اسنیپ چیٹ سعودی عرب میں کیوں مقبول ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسنیپ چیٹ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اسنیپ چیٹ کی مقبولیت ملک کے "سماجی تانے بانے کی توسیع" ہے۔

سوشل میڈیا کی یہ ایپ صارفین کو ایسے پیغامات ، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کی اجازت دیتی ہے جو دیکھنے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔یہ سب عمل کسی 'لائک' یا تبصرے کے سیکشن کے بغیرہوتا ہے اور اس طرح صارفین کی نج کی زندگی کا پورا پورا تحفظ کیا جاتا ہے۔

اسنیپ چیٹ کے یورپ، مشرق اوسط اور افریقا کے صدر رونان ہیرس کے مطابق، اسی بنا پر یہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ مقبول ایپس میں سے ایک ہے۔اس کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد دو کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔یہ تعداد مملکت کی 68 فی صد آبادی کے برابر ہے جو مہینے میں کم سے کم ایک بارضرور اس ایپ کا استعمال کرتی ہے۔

ہیرس نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پلیٹ فارم کی مقبولیت کا ایک حصہ اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کس طرح سعودی ثقافت کو متاثر کرتا ہے، جو خاندانی اقدار اور رازداری کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’آپ ایک ایسی جگہ بنانا چاہتے ہیں جہاں آپ کی سب سے زیادہ ذاتی اور اہم بات چیت ان رشتوں کے ساتھ ہو،جن کی آپ سب سے زیادہ پروا کرتے ہیں، آپ یہ محسوس نہیں کرنا چاہتے کہ کوئی آپ کے کندھے پر نظر رکھے ہوئے ہے یا اس کا خطرہ بھی ہے‘‘۔

سعودی عرب میں ایپ کی بڑے پیمانے پر مقبولیت کے بارے میں پوچھے جانے پر ہیرس نے کہا: "میرے خیال میں اس کا ایک ثقافتی پہلو ہے، اور میرے خیال میں کمیونٹی اور خاندان ہمیشہ سے سعودی عرب میں ثقافت کے لیے بہت بنیادی اقدار رہے ہیں، اور اسنیپ چیٹ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ آتے ہیں اور ان لوگوں سے تعلقات کو فروغ دیتے ہیں جو ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔اس طرح آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ معاشرے کے سماجی تانے بانے کی توسیع ہے اور اس جگہ لوگ ان تعلقات کو تلاش کرنے کے لیے آتے ہیں‘‘۔

ہیرس نے کہا کہ اسنیپ چیٹ استعمال کرنے والے سعودیوں کی ایک بڑی تعداد بالغوں کے علاوہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ایپ کے قریباً 60 فی صد صارفین 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔

صارفین کی ذاتی زندگی پر توجہ مرکوز کرنے والی کمپنی کے لیے ایک چیلنج تھرڈ پارٹی ایپس ہیں جو لوگوں کو کچھ سکیورٹی خصوصیات کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتی ہیں ۔بشمول صارفین کو مطلع کرنا کہ آیا کسی نے اسکرین شاٹ لیا ہے یا ان کے پیغامات محفوظ کیے ہیں۔

ہیرس کا کہنا تھا کہ ’’یہ بلی اور چوہے کا مسلسل کھیل ہے، پالیسی کے نقطہ نظر سے، یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کی ہم اجازت دیتے ہیں، اور جب بھی ہم اس کا سامنا کریں گے یا اسے پائیں گے تو ہم اسے روکیں گے اور اس سے نمٹیں گے‘‘۔

خطے میں اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھانے کے لیے اسنیپ چیٹ اس سال الریاض میں ایک تخلیق کاراسٹوڈیو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے،وہاں مواد کی تخلیق اور اس سے دولت کمانے کی تربیت دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں