داعش نے انہیں جدا کیا تھا، 9 سال بعد ملنے والے میاں بیوی کا شادی کا دوبارہ جشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

محبت کی ایک لازوال داستان رقم کرتے ہوئے دخیل حسن اور سامیہ سمو نے داعش کی وجہ سے 9 سال کی علیحدگی کے بعد ایک بار پھر اپنی شادی کا جشن منایا، یہ شادی شمالی عراق کے علاقے دہوک میں ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق، سامیہ، 2014 میں اپنی شادی کے صرف ایک ماہ بعد، سنجار میں ایک دراندازی کے نتیجے میں داعش کے قبضے میں چلی گئی تھیں۔

9 سال بعد داعش کی قید میں رہنے کے بعد وہ 5 دیگر یزیدی لڑکیوں کے ساتھ اس ماہ آزاد ہو کر شام سے اپنے خاندان کے پاس واپس آئی ہیں۔ جہاں ان کے شوہر دخیل اب بھی ان کے منتظر تھے۔

سامیہ کی رہائی کے بعد جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب دوبارہ منائی۔اور محبت کے اظہار کے طور پر ان میں سے ہر ایک نے اپنے ہاتھ پر دوسرے کے نام کا ٹیٹو بنوایا۔

شادی کا جوڑا پہنے سامیہ نے کہا، "میں یقین نہیں کر سکتی ۔" مجھے ایسا لگا جیسے میں خواب دیکھ رہی ہوں۔ میں بہت خوش ہوں۔

دخیل حسن نے خوشی کا اظہار کرتے کہا کہ وہ اس دن کا انتظار کر رہے تھے جب ان کی بیوی واپس آئے گی۔ "

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں