شارک مچھلیوں کے ساتھ مصری ماہی گیروں کی تصاویر نے سنسنی پھیلا دی

شارک کو تلاش کرنا کسی بھی وقت ہو سکتا، یہ مچھلی راستہ بھول کر بحیرہ روم میں آئی، اس سمندر میں بسنے والی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی مصر کے اسکندریہ گورنری میں بحیرہ روم میں الماکس کے علاقے میں شارک مچھلیوں کے ساتھ مصری ماہی گیروں کی گردش کرنے والی تصاویر نے سنسنی پھیلا دی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے چھوٹی شارک پکڑے ہوئے ماہی گیروں کی تصاویر بڑے پیمانے پر پھیلائی ہیں۔ مصری ماہی گیر ان چھوٹی شارک مچھلیوں کو ماہی گیری کے سفر کے دوران پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ شارک جیسی خطرناک مچھلی کو ہاتھوں میں پکڑنے سے دہشت پھیل گئی۔ خاص طور پر اس وقت جب چند روز قبل ہی بحیرہ احمر کے پانیوں میں ایک شارک مچھلی نے روسی سیاح کو کھا لیا ہے۔

سینٹرل ایڈمنسٹریشن برائے سیاحت اور ریزورٹس کے سربراہ محمد عبدالرازق نے بتایا کہ حکام نے فوری طور پر اسکندریہ میں شارک کے وجود سے انکار کیا۔ ماہی گیروں، غوطہ خوروں اور ماہرین سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مچھلیاں ساحلوں پر نہیں پائی جاتیں اور یہ بحیرہ روم میں عمومی طور پر ساحلوں سے بہت دور پائی جاتی ہیں۔

اسکندریہ میں ماہی گیروں کی سنڈیکیٹ کے سربراہ اشرف زريق نے کہا کہ مغربی اسکندریہ کے ساحلوں پر ایک چھوٹی شارک کو تلاش کرنے کے متعلق باتیں درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہی گیر روزانہ ایک شارک نما مچھلی پکڑتے ہیں جسے مستولا کہا جاتا ہے۔ یہ مچھلی پکڑی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شارک مخصوص گہرائیوں میں رہتی ہے اور اسے ایک مخصوص سمندری ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موافق ماحول نہ ہونے کی وجہ سے شارک بحیرہ روم میں نہیں پائی جاتی۔

ماہی گیروں کے کپتان نے کہا کہ اگر شارک مچھلی پکڑی گئی ہے تو یہ راستہ بھول کر بحیرہ روم میں آئی ہیں۔ یہ اس سمندر میں بسنے والی مچھلی نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں