منیٰ میں موجود صدیوں پرانے تاریخی مقامات سے متعلق جانیے

منیٰ مکہ مکرمہ اور مزدلفہ کے درمیان حرم مقدس کی حدود میں واقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں آج 8 ذو الحج اور 26 جون کو حج کے مناسک کا آغاز ہو رہا ہے۔ 8 ذو الحج کو یوم ترویہ بھی کہا جاتا ہے اس روز عازمین حج منیٰ پہنچتے اور یہاں قیام کرتے ہیں۔ منیٰ کا مقام بھی اللہ کے شعائر میں سے ایک ہے۔ منیٰ ایک تاریخی مقام ہے اور یہاں صدیوں قدیم تاریخی علامات موجود ہیں۔ منیٰ مکہ مکرمہ اور مزدلفہ کے درمیان حرم مقدس کی حدود میں واقع ہے۔

منی کی اہمیت کو دیکھیں تو تو حج کے مناسک ادا کرنے کے مقامات میں سے یہ پہلا سٹیشن ہے اور مذہبی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں آثار قدیمہ کی یاد گاریں موجود ہیں اور یہ مقام تاریخی واقعات کے حوالے سے بھی مشہور ہے ۔

تاریخی مسجد البیعہ
تاریخی مسجد البیعہ

منیٰ کو شمالی اور جنوبی اطراف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔یہ علاقہ صرف حج کے ایام میں آباد ہوتا ہے۔ اس کی سرحد مکہ مکرمہ کی طرف سے جمرات العقبہ اور مزدلفہ کے اطراف وادی محسر ہے۔

منیٰ کے مزار کی سب سے نمایاں خصوصیات وہ تین ستون ہیں جنہیں جمرات کہا جاتا ہے۔ ان میں ایک جمرہ عقبہ ہے۔ ان ستونوں کو پتھر مارنے کو رمی جمار کہا جاتا ہے اور عام الفاظ میں شیطان کو کنکریاں مارنا کہا جاتا ہے۔ منیٰ میں تاریخی مسجد الخیف بھی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ذو الحج کو حجۃ الوداع کے وقت قیام کیا تھا۔

جمرات کمپلیکس کا فضائی منظر
جمرات کمپلیکس کا فضائی منظر

منیٰ میں ایک اہم مقام مسجد البیعہ بھی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام میں پہلی بیعت ہوئی تھی۔ منیٰ کے تاریخی علامات میں سے ایک پہاڑی مرسلات ہے۔ یہ وہی پہاڑ ہے جس پر قرآن کریم کے 29 پارہ میں موجود سورۃ المرسلات نازل ہوئی۔

تاریخی مقامات میں "جبل ثبیر" بھی ہے۔ ثبیر کے نام سے اس پہاڑ کے دامن میں اب منیٰ کے مینار اور زائرین کے خیمے ہیں۔۔ پہاڑ ثبیر کا دامن وہ جگہ ہے جہاں ہمارے آقا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اور ہمارے آقا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کے بیٹے کی جگہ مینڈھا آگیا تھا۔

منیٰ میں "عین زبیدہ" کی توسیع بھی موجود ہے۔ اسی طرح یہاں پرانے کنوؤں کے ایک گروپ موجود ہے۔ ان کنوؤں میں سے ایک کنواں ’’ کدانہ‘‘ بھی ہے۔ منیٰ اپنے موسمی تاریخی بازاروں کی وجہ سے بھی مشہور رہا ہے۔ منی میں ہی "سوق العرب" یا عرب کا بازار لگایا جاتا تھا۔ اسے عرب کا بازار اس لیے کہا گیا تھا کیونکہ یہیں پر عرب زائرین 10 ذو الحج سے بازار لگاتے اور اپنی اپنی لائی گئی اشیا کی نمائش کرتے تھے۔ منیٰ میں وادی محسر اور شارع الجوہرہ بھی اہم مقامات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں