ایران میں ہونے والے مظاہرے، آزادی صحافت کے حوالے سے سیاہ ترین دن تھے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

خواتین کے لباس سے متعلق سخت ایرانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کی گئی خاتون، مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کی ایک بڑی لہر اٹھی جس کے بعد ایران ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو آزادی صحافت کے حوالے سے دنیا میں سب سے زیادہ ظالمانہ پوزیشن کا حامل قرار پایا۔ اس امر کا اظہار ایران میں آزادی صحافت سے متعلق مختلف ماہرین اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

انسانی حقوق کے ایرانی نژاد کارکن اور ایرانی-امریکن کمیونٹیز کی تنظیم (OIAC) کے پولیٹیکل ڈائریکٹر، ڈاکٹر ماجد سادیخ پور نے العربیہ کو بتایا کہ 16 ستمبر 2022ء کو امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کو تقریباً 10 ماہ ہو گئے ہیں جس بعد ایران کی حیثیت بھی اب صحافیوں کے لئے دنیا کے سب سے بڑے جیلوں میں سے ایک کی ہے۔

ایک خاتون، ایرانی مہسا امینی کی تصویر والے پلے کارڈ کے ساتھ ان کی موت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شریک ہے۔ (اے پی فوٹو/مارکس شریبر، فائل)
ایک خاتون، ایرانی مہسا امینی کی تصویر والے پلے کارڈ کے ساتھ ان کی موت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شریک ہے۔ (اے پی فوٹو/مارکس شریبر، فائل)

"ایران کو آزادی صحافت کے اعتبار سے مستقلاً سب سے زیادہ ظالمانہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ حکومت ازخود ناجائز اور غیر قانونی طریقے سے بنائی ہے، اسے طاقت کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور ایرانی عوام کی بھاری اکثریت نے اسے مسترد کر دیا ہے۔" انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی 2023 کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں ایران کو آزادی صحافت کے اعتبار سے دنیا بھر میں 180 میں سے 177 ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ معلومات کی آزادی کے خلاف پہلے ہی شدید جبر وتشدد کا ماحول تھا، اور صحافیوں کو گرفتاریوں، تفتیش، قید وبند، نگرانی، ہراسانی، اور دھمکیوں کا سامنا تھا، لیکن پولیس کی تحویل میں امینی کی موت کے بعد یہ جبر اور زور زبردستی مزید نمایاں ہو گئی۔

ترکی میں مقیم ایرانی کمیونٹی کے ارکان 13 دسمبر 2022ء کو استنبول، ترکی میں مہسا امینی کی موت کے بعد ایرانی خواتین کی حمایت میں ایک احتجاج میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)
ترکی میں مقیم ایرانی کمیونٹی کے ارکان 13 دسمبر 2022ء کو استنبول، ترکی میں مہسا امینی کی موت کے بعد ایرانی خواتین کی حمایت میں ایک احتجاج میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)

کئی خواتین سمیت 70 سے زائد صحافی گرفتار ہوئے، کیونکہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کو روکنے کی کوششوں میں حکام کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا کہ آزادی صحافت اور ایران میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں ایرانی حکومت کا ریکارڈ سیاہ اور باعث ندامت ہے جس کی "بین الاقوامی تنظیموں کو مذمت کرنی چاہیے۔"

"ایران میں صحافیوں اور اخباری رپورٹرز پر کیے گئے ظلم و ستم کا حکومت سے حساب لیا جائے۔" انہوں نے العربیہ کو بتایا۔ "ایران کی حکومت کئی عشروں سے [صحافیوں کو حراست میں لیتی رہی ہے] اور اس وقت صحافیوں کی سب سے بڑی جیلوں میں سے ایک ہے۔"

ایرانی صحافی نیلوفر حامدی (بائیں) اور الٰہ محمدی (دائیں) کو ایران نے ستمبر 2022ء میں مہسا امینی کی موت کی کوریج کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ (ٹویٹر)
ایرانی صحافی نیلوفر حامدی (بائیں) اور الٰہ محمدی (دائیں) کو ایران نے ستمبر 2022ء میں مہسا امینی کی موت کی کوریج کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ (ٹویٹر)

اگرچہ ایران کے آئین کی شق 24 "ممکنہ طور پر آزادی صحافت کو یقینی بناتی ہے"، لیکن صحافیوں کو کئی عشروں سے اس الزام میں قید اور قتل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلامی جمہوریہ کو خطرے میں ڈالا یا غلط معلومات پھیلائیں۔ انہوں نے کہا۔

’خواتین صحافی ایک خصوصی ہدف‘

ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا کہ جب صحافیوں کا معاملہ آتا ہے تو ایرانی حکومت قلم چلانے والی خواتین سے زیادہ سخت طریقے سے پیش آتی ہے۔ ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا۔ "معاشرے کے کسی بھی دوسرے شعبے کی طرح صحافت میں بھی خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ستمبر 2022ء کے بعد سے قیدوبند اور تفتیش جیسے ظالمانہ ریاستی اقدامات میں شدت آئی ہے۔

ایک ایسی ہی مثال صحافی مریم واحدین کی ہے۔ مئی 2023 میں، تہران کی انقلابی عدالت کی شاخ 26 نے واحدین کو چار سال قید کی سزا سنائی۔ "قومی سلامتی میں خلل پیدا کرنے" کے الزام میں ان پر پہلے بھی مقدمہ چلایا اور قید کیا گیا تھا۔ فیصلہ پانچ سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

08 اگست 2003ء کو 'جرنلسٹ ڈے' کے موقع پر ایک روزہ ہڑتال کے دوران ایرانی صحافی، ایرانی-کینیڈین فری لانس فوٹوگرافر زہرہ کاظمی (تصویر) کے لیے شمعیں روشن کر رہے ہیں جو تہران میں زیر حراست انتقال کرگئیں۔ (اے ایف پی)
08 اگست 2003ء کو 'جرنلسٹ ڈے' کے موقع پر ایک روزہ ہڑتال کے دوران ایرانی صحافی، ایرانی-کینیڈین فری لانس فوٹوگرافر زہرہ کاظمی (تصویر) کے لیے شمعیں روشن کر رہے ہیں جو تہران میں زیر حراست انتقال کرگئیں۔ (اے ایف پی)

مریم کی ساتھی ایرانی صحافی سرویناز احمدی کو ستمبر اور نومبر 2022ء کے درمیان دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ یہ کارروائی ریاست مخالف مظاہروں کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا حصہ تھی۔ 12 مارچ 2023ء کو، صوبہ تہران کی نظرثانی عدالت کی برانچ 36 نے احمدی کو "قومی سلامتی میں خلل پیدا کرنے" کے جرم میں ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی۔

ماحولیات کی رپورٹنگ کرنے والی ایک رپورٹر، زینب رحیمی کو ایران کے محکمہ ماحولیات میں تعلقات عامہ کے ایک ڈائریکٹر پر تنقید کرنے پر برطرف کر دیا گیا۔ (فراہم کردہ)
ماحولیات کی رپورٹنگ کرنے والی ایک رپورٹر، زینب رحیمی کو ایران کے محکمہ ماحولیات میں تعلقات عامہ کے ایک ڈائریکٹر پر تنقید کرنے پر برطرف کر دیا گیا۔ (فراہم کردہ)


کمیٹی ٹو پروجیکٹ جرنلسٹ (CPJ) نے ایک گمنام ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ٹوئٹر پر امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کی کوریج کی اور انہیں پہلے گرفتار کیا گیا اور مظاہرے شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔

مئی میں خاتون صحافی نیلوفر حامدی کے خلاف بھی مقدمہ شروع ہوا جنہوں نے تہران کے ایک اسپتال میں امینی کے والدین کی ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئے تصویر کھینچی تھی جہاں ان کی بیٹی کوما میں پڑی تھی۔ یہ تصویر، جسے حامدی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا، دنیا کے لیے پہلا اشارہ تھا کہ امینی کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں تھا، جسے تین دن قبل ایران کی اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے مطابق وہ نامناسب لباس میں ملبوس تھیں۔

ساتھی خاتون صحافی الٰہ محمدی کے ساتھ انہیں بھی الزامات کا سامنا ہے۔ الٰہ محمدی نے اپنے کرد آبائی شہر ساقیز میں امینی کی تدفین کی کوریج کی، جہاں سے احتجاج شروع ہوا۔

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے اکتوبر میں محمدی اور حامدی پر سی آئی اے کی غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

2019 میں، کولیشن فار ویمن ان جرنلزم (CFWIJ) نے رپورٹ کیا کہ کس طرح ایران دنیا میں خواتین صحافیوں کا سب سے بڑا جیلر بن گیا ہے۔ ایرانی محکمہ انصاف کی تقریباً 1.7 ملین لیک شدہ دستاویزات کے حوالے سے، ایران نے 1979 سے 2009 کے دوران کل 860 صحافیوں کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار شدگان میں خواتین صحافیوں کی تعداد 218 تھی۔

سی ایف ڈبلیو آئی جے نے اس وقت کہا تھا کہ اس لیک شدہ دستاویز نے "ایران کے صحافیوں پر وحشیانہ تشدد اور کریک ڈاؤن کے کئی عشروں پر محیط ریکارڈ کو بے نقاب کیا ہے،" اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ منظر نامہ بھی کوئی مختلف نہیں ہے، کیونکہ کئی خواتین صحافیوں کو اسلامی جمہوریہ کی بدنام زمانہ جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق، کئی خواتین سمیت 70 سے زائد صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، کیونکہ حکام کی جانب سے ملک میں جاری بغاوت کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈاکٹر سودیخ پور نے کہا کہ ایسے بہت سے صحافیوں کا پتہ نشان معلوم نہیں ہے۔

ایران میں 2022ء کی بغاوت سے پہلے اور اس کے بعد بیرون ملک مقیم ایرانی صحافی تک دباؤ کا شکار ہیں جن میں آن لائن ہراسانی سے لے کر قتل کی دھمکیاں تک شامل ہیں۔

ایک اور اچھے طریقے سے تیار کردہ کیس میں ایک ایرانی-کینیڈین صحافی زہرہ کاظمی شامل ہیں، جنہیں 23 جون 2003ء کو تہران کی ایون جیل کے باہر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایون قیدیوں کے اہل خانہ کے اجتماع کی تصاویر لے رہی تھیں۔

ابتدائی رپورٹس اور شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی موت دوران حراست شدید تشدد اور بالخصوص سر پر ضرب لگنے سے ہوئی ہے۔"

تاہم، ایرانی حکام نے حقیقت کو چھپایا اور تحقیقات کو غلط راستے پر لگایا تاکہ دوہری شہریت کی حامل صحافی کی دوران حراست موت کے تنازعہ کو ختم کیا جا سکے۔" ڈاکٹر سادیخ پور نے واضح کیا۔

16 جولائی 2003ء کو اعلان کیا گیا کہ زہرہ کاظمی کی موت برین اسٹروک کی وجہ سے ہوئی۔ تاہم بعد میں ہونے والے انکشافات سے پتہ چلا کہ درحقیقت تہران کے پراسیکیوٹر، سعید مرتضوی نے زہرہ کاظمی کو تفتیش کے دوران ہی قتل کیا تھا۔

ایسی اور مثالوں میں ایک صحافی اور رپورٹر، ندا صبوری شامل ہیں جو مارچ 2014ء میں ایون جیل کے وارڈ 350 میں قیدیوں پر اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے حملے کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئی تھیں۔ حکومت کے خلاف اتحاد بنانے کے الزام میں انہیں ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

انٹیلی جنس وزارت کے ایجنٹوں نے 2016ء میں بورنا نیوز ایجنسی کی صحافی اور سماجی ایڈیٹر طاہرہ ریاحی کو بھی گرفتار کیا۔ ان پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا الزام تھا۔ ایون جیل سے اپنی آخری کال میں، انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ وہ ان کا مزید انتظار نہ کریں۔

ہمارے سامنے ایک اور مثال زینب رحیمی کی ہے۔ ایسوسی ایشن ڈیفنڈنگ ​​فریڈم آف دی پریس کی سربراہ، علییہ مطلب زادہ کو اکتوبر 2020ء میں ایون جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ فوٹوگرافر اور حقوق نسواں کی اس کارکن کو تین سال قید کاٹنا پڑی ہے۔

"یقیناً یہ چند ایک ہی مثالیں ہیں،" ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا۔ "ایران میں متعدد غیر ملکیوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے جن میں سے زیادہ تر دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ مئی 2018 میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی جس کے بعد کئی وجوہات کی بنا پر ان کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا کہ ایران میں حراست میں لیے گئے صحافیوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی سطح پرکوششیں کی گئی ہیں لیکن کسی مثبت تبدیلی کی امید بہت کم ہے۔

"جب تک اسلامی جمہوریہ، اسلامی بنیاد پرستی کا مرکز رہے گا، تب تک پریس اور آزادی کی دوسری صورتوں کے حوالے سے بہت کم پیش رفت کی امید ممکن ہے۔"

"اسی طرح، ملاؤں کی حکومت منفی طور پر ہمسایہ ممالک اور مشرق وسطیٰ کو متأثر کرتی رہے گی، جس میں خواتین، صحافیوں، اور خطے میں سیکولر آوازوں کے خلاف تشدد کے معاملات بھی شامل ہے۔"

ڈاکٹر سادیخ پور نے کہا کہ ایران میں صحافیوں، خاص طور پر خواتین صحافیوں کے ساتھ ظلم و ستم کی شدت اور ساتھ ہی ایران میں مظاہروں کا تسلسل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ حکومت کی "کمزوری ہے، نہ کہ طاقت" اور یہ کہ ایرانی معاشرے کے اندر ایک "مضبوط مزاحمتی میٹرکس" موجود ہے جو تہران میں ملاؤں کی حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہتا ہے۔

"مغربی اور علاقائی پالیسیاں، جن کا مقصد حکمران ملاؤں کی شمولیت ہے، تاہم وہ ہمیشہ بنیادی مسائل کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں یعنی: ایران میں ایک قرون وسطیٰ کا اور توسیع پسندانہ نظام حکومت ہے جسے ایرانی عوام کی بھاری اکثریت نے مسترد کر دیا ہے۔" انہوں نے کہا۔ "اس طرح، تہران کی حکومت کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی اقوام کی شمولیت ہمیشہ ہی آیت اللّٰہ کی جارحانہ فطرت سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔"

"اس میں حکومت کا اپنے شہریوں کے خلاف تشدد، اس کی دہشت گردی اور جوہری ہتھیاروں کو ترقی دینا شامل ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ رپورٹ شدہ بات چیت سمیت ان پالیسیوں نے جو کچھ کیا ہے اور کرتی رہیں گی، وہ حکومت کو باحوصلہ اور بااختیار بنانا ہے - اس کے نتیجے میں ایران کے اندر آزادیوں میں مزید کمی اور بیرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔"

ڈاکٹر سودیخ پور نے ایرانی حکومت کو قرون وسطیٰ کی آمریت قرار دیا جسے ایرانی عوام حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ (حکومت) کوئی تبدیلی لانے سے قاصر ہے۔

"جوہری ہتھیاروں کے خطرے، دہشت گردی، یا صحافیوں پر ظلم سمیت خطے میں کشیدگی کے مسائل اس وقت تک کم نہیں ہوں گے جب تک تہران میں (ملاؤں کی) حکومت ہے۔"

"اس منظر کو تبدیل کرنے کے لیے، بین الاقوامی برادری کو آیت اللّٰہ کو خوش کرنا بند کرنا چاہئیے اور اس کے بجائے اس کا عندیہ ایرانی عوام سے لینا چاہئیے جو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، اور اس مضبوط ایرانی مزاحمت سے جو مؤخر الذکر یعنی حکومت کے خاتمے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، اور ان بہادر صحافیوں سے جو لوگوں کی جمہوری اقدار کی عکاسی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں