قدرتی تبدیلیوں سے تشکیل پانے والی وادی لجب سیاحوں کی جنت کہلاتی ہے

سعودی فوٹو گرافر محمد المواسی نے لجب کا دورہ کیا اور بارش کے بعد وادی کے قدرتی حسن کی عکس بندی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان کی گہری تنگ پہاڑی وادی ’لجب‘ ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ موسم گرما میں ویسے بھی سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں اور اس کے پہاڑوں، چشموں، آبشاروں اور ان پر بچھے تا حد نگاہ سبزے کے بچھونے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اپنی قدرتی دلکشی اور حسن کی بہ دولت یہ وادی سیاحوں کی جنت کہلاتی ہے۔

حالیہ ایام میں جازان میں ہونے والی بارشوں نے ’وادی لجب‘ کی دلکشی اور قدرتی حسن کو چار چاند لگا دیے۔ بارش کی وجہ سے ہر سو پانی کے چشمے ابل پڑے اور پہاڑیوں سے آبشاروں کے جھرنیں پھوٹ نکلے۔ الریث گورنری کے جبل شقرا اور جبل القہر کے درمیان اس وادی کا جادوئی حسن مزید دلکش ہوگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وادی ہزاروں سال قبل پہاڑوں میں پڑنے والی دراڑوں اور قدرتی تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔

سعودی عرب کے فوٹو گرافر ’محمد المواسی‘ نے حال ہی میں وادی لجب کا وزٹ کیا جہاں انہوں نے وادی کے دلکش مناظر کی عکس بندی کرکے انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔

سوشل میڈٰیا پر پوسٹ کی گئی وادی لجب کی چوٹیوں، آبشاروں اور چشموں کے مناظرکو سراہا جا رہا ہے۔ سیکڑوں میٹر بلند پہاڑی چوٹیاں قدرت کا حسین شاہکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وادی لجب جازان کے علاقے میں سب سے خوبصورت سیاحتی مقامات اور اہم ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں پر تعطیلات اور اختتام ہفتہ کے دوران سیاحوں کا رش لگ جاتا ہے۔

المواسی نے نشاندہی کی کہ یہاں پر کافی کے درخت جو پیداوار کے لحاظ سے الگ الگ کھیتوں میں اگائے جاتے ہیں اس جگہ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ آبشاروں کی وجہ سے یہ وادی بارش کے موسم میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔

انہوں نے سیاحوں کو اس پہاڑی کے خطرناک ہونے کے حوالے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ مہم جوئی کےشوقین حضرات اس پہاڑی پر چڑھنے اور اترنے میں احتیاط برتیں۔

قابل ذکر ہے کہ وادی لجب الریث گورنری میں جبل القہر (زھوان) کے مشرقی حصے میں ایک شگاف نما علاقہ ہے جو جازان شہر کے شمال مشرق میں 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ سب سے اہم اور نمایاں سیاحتی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پر سال بھر خطے اور مملکت کے دیگر خطوں سے آنے والے سیاح سیر کے لیے آتے ہیں۔

وادی کی تاریخ افریقی اضطراب کے وقوع پذیر ہونے کے دور سے ہے جہاں ابھرتے ہوئے پہاڑ بہت سخت چٹانوں کے ساتھ نمودار ہوئے جو چٹانوں کی ساخت اور رنگ کے لحاظ سے ہمسایہ پہاڑوں سے مختلف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں