ایک خوفناک انتباہ: گھر سے کام کر کے 70 برس بعد ہماری شکلیں ایسی نظر آئیں گی!

بستر سے کام کرنے کے اثرات اینا پر نظر آ رہے تھے، سارا دن غلط انداز میں بیٹھ کر کام کرنے سے، کمر اور کندھوں کو جھکائے رکھنے سے کبڑا پن ظاہر ہرنے لگا، اسکرین کو مسلسل گھورنے کے نتیجے میں اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گھر سے کام کرنا ... وہ عادت ہے جو کرونا وبا کے بعد پوری دنیا میں رائج ہے۔ ورک فرام ہوم کا مطلب یہ تھا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اپنے سونے کے کمرے یا باورچی خانے کی میز جیسی جگہوں پر دفتر کا کام کرنے کے ایک نئے طریقے سے تیزی سے موافقت کرنا پڑی۔

کرونا کے پھیلاؤ کے تین سال بعد، اب جبکہ لاک ڈاون اور سفری پابندیاں نہیں ہیں مگر گھر سے کام کرنے کو ایک مثبت طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے لوگوں کو کام اور زندگی میں بہتر توازن حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، لیکن ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ گھر سے کام کرنے کے طویل مدتی صحت کے اثرات مستقبل میں ایک مسئلہ بن سکتے ہیں۔

حال ہی میں، کام کے لیے فرنیچر بنانے والی ایک کمپنی نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی کہ گھر سے کام کرنے کے ہمارے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اب سے 70 سال بعد ہماری صورتیں کیسی نظر آئیں گی۔

اس کے لیے ایک تھری ڈی ماڈل پیش کیا گیا جسے "اینا" کا نام دیا گیا۔

اینا کو فرنیچر ایٹ ورک ٹیم نے یونیورسٹی آف لیڈز کی اس تحقیق کے بعد بنایا تھا کہ برطانیہ میں ایک تہائی دور دراز سے کام کرنے والوں کے پاس گھر میں کام کی جگہ نہیں ہے۔

ماڈل اینا
ماڈل اینا

گھر میں کام کرنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہونے کے مضمرات کو دیکھنے کے لیے، کمپنی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ دور دراز سے کام کرنے والا مستقبل میں کیسا نظر آ سکتا ہے۔

بستر سے کام کرنے کے اثرات اینا پر نظر آ رہے تھے، سارا دن غلط انداز میں بیٹھ کر کام کرنے سے کمر اور کندھوں کو جھکائے رکھنے سے کبڑا پن ظاہر ہرنے لگا، اسکرین کو مسلسل گھورنے کے نتیجے میں اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔

ماؤس کے طویل استعمال کی وجہ سے اس کی انگلیاں پنجوں جیسی شکل اختیار کر گئیں۔ وہ وزن میں اضافے، ناکافی تازہ ہوا، اضطراب اور افسردگی کی وجہ سے کمزور مدافعتی نظام کا بھی شکار ہو گئی۔

ماڈل اینا مناسب فرنیچر نہ ہونے کی وجہ سے گردن جھکا کر چلنے لگیں

خوش قسمتی سے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

یونائیٹڈ میڈیکل ایجوکیشن کے بانی برائن کلارک کا کہنا ہے کہ "ریموٹ ورکرز کو کمر اور گردن کے درد سے بچنے کے لیے اپنے جسم کو بار بار کھینچنے اور حرکت دینے کے لیے باقاعدہ وقفہ لینا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا، "کام اور ذاتی وقت کے درمیان واضح حدود طے کرنے کے لیے آرام دہ فرنیچر کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ بنانا بھی ضروری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں