مشرق و مغرب میں افہام و تفہیم کا پل تعمیر کرنے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ اقدام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ڈاکٹر العیسیٰ نے اقوام متحدہ کے رہنماؤں، مستقل مشنز کے نمائندوں اور مذاہب کے رہنماؤں سے اپنی تقریر میں کہا کہ

قوموں اور لوگوں کے درمیان آشنائی اور تعاون کے لیے رابطہ تمام آسمانی قوانین میں ایک الہی دعوت ہے اور اسلام کی نصوص اس سے بھری ہوئی ہیں۔ اگر ہر تہذیب کو اپنے وجود کا حق حاصل ہے تو اس کی اپنی مخصوصیت بھی ہے۔ تہذیبوں کے امتزاج کا دعوی ٰ کرنا یا کسی تہذیب کی دوسری پر فوقیت کا دعویٰ کرنا بھی درست نہیں ہے۔

شناخت کی تفصیلات کو سمجھنے کے بعد تہذیبی اتحاد ہماری دنیا کے امن اور معاشروں کی ہم آہنگی کے لیے ایک فوری ضرورت ہے۔ ہم قوموں اور لوگوں کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کو مضبوط بنانے اور تاریخ کے ایسے خطبات سے متاثر ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں جو تہذیبی تصادم کی سنگینی کی تصدیق کرتے ہیں۔

ہم اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان تہذیبی اتحاد کے لیے ایک عالمی دن مختص کرنے کے لیے جنرل اسمبلی میں تجویز منظور کریں۔ ہم رکن ممالک سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی نصاب میں اقوام اور لوگوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی کی اقدار کو فروغ دیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر سے مسلم ورلڈ لیگ نے اپنے اقدام "مشرق و مغرب کے درمیان افہام و تفہیم اور امن کے پلوں کی تعمیر" کا آغاز کردیا۔ اس اقدام کا افتتاح لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی اور ایسوسی ایشن کے صدر محترم نے کیا۔ اس موقع پر مسلم سکالرز میں سے ڈاکٹر العیسیٰ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر محترم سابا کوروشی نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف اداروں کے عہدیدار، مختلف دینی رہنما، مختلف مسالک، اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے افراد بھی موجود تھے۔

عزت مآب ڈاکٹر العیسیٰ نے اپنی ابتدائی تقریر میں تہذیبی اتحاد کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر تہذیب کی اپنی شناخت ہوتی ہے۔ اس کے وجود کے حق کو سمجھنا چاہیے چاہے اس سے اختلاف کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تہذیب سے ہمارا مطلب عقائد، خیالات اور رویوں کا مجموعہ ہے جو عام لوگوں کے یقین فراہم کرتا اور رویے کو تشکیل دیتے ہیں۔

انہوں نے مندرجہ ذیل باتوں پر زور دیا اور کہا قوموں اور لوگوں کے درمیان آشنائی اور تعاون کے لیے رابطہ تمام الہامی قوانین میں ایک الہی دعوت ہے۔ خاص طور پر اسلام میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو جان سکو۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر تہذیب کی اپنی خصوصیت اور اس کے وجود کا حق ہوتا ہے۔ تمام تہذیبوں کو ایک تہذیب میں سمیٹ دینا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح ایک تہذیب کے لیے دوسری تہذیب پر فوقیت حاصل کرلینا بھی ممکن نہیں ہے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ اب بھی ہمیں مشرق اور مغرب کے درمیان تہذیبی تصادم کے نتائج کی دردناک تصویریں فراہم کرتی ہے۔ یہ تصادم ایک دوسرے سے باضابطہ قربت کے باوجود تیز نظروں اور تاثرات کے تبادلے سے اپنے آغاز میں پیدا ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بین الاقوامی پلیٹ فارم سے مذہبی، فکری، سیاسی، میڈیا اور سول سوسائٹی کے اشرافیہ کی موجودگی میں ہم اپنی دنیا کے عقلمند لوگوں سے مخاطب ہیں کہ وہ اقوام کے درمیان افہام و تفہیم، تعاون اور امن کو فروغ دینے کی اہمیت کو سمجھ جائیں اور تہذیبی تصادم کی سنگینی سے بھی خبردار رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں