جادو کا توڑ کرنے کے لیے بیٹے کو قتل کرکے کھایا تھا: ماں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں الشرقہ گورنری کے علاقے فاقوس میں اپنے پانچ سالہ بیٹے کو قتل کرکے اس کی لاش پکا کر کھانے والی مصری خاتون کی ایک اور مجرمانہ حرکت کی تفصیل سامنے آگئی ہے۔

اپنے مقدمہ کی سماعت کے دوران ہفتہ کو الزقازیق کی فوجی داری عدالت میں خاتون نے بتایا کہ اسے جادو کا نشانہ بنایا گیا جس کو توڑنے کے لیے وہ ایسے خوفناک جرم کا ارتکاب کر گئی۔

ملزمہ نے بتایا کہ روحانی عاملوں میں سے ایک نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس پر جادو کیا گیا ہے اور اسے اس کو توڑنے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے گا۔ اس نے مزید کہا کہ اس نے اپنے بچے کو جادو سے چھٹکارا پانے کے لیے مار ڈالا ہے۔

اس نے بتایا کہ اسے کچھ عجیب اور مشکوک چیزوں کا سامنا کرنا پڑا تھا تو وہ ایک شیخ کے پاس گئی جس نے اسے یقین دلایا کہ جو چیز اس کے سامنے آئی ہے وہ جادو ہے۔ خاتون نے کہا اپنے بچے کو مارنے اور پکانے کے بعد میں آرام محسوس کر رہی ہوں۔

واضح رہے 26 اپریل بدھ کی شام کو اس گھناؤنے جرم کی تفصیلات اس وقت شروع ہوئیں جب 37 سالہ گھریلو خاتون ملزمہ ھناء نے منصوبہ بندی کے بعد گھناؤنا کھیل شروع کیا۔ اس نے اپنے پانچ سالہ بیٹے سعد کو اپنے کمرے سے کھینچ کر باہر نکالا اس کے سر پر کلہاڑی کے دستے کی لکڑی ماری۔ خاتون یہ جرم فاقوس تھانے کے قریب ہی انجام دے رہی تھی۔

سر پر چوٹ سے بچہ زمین پر گر گیا لیکن ابھی تک زندہ تھا، جلاد ماں بھاگتی ہوئی کچن میں گئی اور چھری لے آئی جس سے اس نے بچے کا سر کاٹ دیا تاکہ اس کی موت کا یقین ہو جائے۔ ذبح کرنے کے بعد اس نے سر کو مکمل الگ گیا اور گوشت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنا شروع کردیے۔ ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے کو واپس اپنے پیٹ میں لے جانا تھا۔ اسی لیے میں نے اس کے گوشت کا سوپ بنایا اور اسے کھایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں