بیلاروس میں پریگوژن کو قتل کیا جا سکتا ہے،پوتین غداروں کو معاف نہیں کرتے:تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی امور کے ماہر اور ولسن سنٹر میں گلوبل فیلو جل ڈوگرٹی نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ واگنر کے سربراہ ایوگینی پریگوزن بیلاروس جا کربھی خطرے سے باہر نہیں ہیں کیونکہ روسی صدر ولادی میر پوتین کسی غدار کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر پوتین کہتے ہیں کہ 'پریگوزن، آپ بیلاروس چلے جائیں' تب بھی وہ غدار ہیں اور میرے خیال میں روسی صدر انھیں کبھی معاف نہیں کریں گے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے پریگوزن "بیلاروس میں مارے جائیں لیکن ماسکو کے لیے یہ ایک مشکل مخمصہ ہوگا کیونکہ جب تک انھیں کسی قسم کی حمایت حاصل ہے، وہ خطرہ ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں ہوتے ہیں؟‘‘

ڈوگرٹی کا کہنا تھا کہ ’'اگر میں پوتین ہوتا تو مجھے روستوف کی سڑکوں پر موجود ان لوگوں کی فکر ہوتی جو واگنر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔سڑکوں پر عام روسی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کیوں کر رہے ہیں جنھوں نے صرف بغاوت کرنے کی کوشش کی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاید وہ ان کی حمایت کرتے ہیں یا وہ انھیں پسند کرتے ہیں. جو بھی ہو، یہ پوتین کے لیے بہت بری خبر ہے‘‘۔

ہفتے کی روز کی ناکام بغاوت ایک حیرت انگیز موڑ میں ختم ہوگئی اور پریگوزن کے بھاری ہتھیاروں سے لیس کرائے کے فوجی جنوبی شہر روستوف سے پیچھے ہٹ گئے ، جس سے ماسکو کی طرف ان کی تیز رفتار پیش قدمی کاراستہ بند ہوگیا۔معاہدے کے تحت کرائے کے فوجیوں کو قانونی تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی اور وہ اپنے اڈوں پر واپس چلے گئے۔اس سے ملک پر پوتین کے کنٹرول کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت پریگوژن کو بیلاروس منتقل ہونا تھا۔ پریگوژن نے واگنر کی قیادت میں ماسکو تک "آزادی کے لیے مارچ"کا آغاز کیا تھا، جس میں بدعنوان اور نااہل روسی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

روس کے یوکرین پر حملے کے ایک اہم لاجسٹک مرکز روستوف پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے رکاوٹیں توڑتے ہوئے شمال کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے انکشاف کیا کہ مسلح بغاوت سے متعلق پریگوژن کے خلاف الزامات واپس لے لیے جائیں گے ، وہ بیلاروس منتقل ہوجائیں گے ، اور واگنر جنگجوؤں کو اپنے اقدامات پر کسی بھی ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔یہ معاہدہ لوکاشینکو کی ثالثی میں طے پایا تھا، کیونکہ ان کے پریگوژن کے ساتھ دیرینہ ذاتی تعلقات تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں