نیٹ فلکس کی بدولت چھوٹے سے سوئس گاؤں میں مقامی لوگ کم سیاح زیادہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سوئٹزرلینڈ کے اسلٹ والڈ نامی چھوٹے سے ماہی گیری گاؤں میں صرف 400 افراد رہتے ہیں۔

جھیل برائنز کے جنوبی کنارے پر واقع، یہ طویل عرصے سے خاموش اور الگ تھلگ ہے، شاذ و نادر ہی باہر کے لوگ آتے ہیں۔ یہاں تک کہ جنوبی کوریا کے ایک مشہور ٹی وی شو نے اسے عملی طور پر راتوں رات عالمی سیاحوں کے نقشے پر ڈال دیا۔

ستمبر 2022 سے، اسلٹ والڈ میں بڑی تعداد میں ایشیائی سیاحوں کی آمد ہو رہی ہے، زیادہ تر جنوبی کوریا اور جنوب مشرقی ایشیا سے آتے ہیں۔

مختصر مدت کے لیے آنے والوں کا حجم اتنا زیادہ ہو گیا ہے کی بعض اوقات یہ مقامی لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں۔

گاؤں نے اس ماہ ایک ڈبل ڈیکر بس سروس شروع کی ہے تاکہ سیاحوں کو ان خوبصورت مقامات تک لے جایا جا سکے ۔

یہ مقبول کوریائی ڈرامہ کریش لینڈنگ آن یو کی بدولت ہے، جسے نیلسن کوریا، جنوبی کوریا کی تاریخ کے چوتھے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی شو کا درجہ دیتے ہیں۔

2019 میں یہ نیٹ فلکس پر نشر ہونا شروع ہوا۔

شو کا بیانیہ شمالی کوریا میں ترتیب دیا گیا ہے، جہاں پروڈکشن ممکن نہیں تھی۔ اس کے بجائے، بہت سے مناظر سوئٹزرلینڈ میں شوٹ کیے گئے۔ خاص طور پر ایک اہم منظر جھیل برائنز پر پیش آیا، جس کا شاندار فیروزی پانی، پہاڑوں سے ملتے ہوئے، اب ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہو گیا ہے۔

وہ منظر، جس میں مرکزی کرداروں کے رشتے میں ایک شاندار موڑ آتا ہے اور جس میں اداکار ہیون بن کو ایک گھاٹ پر پیانو بجاتے ہوئے دکھایا گیا ہے — نے اس قدر پذیرائی حاصل کی کہ گوگل میپ اب اسے ”کریش لینڈنگ آن یو فلمنگ لوکیشن“ کہتا ہے۔

یہ رومانس کا ایسا آئیکن بن گیا ہے کہ زائرین اسے شادی کی پیشکش کے لیے ، اور شادیوں اور منگنی کی تصاویر کے پس منظر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

جھیل لنگرن، جھیل برائنز سے مشرق میں 40 منٹ کی ڈرائیو پر جہاں سیریز کے ایک اور حصے کی شوٹنگ کی گئی تھی، پر بھی سیاحوں کی آمد بڑھی ہے۔

چونکہ جھیل برائنز تک زیادہ آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے، اس لیے اس نے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔

سیاح عام طور پر زیورخ جاتے ہیں اور انٹرلیکن اوسٹ کے لیے 140 منٹ کی ٹرین لیتے ہیں، پھر 25 منٹ کے لیے اسلٹ والڈ کے لیے بس میں سوار ہوتے ہیں۔

(برن ہوائی اڈہ قریب ہے لیکن بہت چھوٹا ہے — اور پھر بھی ٹرینوں اور بسوں میں سواریوں کی ضرورت ہو گی۔)

ہفتہ کے وسط میں ایک حالیہ دورے پر، انٹرلیکن اور اسلٹ والڈ کے درمیان بس میں سیلفی سٹکس اور تپائی والے ایشیائی سیاح بھرے ہوئے ہیں۔

یہاں آمد پر، ہر ایک کو اب 5 سوئس فرانک ($5.50) ادا کرنا ہوں گے تاکہ تصویریں کھینچنے کے لیے گھاٹ کے کنارے پر جا سکیں؛ یہ اقدام مئی میں زیادہ سیاحت کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

تمام آمدنی براہ راست انٹرلیکن کی میونسپلٹی کو جاتی ہے جس سے سیاحوں کی خدمات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کو پورا کیا جاتا ہے۔

زیادہ تر سیاح ( مصنف سمیت) صرف ایک یا دو گھنٹے کے لیے ٹھہرتے ہیں۔

کروشیا جہاں سیاحت میں زبردست فوائد جو گیم آف تھرونز کے جوش سے حاصل ہوئے، یا ڈاونٹن ایبی کی بڑی دوڑ کے بعد برطانوی دیہی علاقوں میں راتوں رات قیام میں اضافہ کے برعکس یہاں ٹی وی ٹورازم سے ایک قدیم جگہ اور چھوٹی کمیونٹی کو کم معاشی فائدہ پہنچ رہا ہے.

گاؤں میں صرف چند معمولی ہوٹلوں اور ریستورانوں کے ساتھ، چند لوگ بامعنی طور پر پیسہ کما رہے ہیں، جبکہ خاندان کی ملکیت والے ایک ہوٹل نے حالیہ مہینوں میں ایشیائی مہمانوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے قیام کا بھی لطف اٹھایا ہے۔

(اگرچہ شو کی سٹریمنگ رن 2020 کے اوائل میں ختم ہو گئی، وبائی پابندیوں نے شائقین کے ردعمل میں تاخیر کی۔)

"میں 10 سال پہلے سوئٹزرلینڈ آیا تھا، لیکن اس وقت میں اسلٹ والڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا،" 30 سالہ ینگ آہ لی کہتے ہیں، جو جنوبی کوریا سے آئے تھے۔ "مجھے کریش لینڈنگ آن یو کے ذریعے اس کے بارے میں پتہ چلا، اور مجھے خوشی ہے کہ مجھے یہاں آنے کا موقع ملا کیونکہ یہ دیکھنے کے لیے بہت خوبصورت جگہ ہے۔"

فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والی بھارتی نژاد امریکی 22 سالہ رمیا مامیدی اپنی بہن کے ساتھ اس مقام کی تصویر کشی کرنے آئی تھیں۔ "آپ واقعی شو میں سوئٹزرلینڈ کی خوبصورتی دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انہوں نے بہت اچھا کیا ہے "وہ کہتی ہیں۔

یہاں آنے والے سیاح بھی مقامی افراد کے حوالے سے کچھ تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

لی نے متضاد جذبات کا اظہار کیا: "میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے کہ شو نے اس جگہ کی نمائش میں اضافہ کیا، لیکن میں یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ شور اور خلل بڑھنے کی وجہ سے یہ یہاں رہنے والوں کے لیے کس طرح برا ہو سکتا ہے،"

ایک بینچ پر بیٹھے چند مقامی بزرگ سیاحوں کو دیکھ رہے ہیں۔

سیاحوں کی آمد کے بارے میں پوچھے جانے پر ان میں سے ایک نے جھک کر اپنی محدود انگریزی میں کہا: "بہت زیادہ۔"

سوئٹزرلینڈ ٹور ازم کے کارپوریٹ کمیونیکیشن کے سربراہ مارکس برجر کہتے ہیں، "مقامی لوگ صورتحال سے خاص طور پر اس جھیل کی طرف سے قدرے مغلوب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زبان کی رکاوٹ اہم ہو سکتی ہے۔ مثلا وسطی سوئٹزرلینڈ میں باشندے بنیادی طور پر جرمن بولتے ہیں، ملک کی باقی سرکاری زبانوں میں فرانسیسی، اطالوی اور رومانش شامل ہیں۔

ٹاؤن حکام کو اس سلسلے میں شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاحت کی اس لہر کو مزید پائیدار بنانے کے لیے زائرین کی تعداد کا انتظام کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے بہت ضروری ہوں گے۔

نئی ڈبل ڈیکر بسیں جو بونیگن سے اسلٹ والڈ تک چلنا شروع ہوئیں ہر ایک میں 120 مسافروں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔

چونکہ پارکنگ محدود ہے، بسوں کو وقت سے پہلے اجازت نامہ حاصل کرنا چاہیے۔ کاروں کے لیے محدود پارکنگ کی وجہ سے واحد متبادل نقل و حمل فیری کے ذریعے ہے۔ مقامی فیری آپریٹر کا کہنا ہے کہ یہاں آنے کے لیے ٹکٹوں کی فروخت ہر سال 40 فیصد بڑھ رہی ہے۔

"کچھ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک عروج ہے جو ختم ہو جائے گا، لیکن ہم ڈرامہ ختم ہونے پر بھی لوگوں کو جھیل برائنز پر لانا جاری رکھیں گے،" برجر کہتے ہیں۔

"لوگوں کو اس خوبصورت جگہ پر نہ لانا افسوس کی بات ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں