پولیس فائرنگ سے پیزا ڈلیوری بوائے کی ہلاکت، فرانس میں ھنگامہ برپا

جاتے ہوئے نائل نے کہا ماں میں آپ سے پیار کرتا ہوں، ماں نے کہا اپنا خیال رکھنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس میں دار الحکومت پیرس کے قریبی علاقے نانٹیرے میں پولیس نے چیک پوائنٹ پر نہ رکنے کی پاداش میں فائرنگ کر کے سترہ سالہ لڑکے نائل کو مار دیا۔ اس المناک واقعہ پر پورے ملک میں ھنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

نائل کے وکیل نے ’’بی ایف ایم ٹی وی‘‘ پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ نائل محلے میں "بہت مقبول" تھا۔ رکنے سے انکار کرنے کے بعد ٹریفک چیک کے دوران اسے مار دیا گیا۔

نائل نانٹیرے میں پیزا ڈیلیوری کرتا تھا۔ نائل اپنی ماں کے ساتھ مقیم تھا اور اپنے والد کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔

نائل کی ماں نے بتایا کہ منگل کی صبح اس نے مجھے ایک بڑا بوسہ دیا اور کہا: ’’ماں میں آپ سے پیار کرتا ہوں‘‘۔ میں نے اسے کہا: ’’میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں، اپنا خیال رکھنا" اس کی ماں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مزید کہا "ایک گھنٹے کے بعد مجھے کیا بتایا گیا؟ میرے بیٹے کو گولی مار دی گئی، میں اب کیا کروں؟‘‘۔ ماں نے مزید کا "وہ میری زندگی تھی، وہ میرا بہترین دوست تھا، وہ میرا بیٹا تھا، اور وہ میرا سب کچھ تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا۔"

نائل جس رگبی کلب میں کھیلتا تھا۔ ان کلبوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ نے بتایا کہ لڑکا تین سال سے رگبی کھیل رہا ہے۔ وہ ایسا تھا جو سماجی اور پیشہ ورانہ طور پر فٹ ہونے کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ کوئی ایسا لاپروا لڑکا نہیں تھا جس نے چوری کی یا منشیات لی ہو۔ وہ ایک نوعمر تھا جو ہر بات غور سے سنتا اور آگے بڑھنے کے لیے پر عزم تھا۔

لڑکے کے خاندان کے وکلا نے کہا کہ نائل کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اسے کبھی بھی واضح طور پر قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔

اخبار "L'Express" کے مطابق تاہم نائل کے متعلق عدالتوں میں اس حوالے سے جانا جاتا تھا کہ وہ پولیس والوں کے احکامات ماننے سے انکار کر چکا ہے۔

منگل کی صبح وہ کرائے پر لی گئی مرسڈیز ’’ اے ایم جی‘‘ چلا رہا تھا اور اس کے پاس ڈرائیورنگ لائسنس نہیں تھا۔ دوسری طرف خاندان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف 17 سال کی عمر کے افراد کے ڈرائیونگ لائسنس پاس رجسٹر کیا ہے۔

نائل کی والدہ نے کہا جو کچھ ہو رہا ہے وہ میرے بیٹے کے لیے ایک انقلاب ہے۔

اس واقعے کے بعد ہونے والی پیشرفت میں فرانسیسی صدر میکرون نے جمعہ کو پیرس میں وزارتی بحران کے سیل کے ایک نئے اجلاس کی صدارت کی۔ فرانس میں مسلسل تیسری رات فسادات کے بعد صدر میکرون چاہے کچھ بھی ہو سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں