مصر میں فراعنہ کا لباس پہن کر اخلاقی اقدار پامال کرنے کا مقدمہ

مصری بلاگر سلمیٰ الشیمی پر تاریخی مقام پر غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز بنوانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں فرعونوں کا لباس پہن کر غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے ایک اور کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سکندریہ میں اپیلٹ اکنامک مسڈیمینر کورٹ نے مشہور بلاگر سلمیٰ الشیمی کی اپیل کو قبول کرلیا اور اس کی دو سال قید کی سزا کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کردیا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ اس کے پاس کیس سننے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے سلمیٰ کا کیس قاہرہ کی اقتصادی عدالت کے حوالے کر دیا جو جولائی میں کیس کی سماعت کرے گی۔

اس سے قبل ایک عدالت نے بلاگر سلمیٰ کے خلاف خاندانی اقدار اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے اور جنسی جبلتوں کو ابھارنے کی ویڈیوز نشر کرکے معاشرتی اقدار مجروح کرنے کے جرم میں 2 سال قید اور ایک لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

بلاگر پر الزام تھا کہ اس نے فرعونوں کا لباس پہن کر سوشل نیٹ ورکس پر ویڈیوز نشر کیں جو عوامی اخلاقیات سے متصادم عمل تھا۔

یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی حکام نے پتہ چلایا کہ ایک لڑکی نےانسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے پلیٹ فارمز پر سلمیٰ الشیمی کے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹ پر عوامی اخلاقیات کے منافی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔

خفیہ تحقیقات کرکے خاتون کا تعین کیا گیا اور معلوم ہوا کہ اس خاتون کا عرفی نام سلمیٰ الشیمی ہے اور اس کی عمر 29 سال ہے۔ اسے گرفتار کرلیا گیا۔

اس ماڈل کا معاملہ 2020 میں اس وقت منظر پر آیا جب اس نے اہرام کے علاقے میں ایک فوٹو سیشن کرایا اور مختصر سفید کپڑوں میں نظر آئی ۔ اس نے ساتھ فرعونی لوازمات بھی پہن رکھے تھے۔ اس بے باک انداز میں تصاویر سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہوگیا اور بڑے پیمانے پر لوگوں نے ماڈل کی تصاویر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان تصاویر کو معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا تھا۔

سکیورٹی سروسز کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ فوٹو سیشن اہرام سقرہ کے اندر ہوا تھا۔ اس فوٹو سیشن کے وقت وہاں پر موجود وزارت نوادرات کے 2 انسپکٹرز اور 4 سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تفتیش سے معلوم ہوا تھا کہ ماڈل نے تصاویر بنانے کا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں