روس میں بغاوت

کیا روس میں واگنرکی بغاوت کے بعد جنرل سرویکین زیرِحراست ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

روس میں کرائے کی ملیشیا واگنر کی ناکام بغاوت کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین میں لڑنے والی روسی افواج کے ڈپٹی کمانڈر جنرل سرگئی سرویکین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس معاملے سے آگاہ دو افراد نے امریکی اور یوکرینی انٹیلی جنس کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنرل سرویکین کی حراست واگنر کی گذشتہ اختتام ہفتہ پر مختصر دورانیے کی بغاوت کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔البتہ یہ واضح نہیں کہ انھیں کس الزام کا سامنا ہے یا انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔

واگنر کے سربراہ ایوگینی پریگوزن نے ملک کی فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرویکین کے بارے میں مثبت بات کی تھی اور تجویز پیش کی تھی کہ انھیں جنرل ولیری گیراسیموف کی جگہ چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جانا چاہیے۔اسی ہفتے نیو یارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ جنرل سرویکین کو پریگوزن کے بغاوت کے منصوبے کے بارے میں پیشگی علم تھا۔

وائٹ ہاؤس اور کریملن نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔پریگوزن کے ساتھ طویل عرصے سے روابط رکھنے والے جنرل سرویکین کو بغاوت کے آغاز کے بعد سے منظرعام پر نہیں دیکھا گیا ہے۔انھوں نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں بغاوت کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔

ایک روسی فوجی بلاگر، ماسکو ٹائمز اور فنانشیل ٹائمز نے خبر دی ہے کہ جنرل سرویکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔وہ جو روسی فضائیہ کے کمانڈر بھی ہیں۔

اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کچھ اعلیٰ فوجی افسروں نے پریگوزن کے ساتھ ساز باز کی ہے اور اب انھیں بغاوت کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس مبیّنہ ساز باز کے نتیجے میں ماسکو کی طرف ایک ایسی بلا مقابلہ پیش قدمی ہوئی جسے صدرولادی میرپوتین نے غداری اور ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد حکام کے حکم پر بند کیے جانے والے ایک معروف آزاد ریڈیو اسٹیشن ایکو موسکوی کے سابق سربراہ الیکسی وینیڈیکتوف نے کہا کہ سرویکین اور ان کے قریبی ساتھی تین دن سے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں نہیں ہیں۔

فوجی پیغام رسانی کے ایک اور معروف چینل ریبار نے، جو وزارت دفاع کے ایک سابق پریس افسر کے ذریعے چلایا جاتا ہے،خبر دی ہے کہ فوجی صفوں میں تطہیر کا عمل جاری ہے کیونکہ حکام ان الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کچھ لوگ پریگوزن کا ساتھ دے سکتے ہیں۔

جنرل سرویکین کا تعلق پریگوزن سے اس وقت سے ہے جب دونوں شام میں سرگرم تھے، جہاں روس نے 2015 سے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو مضبوط کرنے اور تباہ کن خانہ جنگی میں ان سے چھینے گئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول میں ان کی مدد کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کررکھی ہے۔

پریگوزن نے گذشتہ ہفتے ہونے والی بغاوت سے قبل وزیر دفاع سرگئی شوئگو اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ولیری گیراسیموف کی توہین کی تھی اور ان دونوں کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن انھوں نے مسلسل سرویکن کی تعریف کی ہے اور انھیں گیراسیموف کی جگہ نامزد کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم ، جب بغاوت شروع ہوئی تو ، سرویکین نے بغاوت کو روکنے پر زور دیتے ہوئے ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔

رواں ہفتے کے اوائل میں نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ سرویکن کو بغاوت کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔اس رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اسے 'قیاس آرائی اور گپ شپ' کا حصہ قرار دیا۔

جمعرات کے روز پیسکوف نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا سرویکین کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدرپوتین اب بھی سرویکین پر اعتماد کرتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ صدرپوتین وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کے ساتھ کام کرتے ہیں اورانھوں نے افسروں سے متعلق سوالات وزارت دفاع کو بھیجے۔

انھوں نے جنرل سرویکین اور ان کی حیثیت کے بارے میں دیگر تمام سوالات بھی وزارت کو بھیجے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا صدرپوتین پریگوزن کے ساتھ تعلقات رکھنے والے فوجی عہدے داروں کو برطرف کرنا ضروری سمجھتے ہیں، پیسکوف نے کہا کہ ’’یہ مسئلہ میرا استحقاق نہیں، اور میرے پاس اس پر کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

سرویکین شام اور یوکرین میں اپنے سفاکانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے مغربی میڈیا میں 'جنرل آرماگیڈن' کے لقب سے مشہور ہیں۔انھیں گذشتہ موسم خزاں میں کیف کی فوری جوابی کارروائی کے دوران میں ماسکو کی پسپائی کے بعد روسی دفاع کو مضبوط بنانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔

موسم خزاں میں صدر پوتین نے انھیں یوکرین میں روسی افواج کی قیادت کے لیے نامزد کیا تھا اور انھوں نے یوکرین کے پاور پلانٹس اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو بمباری میں نشانہ بنانے کے لیے فوجی مہم کی قیادت کی تھی لیکن وہ یوکرین میں بجلی کی ترسیل روکنے میں ناکام رہے تھے۔

جنوری میں ولادی میرپوتین نے ان کی جگہ گیراسیموف کو یوکرین میں روس کی جنگ کا انچارج مقرر کیا تھا۔البتہ سرویکین کو گیراسیموف کے نائب کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔

واگنر گروپ کی ناکام بغاوت کے بعد گیراسیموف کی اپنی قسمت بھی واضح نہیں ہے۔اگرچہ وزیردفاع شوئیگو صدر پوتین کے ساتھ متعدد تقریبات میں نظر آئے ہیں جبکہ گیراسیموف پُراسرار طور پر غیر حاضر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں