ابوظبی میں کھدائی کے دوران میں لوہے اور اسلام سے قبل کے دور کے نوادر دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ابوظبی میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے لوہے کے دور اور قبل ازاسلام دور کے آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے متعدد نوادر دریافت کیے ہیں۔ان میں تلواریں اورکانسی کے برتن جیسی قدیم اشیاء ہیں۔

ماہرینِ آثار قدیمہ کے مطابق یہ دریافتیں 1300 قبل مسیح سے 600 عیسوی تک کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ نوادر اسلام سے قبل (300 قبل مسیح اور 300 بعد مسیح) کے دور کے ایک قبرستان کی کھدائی کے دوران میں ملے ہیں۔اس قبرستان کاپتا العین میوزیم کے مشرق میں العین شہر میں واقع محلہ شعبیہ میں سڑک کی مرمت کے دوران میں چلا تھا۔

وام کی رپورٹ کے مطابق قبرستان میں قریباً 20 قبروں کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ان میں "غیر معمولی طور پر اچھی طرح سے محفوظ" اشیاء شامل ہیں۔ان میں صراحیاں ، آب خورے (ایک قسم کے قدیم جگ)، کانسی کے پیالے اور دیگر برتن شامل ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کو نیزے، تیر اور تلواروں سمیت ہتھیار بھی ملے ہیں۔

ابوظبی میں کھدائی کے دوران میں دریافت ہونے والا ہتھیار۔
ابوظبی میں کھدائی کے دوران میں دریافت ہونے والا ہتھیار۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبرستان کی موجودگی سے پتا چلتا ہے کہ شاید اسی دور میں اس کے قریب ہی ایک بستی واقع تھی۔

کھدائی کرنے والوں نے العین، خریص، قطارہ اورالہیلی کے علاقوں میں دیگر دریافتیں کی ہیں۔ان میں لوہے کے دور کا ایک قبرستان بھی شامل ہے جس میں پتھر کا ایک یادگار مقبرہ اور 35 قبریں ہیں۔انھوں نے ایک اور علاقہ بھی دریافت کیا جس میں قبل از اسلام مقبرے اور لوہے کے ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے آب پاشی کے نظام اور زرعی اراضی کا بھی سراغ لگایا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’جس چیز کو ہم العین کے حالیہ ماضی سے متعلق سمجھتے ہیں، درحقیقت اس کی ایک بہت طویل تاریخ ہے‘‘۔

دیگر اشیاء میں زیورات اور خول شامل ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ نوادرات کب ملے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں