سعودی عرب : نیوم میں پہلی فضائی ٹیکسی وولوکاپٹر کی کامیاب آزمائشی پرواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شہر نیوم میں پہلی فضائی ٹیکسی نے اپنی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی ہے۔

مملکت کی ایوی ایشن اتھارٹی سے خصوصی اجازت ملنے کے بعد الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (ای وی ٹی او ایل) نے پہلی بار نیوم میں ایک ہفتہ تک طویل آزمائشی پرواز کی ہے۔

میڈیاکو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نیوم، سعودی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن (جاسا) اور شہری نقل و حرکت کی کمپنی وولوکاپٹر کے درمیان 18 ماہ کے تعاون کے بعد آزمائشی پرواز کا مرحلہ آیا ہے۔

نیوم کے سی ای او نضمی النصر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’وولوکاپٹر ای وی ٹی او ایل کی کامیاب آزمائشی پرواز نیوم کے جدید، پائیدار، کثیر الجہت نقل و حمل کے نظام کی تخلیق کی طرف صرف ایک اور سنگ میل نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کے سب سے اہم چیلنجوں کے حل کے لیے ایک عالمی ایکسلریٹر اور انکیوبیٹر کے طور پر نیوم کی ایک ٹھوس مثال ہے۔اسمارٹ، پائیدار اور محفوظ نقل و حرکت کے نظام کی ترقی سے دنیا بھر کے شہروں میں رہنے کی صلاحیت اور رابطے میں بہتری آئے گی اور کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی، جس سے سب کے لیے صاف ستھرا مستقبل پیدا ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ 2021ء میں ، نیوم اور وولوکاپٹر نے جدید فضائی نقل و حرکت کو بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کی بنیاد رکھی اور اس میں ثانی الذکرفریق کی طرف سے 19 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری شامل تھی۔

وولوکاپٹر کے چیف کمرشل آفیسر کرسچئن باؤر نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں تجربہ کرنے والے پہلے ای وی ٹی او ایل طیارے کی حیثیت سے ہمیں نیوم میں اپنے مستقبل کے تعاون کی بنیاد رکھنے پر فخر ہے۔

آزمائش پروازکے دوران میں مقامی آب و ہوا اور ماحولیاتی حالات میں اس اڑن کھٹولے کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، کیونکہ اس کا مقامی بغیر پائلٹ ایئرکرافٹ سسٹم ٹریفک مینجمنٹ (یو ٹی ایم) سسٹم میں انضمام ہے۔

کمپنی نے جرمنی کے شہر بروخسال میں اپنی تنصیبات میں سلسلہ وار پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ایک سال میں 50 سے زیادہ طیارے فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ویژن 2030 اصلاحاتی منصوبے کے حصے کے طور پر 2017 میں ایک اقتصادی زون نیوم کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا ، جس کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کے علاوہ بھی دولت کے ذرائع پیدا کرنا ہے۔

سعودی عرب کا خودمختار دولت فنڈ نیوم میں بنیادی سرمایہ کار ہے۔یہ جدید شہر بحیرہ احمر کنارے کے 26،500 مربع کلومیٹر (10،230 مربع میل) رقبے پرمحیط ہائی ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔اس میں صنعتی اور لاجسٹک علاقوں سمیت متعدد زون شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں