امریکہ کا یومِ آزادی: چار جولائی کے جشن، تہوار کی روایت اور تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ میں 4 جولائی کی تعطیل ان چیزوں سے عبارت ہے: پریڈ، گھر کا تیار شدہ کھانا پینا، ٹھنڈی یخ بیئر، اور بلاشبہ آتش بازی کے دلآویز مناظر۔

ان روایتی طور طریقوں کی وجہ سے یہ نہایت خطرناک تہوار بھی بن جاتا ہے۔ عموماً دس ہزار افراد کو طبیعت خرابی کی بنا پر ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے باوجود 247 سال پرانے اس تہوار کے موقع پر آتش بازی کے مناظر سب کی نگاہوں کا مرکز قرار پاتے ہیں۔

چار جولائی کے بارے میں پانچ دلچسپ معلومات درج ذیل ہیں، بشمول یہ کہ اس تعطیل کی ابتدا کیسے ہوئی اور آتش بازی کیسے اس کا حصہ بنی۔

امریکہ کے یوم آزادی کی ابتدا کیسے ہوئی؟

چار جولائی 1776 کو کانگریس نے آزادی کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق امریکہ کو برطانیہ سے آزاد ایک الگ ملک کا درجہ ملا۔

اس کے ایک سال بعد، کانگریس لائبریری کے مطابق، امریکہ کے یوم آزادی کے طور پر فلاڈلفیا میں اس دن کی یاد منائی گئی۔

تاہم ملک گیر اور عوامی سطح پر اس دن کو منانے کا آغاز 1812 کی جنگ کے بعد ہوا۔ یہ جلد مقبول ہو گیا: کانگریس لائبریری کے مطابق 19ویں صدی میں ایری جھیل، اور بالٹی مور اور اوہائیو ریل روڈ کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریبات کے لئے بھی چار جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔

آتش بازی، 4 جولائی کے تہوار کا حصہ کیسے بنی؟

یہ چار جولائی کے جشن کا اہم حصہ رہی ہے۔ بابائے قوم، جان ایڈمز نے اس کی پیش گوئی کی:

آئندہ ہمیشہ امریکہ کی آزادی کی سالگرہ نہایت شان وشوکت سے منائی جائے گی جس میں اس خطے کے ایک سرے سے دوسرے تک کھیل تماشے، گیمز، پریڈ، بندوقیں، گھنٹیاں، اور رنگ ونور دیکھنے کو ملے گا۔ ایڈمز نے یہ الفاظ اپنی اہلیہ، ابیگیل کو ایک خط میں 3 جولائی، 1776 کو لکھے۔

امریکہ کے ایک قوم بننے سے صدیاں پہلے آتش بازی کا وجود تھا۔ امریکہ کی پائرو ٹیکنیکس ایسوسی ایشن کے مطابق، کئی مؤرخین کو یہ یقین تھا کہ آتش بازی کی ابتدا قدیم چین میں دوسری صدی قبل مسیح میں ہوئی جس میں بانس کے ذریعے پھلجھڑیاں چھوڑی جاتی تھیں۔

15ویں صدی تک آتش بازی کو یورپ میں عوامی تفریح اور مذہبی تہواروں کے موقع پر وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا اور امریکہ میں ابتدا میں آباد ہونے والے لوگوں نے اس روایت کو جاری رکھا۔ یہ بات ایسوسی ایشن نے کہی۔

کیا کبھی کسی امریکی صدر نے جشن آزادی منانے سے انکار بھی کیا ہے؟

صدر جارج واشنگٹن سے لے کر جو بائیڈن تک ہر صدر نے یوم آزادی منایا سوائے ایڈمز کے۔

اہلیہ کو لکھے گئے خط سے قطع نظر، ایڈمز نے چار جولائی کا جشن نہیں منایا کیونکہ ان کے نزدیک آزادی کی درست تاریخ 2 جولائی تھی۔ کیوں؟ یہ 2 جولائی 1776 کا دن تھا جب کانٹینینٹل کانگریس نے قرارداد آزادی کے حق میں ووٹ دیا، اگرچہ اس کا اعلان دو دن بعد چار جولائی کو کیا گیا۔

ایڈمز اپنے مؤقف پر اس حد تک قائم رہے کہ انہوں نے امریکہ کا دوسرا صدر ہونے کے باوجود کئی ایسے تہواروں اور تقریبات میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ حسن اتفاق یہ ہے کہ ایڈمز اور تھامس جیفرسن جو اعلامیۂ آزادی کے بنیادی مصنفین تھے، ان دونوں کا انتقال 4 جولائی 1826 کو ہوا جب اس اعلامیے کی رسمی منظوری کی 50 ویں سالگرہ تھی۔

آتش بازی کی مقبولیت کتنی ہے؟

گذشتہ دو عشروں کے دوران آتش بازی کے سامان کی فروخت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکن پائرو ٹیکنیکس ایسوسی ایشن کے اعداد وشمار کے مطابق 2000ء میں امریکی صارفین نے آتش بازی پر 407 ملین ڈالر خرچ کیے۔ 2022ء تک یہ اعداد و شمار بڑھ کر 2.3 بلین ڈالر ہو گئے۔

سب سے زیادہ اضافہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران دیکھنے کو ملا جب آتش بازی کے عوامی مظاہرے پر پابندی تھی، تب فروخت کا ریکارڈ 2019ء میں ایک بلین سے بڑھ کر 2020ء میں 1.9 بلین ہو گیا۔

"آزادی کی سالگرہ کے دن لوگ صبح ہی سے آتش بازی کی دکانوں پر پہنچ گئے اور رکے نہیں۔" امریکن پائرو ٹیکنیکس ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جولی ہیک مین نے کہا۔ "وہ 2020ء کی تمام آتش بازی کی کسر پوری کرنا چاہتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بات نے ہماری صنعت کے افراد کو حیران کر دیا۔"

ایسوسی ایشن نے کہا، اس سال فروخت مزید سو ملین تک بڑھنے کی توقع ہے۔ یہ بات ہمارے لئے اور بھی مددگار ہو گی کہ اس دفعہ 4 جولائی کا دن منگل کو ہوگا جس سے ویک اینڈ چار دن کا ہو جائے گا۔

کیا آتش بازی خطرناک ہوتی ہے؟

وسیع پیمانے پر لوگوں کو آگاہی دینے کے باوجود ہر سال ہزاروں افراد آتش بازی سے بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں اور اس سال بھی ایسا ہی ہوگا۔

گذشتہ ہفتے کی رات کو کنساس میں کنساس سٹی کے مضافاتی علاقے، لیکسنگٹن ٹاؤن شپ میں آگ بجھانے والے اور طبی عملے کو بلایا گیا کیونکہ وہاں ایک شیڈ میں آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی۔عملے کے ارکان نے دیکھا کہ جلتے ہوئے شیڈ سے آتش بازی جاری تھی اور زمین پر کئی افراد آگ سے جھلسے ہوئے پڑے تھے۔

آگ بجھانے والوں، طبی عملے، اور مقامی پولیس کے افراد نے زخمیوں کو کھینچ کر محفوظ مقام پر پہنچایا اور چار افراد کو تو ہاسپٹل لے جایا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک تھی، یہ بات Northwest Consolidated Fire کے ضلعی چیف، ٹاڈ میکسٹن نے یہ بات اپنے بیان میں کہی۔

دی یو ایس کنزیومر سیفٹی کمیشن نے رپورٹ کیا کہ 2022ء میں 10٫200 افراد کا ایمرجنسی کمروں میں علاج کیا گیا اور آتش بازی 11 اموات کی وجہ بنی۔ ان میں سے تین چوتھائی واقعات 4 جولائی کے قریبی دنوں میں پیش آئے۔

ایک تہائی افراد کو سر، چہرے، کانوں، اور آنکھوں میں زخم آئے۔ انگلیوں، ہاتھوں، اور ٹانگوں کے زخم بھی عام دیکھے گئے۔

"میں نے ایسے لوگ دیکھے جن کی انگلیاں اڑ گئی تھیں۔" یہ بات سینٹ لوئس میں بارنس-جیوئش ہاسپٹل کی ڈاکٹر، ٹیفنی اوسبرن نے کہی۔ "میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور ایسے جن کو چہرے پر نمایاں زخم آئے۔"

آتش بازی سے زخمی ہونے والوں میں تقریباً ایک تہائی تعداد 15 سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے جلنے کی وجہ پھلجھڑیاں ہوتی ہیں۔ اوسبرن کے مطابق چھوٹے بچوں کو رنگ برنگی چیزیں دینی چاہئیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔

ہیک مین کی تجویز کے مطابق جو لوگ آتش بازی کو چلانا چاہتے ہیں، انہیں ایک سیدھی، سخت، اور ہموار سطح کا انتخاب کرنا چاہیے جو آگ پکڑنے والی چیزوں اور جگہوں سے دور ہوں۔ آتش بازی کرنے کے ذمے دار افراد شراب سے پرہیز کریں۔ چھوٹے بچے ان کو ہرگز آگ نہ لگائیں۔

اوسبرن آتش زدگی اور دھماکے سے بچنے کے لئے بالٹی یا اس جیسی کوئی چیز پاس رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ بیک وقت ایک چیز چلائیں اور آگ لگانے کے بعد فوراً دور ہٹ جائیں۔ انہوں نے کہا اور خراب آتش بازی کو نہ ہینڈل کریں اور دوبارہ بھی نہ چلائیں۔ جب یہ ختم ہو جائے تو باقی ماندہ آتش بازی کو ٹھکانے لگا دیں اور اس سے پہلے اسے پانی میں بھگو دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں