکان میں سونے کے پتوں کی 700,000 شیٹس لگائی گئی ہیں جن پر 70 ہنر مند کارکن نو ماہ سے زیادہ محنت کر تے رہے۔

گھر کو فی الحال مالک ، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ، کے ذاتی آرٹ کلیکشن سے تقریباً 400 نمونوں سے سجایا گیا ہے۔
یہ بنیادی طور پر 19ویں صدی اور 20ویں صدی کے مجسمے اور پینٹنگز ہیں۔

مالک خریداری میں ان نمونوں اور فرنشننگ کو شامل کرنے کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بروکر کنال سنگھ کہتے ہیں، "یہ ہر کسی کا ذائقہ یا انداز نہیں ہوتا ہے۔

دبئی پراپرٹی مارکیٹ 2020 کے آخر سے کامیابی کی طرف گامزن ہے، یہ ایک بڑی ترقی ہے جو کووڈ 19 وبا کے دوران دیگر عالمی املاک کے عروج کے مقابلے میں زیادہ دیر تک چلی ہے۔

تقریبا چھ سال کی مارکیٹ میں کمی کے بعد بحالی جزوی طور پر ایک اصلاح ہے۔

دبئی کی وبا سے نمٹنے کی استعداد نے شہر کو دوبارہ تیزی سے بحالی کے قابل بنایا اور سنگاپور یا ہانگ کانگ جیسی جگہوں سے منتقل ہونے والے بینکاروں کو راغب کیا۔

دنیا کے امیروں نے غیر یقینی عالمی معیشت میں اپنا پیسہ بچانے کے لیے یہاں جائیدادیں خریدیں اور یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مالدار روسیوں کی آمد نے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔

کئی حالیہ بڑے سودوں میں بیچ فرنٹ پر ایک خالی پلاٹ کی 125 ملین درہم میں فروخت اور خلیج عرب کی طرف ایک پینٹ ہاؤس کی 420 ملین درہم میں خریداری شامل ہے۔ پھر بھی، ماربل پیلس کی فی مربع فٹ قیمت — 12,500 درہم — ایمریٹس ہلز کی دیگر جائیدادوں سے دگنی ہے۔

دبئی پراپرٹی کے ریکارڈ کے مطابق، یہاں پہلے سب سے مہنگے گھر کی فروخت کل 210 ملین درہم میں ( 5,614 درہم فی مربع فٹ ) اگست 2022 میں ہوئی تھی۔

شہر میں فی الحال صرف ایک جگہ اس منشن کا مقابلہ کرتی ہے: بگٹی از بنگھٹی نامی منصوبے میں ایک پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ بھی 750 ملین درہم میں پیش کیا جا رہا ہے لیکن ابھی اس کی تعمیر ہونا باقی ہے۔ (عام طور پر، وہ جائیدادیں جو تیار ہوتی ہیں، ان کی قیمتیں زیر تعمیر سے زیادہ ہیں۔)

اس اپارٹمنٹ — یا "اسکائی مینشن،" جیسا کہ ڈویلپر اسے کہتے ہیں — میں ایک کار لفٹ بھی ہوگی اور وہ تقریباً تین سالوں میں مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

سنگھ کا اندازہ ہے کہ دنیا میں صرف پانچ سے 10 ممکنہ خریدار ہیں جو ماربل پیلس خریدنے کے لیے کافی امیر ہیں اور اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سنگھ کا کہنا ہے کہ پچھلے تین ہفتوں میں دو لوگوں نے گھر کو دیکھا ہے۔ پہلا، ایک ازبک آدمی جو یہ جاننے کی کوشش کررہا کہ اپنا پیسہ کیسے منتقل کیا جائے۔

دوسرا ایک ہندوستانی کلائنٹ ہے جو پہلے ہی ایمریٹس ہلز میں تین جائیدادوں کا مالک ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ کچھ ایسا خریدا جائے جس میں زیادہ عصری جھلک آئے۔

یہ مینشن لکس ہیبی ٹیٹ سودبیز انٹرنیشنل رئیلٹی فروخت کے لیے پیش کر رہی ہے ، جس کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر، کیری مائیکل کہتے ہیں کہ"یہ وہ چیز ہے جسے کوئی بھی نمائش کے لیے خریدے گا ، کچھ اشرافیہ کے لوگوں، لیڈروں، سیاست دانوں کو متاثر کرنے کے لیے۔"

"جو شخص اسے خریدتا ہے وہ یقینی طور پر سیاست میں ہے، قیادت میں ہے اور وہ لوگوں کو محظوظ کرنا چاہتا ہے۔ آپ میڈیا اور لوگوں کی توجہ حاصل کیے بغیر پام پر ایسا کچھ نہیں کر سکتے،" انہوں نے پام جمیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ؛ مصنوعی طریقے سے بنائے گئے جزیرہ نما جہاں بہت سے پرتعیش مکانات ہیں۔

"ایمریٹس ہلز میں، آپ اوباما کو مدعو کر سکتے ہیں، آپ شیخوں کو اس محل میں مدعو کر سکتے ہیں اور تفریح کر سکتے ہیں۔"

سنگھ کا کہنا ہے کہ جائیداد کی قیمت اس کی تعمیر میں لگے وقت اور مواد کی قدرکے لحاظ سے مناسب ہے۔
یہ مقام پام جمیرہ سے چند منٹ اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر بزنس ڈسٹرکٹ سے کار کے ذریعے تقریباً 25 منٹ کے فاصلے پر ہے۔

ایمریٹس ہلز، ایک گیٹڈ کمیونٹی، دو دہائیاں قبل بنائی گئی تھی اور اسے اکثر فلمی صنعت کے کنکشن کے بغیر دبئی کی بیورلی ہلز کے طور پر بیان کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں ایک گولف کورس درمیان سے گزرتا ہے۔

ماربل پیلس کا کل لاٹ سائز کمیونٹی کے بڑے محلات میں سے ایک ہے۔ تقریباً 6,000 مربع فٹ کا ایک ملحقہ پلاٹ ممکنہ طور پر ٹینس یا پیڈل بال کورٹ کے لیے، ڈویلپر سے خریدا یا لیز پر دیا جا سکتا ہے۔

بنیادی سویٹ میں مردانہ اور زنانہ باتھ رومز شامل ہیں۔ دوسرا سب سے بڑا بیڈروم سویٹ 2,500 مربع فٹ ہے، اور مہمانوں کے کمرے تقریباً 1,000 مربع فٹ پر بنے ہیں۔ 12 اسٹاف رومز ہیں اور دو بینک والٹس ہیں۔ مالک جس نے یہ گھر بنایا ہے طلاق کے بعد خود اس میں رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں