عربی خطاطی میں دیواریں بنانے والے سعودی پیشہ ور کی کہانی

میرے دیواروں پر مصوری سے محبت کی کہانی بچپن سے ہی شروع ہوگئی تھی، عربی خطاطی میں ممتاز اپنے بھائی کے مخطوطات کی نقل کرتا تھا: منصور العتیبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تخلیقی صلاحیتوں کی راہوں میں ایک سعودی مصور نے اپنے بھائی سے عربی خطاطی سیکھی۔ عربی خطاطی کے آئیکون اپنے بھائی پر بھروسہ کرتے ہوئے پیشہ ورانہ طور پر دیواروں پر فن کا مظاہرہ کرکے وہ مصور خود بھی کامیابی کے زینے چڑھتا گیا اور نامور مصور بن گیا۔

اس شعبے میں اپنے آغاز کی داستان سناتے ہوئے منصور العتیبی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ میرے دیواروں پر مصوری سے محبت کی کہانی بچپن سے ایک شوق کے طور پر شروع ہوئی۔ میرا بھائی عربی خطاطی میں ممتاز نام تھا۔ میں نے بھائی کے مخطوطات کی نقل کرنا شروع کردی۔ اس کے بعد میں نے اپنی کوششیں ڈرائنگ کے لیے وقف کر دیں اور برش کے ساتھ اپنی موجودگی کو محسوس کیا۔ گزرتے سالوں کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ یہ بچوں کا مشغلہ نہیں ہے جو ظاہر ہو اور غائب ہو جائے

۔

اس لیے میں آرٹسٹک میں مہارت حاصل کرنے کا خواہشمند ہو گیا ۔ پھر میں عربی گھوڑے بنانے کے لیے مشہور ہوگیا۔ میں نے عربی گھوڑوں کے میلوں میں اپنا کام پیش کیا۔ اس لیے میرا نام پلاسٹک آرٹس کے اس رنگ سے جوڑا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری بہت سی شرکتیں ہیں جن میں سے سب سے اہم دوحہ میں کٹارا عربین ہارس بیوٹی فیسٹیول 2022 میں شرکت تھی۔ وہاں سیڈلز پر ڈرائنگ کا مقابلہ تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک نیا تجربہ تھا۔ میں نے پہلی بار ایک کاٹھی پر کھینچیں۔ لیکن میں نے اپنے آپ کو ماحول کے مطابق چیلنج کیا اور قطر میں اپنے ساتھی فنکار محمد گوہر مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔

مقبول خبریں اہم خبریں