دماغ سے جڑی مصری بچیوں کی سعودی عرب میں 17 گھنٹے طویل سرجری کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں خصوصی سرجیکل ٹیم 17 گھنٹے تک جاری رہنے والی ایک پیچیدہ سرجری کے بعد سر سے جڑی ہوئی مصری بچیوں سلمیٰ اور سارہ کو الگ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

آپریشن کل صبح 8:00 بجے شروع ہوا، جس میں اینستھیزیا، پیڈیاٹرک نیورو سرجری، پلاسٹک سرجری، اور بچوں کی سرجری کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے 31 کنسلٹنٹس، ماہرین، تکنیکی ماہرین اور نرسنگ اسٹاف نے حصہ لیا۔

یہ آپریشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد کی ہدایات پر عمل درآمد میں آیا۔

شاہ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایکشن کے جنرل سپروائزر، اور جڑے ہوئے بچوں کو الگ کرنے والی میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ دونوں بچیاں 23 نومبر 2021 کو مصر سے سعودی عرب لائی گئی تھیں۔

4 الگ الگ آپریشن

ماہرین نے بچیوں کا کیس دیکھا اور طبی معائنے کیے، جس سے معلوم ہوا کہ دونوں کے دماغ اوراس کے ارد گرد وینس سائنوسز جڑی ہوئی ہیں۔

اس آپریشن میں حصہ لینے والے پیڈیاٹرک نیورو سرجری سے ڈاکٹر معتصم الزعبی کی سربراہی میں سرجیکل ٹیم نے، پلاسٹک سرجری سے ڈاکٹر محمد الفوزان اور پیڈیاٹرک اینستھیزیا کے ڈاکٹر نزار الزغیبی نے کئی ہفتوں سے مہینوں کے وقفے سے چار الگ الگ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔

دماغ اور وینس سائنوس کو الگ کرنے کے لیے، پلاسٹک سرجری کے ذریعے جلد کو کھینچنے کے تین آپریشنوں کے علاوہ، تمام چار آپریشنوں میں تقریباً 57 گھنٹے لگے، جس میں اس آخری آپریشن کے لیے 17 گھنٹے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر الزعبی نے بتایا کہ یہ انتہائی پیچیدہ عمل تھا، خاص طور پر وینس سائنوس کا مقام، جس کی وجہ سے سرجیکل ٹیم نے پچھلے مہینوں کے دوران چار الگ الگ مراحل میں آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔

130 جڑے بچے

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سعودی پروگرام 33 سالوں کے دوران 23 برادر اور دوست ممالک سے 130 جڑواں بچوں کے علاج میں کامیاب رہا اور یہ جڑے ہوئے جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا 57 واں آپریشن ہے۔

بچیوں کے والدین نے سعودی حکومت اور طبی عملے کا شکریہ ادا کیا اور مملکت میں اپنے قیام کے دوران پرتپاک استقبال اور فراخدلانہ مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے مملکت کے عظیم انسانی کام کی تعریف کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں