ترکیہ: زلزلہ زدہ علاقوں میں عید کی خوشیاں پھیکی، لوگ پیاروں کی قبروں پر جانے کے منتظر

خاندان منتشر ہونے کے باعث ایک بڑی تعداد عید الاضحیٰ کی تیاریاں نہیں کر سکی: نوجوان، العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فروری کی 6 تاریخ کو جنوبی ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر نقصان کے باوجود ترکیہ کے ان علاقوں میں تاجر عید قربان پر جانور فروخت کرنے کے لیے لا چکے ہیں۔ تاہم زلزلہ کے بعد یہ پہلی عید ہے اور گزشتہ عیدوں کی طرح خوشی کے حالات نظر نہیں آرہے۔

المنک زلزلے نے ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔ جنوبی اور وسطی ترکیہ کے شہری اپنے گھروں سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے تھے۔ اس طرح بڑی تعداد میں خاندان منشتر ہوگئے تھے اور اب تک واپس اکٹھے نہیں ہو سکے ہیں۔ زلزلہ کی اس آفت کے بعد عید الاضحیٰ کے حوالے سے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے لوگوں سے گفتگو کی تو لوگوں نے بتایا کہ زلزلہ کے بعد عید کی تیاریاں پہلے سے بالکل مختلف ہیں۔

صوبہ گازین ٹیپ کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے کہا کہ لوگ عید ملنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور تیاریاں ہو رہی ہیں لیکن ایسا نہیں ہورہا جو جو گزشتہ برس ان دنوں میں ہو رہا تھا۔ خاندانوں کے الگ اور منتشر ہوجانے نے بہت سے خاندانوں کو عید الاضحی کی تیاری نہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ قربانی اور عید کی اشیائے ضروریہ جیسے مٹھائی کی خریداری کی مانگ کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ بازاروں میں آمد و رفت تقریباً معمول کے دنوں کے ہی مطابق ہے۔ یہ پچھلے سالوں سے یکسر مختلف صورت حال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو عید الاضحی کی تیاری وہ ہی کرتا ہے جو اپنے خاندان کے تمام یا زیادہ تر افراد کو جمع کرنے کے قابل ہو تا ہو۔

ایک بزرگ نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ایسے لوگ ہیں جو عید الاضحی کے پہلے دن کی صبح قبروں کی زیارت کے لیے عید کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہزاروں خاندان ہیں جنہوں نے عید کی تیاری اس لیے نہیں کی ہے کیونکہ ان کے پیارے زلزلہ میں ان سے بچھڑ گئے ہیں اور عید کی خوشی کے موقع پر ان کی یاد زیادہ آرہی ہے۔ یہ لوگ عید کی تیاریاں نہیں کر رہے بلکہ عید کے دن زلزلہ میں جاں بحق ہونے والے اپنے پیاروں کی قیروں کی زیارت کا پروگرام بنا رہے ہیں۔

ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو چھٹیاں لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خیراتی ادارے ان خاندانوں کی اس آزمائش پر قابو پانے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی اور وسطی ترکیہ میں سرگرم فلاحی تنظیموں نے زلزلے سے متاثرہ 11 ترک ریاستوں میں قربانی کے جانوروں کی تقسیم کا اعلان کرنا شروع کر رکھا ہے۔ بڑی تعداد میں خیراتی اداروں نے زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی بڑی تعداد میں قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے لیے مالی عطیات وصول کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دیگر سول اداروں نے بھی کپڑے اور علامتی نوعیت کی چھوٹی رقم تقسیم کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ ادارے خاص طور پر ایسے بچوں اور بوڑھوں کی مدد کر رہے ہیں جن کا کمانے والا کوئی نہیں ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی حکومت کو ان علاقوں کی تعمیر نو کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ترک صدر نے زلزلے کے نتیجے میں اپنے ملک کے مادی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 104 بلین ڈالر لگایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں