شام میں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں دلوں کو توڑنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں اس سال عید الاضحیٰ کے حوالے سے شامیوں میں کوئی خاص جوش و خروش نہیں دیکھا جا رہا۔ جنگ کے آغاز کے بعد 13 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود شام کے باشندوں میں عید الاضحی کی خوشیوں کے حوالے سے اس قدر بےاعتنائی نہیں دیکھی گئی جو اس سال دیکھی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ شامی غربت کا شکار ہیں۔ شامیوں کی اوسط تنخواہ تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار شامی پاؤنڈ ہے۔ دوسری طرف 5 افراد کے خاندان کے رہنے کی اوسط قیمت 5.6 ملین پاؤنڈ سے زیادہ بنتی ہے۔ ’’ کم سے کم معیار زندگی کو دیکھیں تو اس کی رقم بھی 3.5 ملین شامی پاؤنڈ بنتی ہے۔

میں عید پر قربانی نہیں کرتا

عید الاضحیٰ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے 34 سال کے شامی نوجوان خلیل عباس نے کہا ’’اس سال کوئی قربانی نہیں کی جائے گی‘‘ ۔ خلیل دو دہائیوں سے ہر سال قربانی کرتا آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال شام میں آمدنی کی سطح کم اور قربانی کے جانوروں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

خلیل کو توقع تھی کہ ایک ملین شامی پاؤنڈ کی رقم جو 111 امریکی ڈالر کے مساوی بنتی ہے قربانی کے اچھے جانور کو خریدنے کے لیے کافی ہوگی لیکن جب وہ مویشی منڈی میں پہنچا تو اسے قربانی کے جانور کی جو سب سے کم قیمت معلوم ہوئی وہ بھی اس کے پاس موجود رقم سے دو گنا تھی۔

42 سال کے شامی شہری معین الخیر یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے اور اس کے 4 بچے ہیں۔ وہ بھی ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ایک مینڈھا ذبح کرتا تھا لیکن آج وہ محسوس کر رہا ہے کہ وہ اس عید پر قربانی کرنے سے قاصر ہے اور اس کا اسے بہت دکھ ہے۔

یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قربانی کے جانوروں کی بلند قیمتوں اور شام میں خراب معاشی حالات نے شامی باشندوں کے عید الاضحی پر قربانی کرنے کے رواج کو شدید متاثر کردیا ہے۔

ابو عاصم دمشق میں گوشت کی سب سے پرانی اور مشہور دکانوں میں سے ایک کے مالک ہیں۔ یہ سال بہت زیادہ قیمت کی وجہ سے ان کی قربانی میں دلچسپی کے لحاظ سے بدترین رہا ہے۔ انہوں نے کہا مویشیوں کی یومیہ فروخت 6 سے کم ہوکر ایک یا دو جانوروں تک آگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں