گذرتے وقت کے ساتھ ترقی پاتا تسبیح سازی کا ہنر دین و معاشرتی اقدار کی شناخت کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسلامی معاشروں میں عبادات کے لیے جہاں دعاؤں اور تسبیحات کو خاص مقام حاصل ہے وہیں بعض مذہبی مواقع پر مختلف خوشنما رنگوں اور موتیوں والی "تسبیح" کا استعمال بے حد بڑھ جاتا ہے۔

حج، عمرہ اور عیدین کے موقعے پر اسے بطور خاص تحفے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور رمضان المبارک میں مذہبی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ قدیم ترین ادور میں بھی استعمال کی جاتی تھی، لیکن زیادہ تر ذہنوں میں اس کا تاریخی تعلق صرف اسلام سے جڑتا ہے۔

ماضی میں اگرچہ تسبیح کے استعمال کا آغاز خالصتاً مذہبی مقصد کے ساتھ ساتھ گنتی اور شماریات کے لیے ہوا تھا، لیکن موجودہ وقت میں اسے بے شمار اور مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مثلا خاص قسم کے جواہرات سے بنی تسبیح کو بعض لوگ سماجی حیثیت کی علامت یا اظہار کے لیے لازمی سمجھتے ہیں۔ اسے گھروں میں سجاوٹ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، بعض لوگ نایاب تسبیحوں کو ذخیرہ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ تسبیح بہت سے عرب ممالک میں ثقافتی ورثے، رسم و رواج اور روایات کا حصہ سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر خطہ شام اور خلیجی ممالک میں۔

مختلف مذاہب میں تسبیح کا استعمال

کئی ایسے تاریخی حوالے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تسبیح یا مالا اسلام سے پہلے کے دور میں بھی مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں معروف تھی۔

محققین کا خیال ہے کہ یہ ہار کی ارتقائی صورت ہے۔ کچھ محققین نے اسے مذہبی استعمال سے جوڑا ہے، بعض تاریخی مطالعوں میں اس کا تعلق قیمتی پتھروں کو جمع کرنے سے جڑتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ، مشرقی اور مغربی تہذیبوں کا ایک دوسرے سے اختلاط ہونے لگا جیسے شام میں فونیشین تہذیب اور رومی تہذیب کا غلبہ ہوا، اور ہاروں نے موجودہ شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔ اسلام کی آمد کے بعد اسے "تسبیح" کا نام دیا گیا اور یہ مذہبی عبادات اور گنتی کے لئے استعمال ہونے لگی۔

آثار قدیمہ اور ان پر بنے نقش و نگار بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ بہت پہلے مراقبے اور عبادات میں تسبیح کا استعمال کرتے تھے۔

معروف مصنف بکر بن عبداللہ ابوزید (وفات ١٤٢٩ه) نے اپنی کتاب "تسبیح ، تاریخ اور احکام" میں کئی تاریخی شواہد پیش کیے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تسبیح ازمنہ قدیم میں مختلف مذاہب میں استعمال کی جاتی تھی۔ ہندوستان اور مغربی ایشیا کے قدیم مذاہب جیسے ہندومت اور بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاں مالا کے استعمال کے بہت سے حوالے موجود ہیں۔ ان کے ہاں اسے "جاپ مالا" کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اس کے موتیوں کی تعداد ہندوؤں کے مختلف فرقوں کے اعتقاد کے مطابق برجوں، ستاروں اور سیاروں کے برابر ہوتی تھی۔ ابتدائی عیسائی دور میں عیسائیوں کے درمیان تعارف کے لیے صلیب کے بجائے روزری کا استعمال کیا جاتا تھا۔

قدیم یہودیت میں، تسبیح کو "قبالہ" کی رسومات میں خاص مقام حاصل تھا۔ فلسفہ کائنات سے وابستہ مذہبی رسومات، جنہیں "ماہ برکوت" کہا جاتا ہے، یعنی "سو نعمتیں"۔ اس موقع کی مناسبت سے 100 مرتبہ تسبیح کو پڑھا جاتا تھا۔

قدیم تہذیبوں میں "مالا" بد روحوں کو بھگانے اور لوگوں کو نظر بد اور شیطانوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک علامت اور طلسم کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔ بعض لوگوں کا اعتقاد تھا کہ اسے دھو کر اس پانی کو پینے سے لاعلاج بیماریوں سے شفا ملتی ہے۔

اسلام کے ابتدائی ایام میں تسبیح کو مروجہ شکل میں استعمال نہیں کیا جاتا تھا، ابتدائی مسلمان، انگلیوں کی پوروں ، کنکریوں ، کھجور کی گٹھلیوں اور دھاگوں کی گرہ کے ذریعے شمار کرتے تھے۔ مورخین کے مطابق مسلمانوں کے ہاں اس کا استعمال دوسری صدی ہجری میں عام ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے اور تسبیح کا تعلق لازم و ملزوم تصور ہونے لگا۔

تسبیح سازی

تسبیح کی تیاری کے لیے مختلف اشیاء کا استعمال ہوتا ہے اور اسی حساب سے ان کی قیمتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔

ان میں سے کچھ پلاسٹک یا شیشے سے بنائی جاتی ہیں۔ بعض قیمتی دھاتوں اور جواہرات مثلا ہیرا، زمرد اور مرجان اور نورالصباح وغیرہ کو تراش کر بنائی جاتی ہیں۔

نامیاتی عناصر سے بنی تسبیحات میں عنبر کی تسبیح کافی مقبول ہے۔

صنعتی طریقے سے تیارکردہ موتیوں کے لیے سب سے اہم "فاتوران" ہے، جس سے بنی تسبیح سب سے مہنگی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امبرائٹ کااستعمال بھی عام ہے۔

زیتون کے بیجوں، اور صندل سے بھی تسبیحات بنائی جاتی جن کی بناوٹ اورخوش بو سے ماہرین کو ان کی قدامت اور قیمت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

عرب ممالک میں تسبیح کی صنعت

تسبیح ہمیشہ سے مسلمان ممالک کے لیے عقیدت اور دلچسپی کا باعث رہی ہے، اس لیے یہ کہنا بے جا نہیں کہ انہوں نے اس کی تیاری میں کمال حاصل کیا۔

عرب ممالک خصوصا خلیجی خطہ تسبیح کی بڑی منڈیاں ہیں۔ ان ممالک میں بڑی بڑی مارکیٹیں ہیں جو صرف تسبیح کے کاروبار کے لیے مخصوص ہیں جیسے کہ بحرین میں منامہ مارکیٹ اور کویت میں روایتی مبارکیہ مارکیٹ، مصر میں خان الخليلي، عراق میں بغداد، كاظمية اور كربلاء، اسی طرح تركيہ، شام ، ايران اور اردن بھی تسبیح کی فروخت کے لیے کافی مشہور ہیں۔

مصر تسبیح کی تیاری کے لیے ایک فعال مارکیٹ ہے۔ افرادی قوت اور مختلف قسم کے خام مال کی دستیابی کی وجہ سے اس کی مصنوعات کی قیمت بھی کم ہوتی ہے۔ یہ شمالی افریقہ میں تسبیح سازی کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

مصر سے ذرا پرے افریقہ ہی میں جمہوریہ کانگو اور تنزانیہ میں ہاتھی دانت سے تسبیحات بنائی جاتی ہیں۔

بعض ممالک اپنی مخصوض تسبیحات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔جیسےکہ کویت عنبر اور فیروزہ جڑی سیاہ مرجان کی تسبیحات کے لئے مشہور ہے۔ شامی تسبیح زیادہ تر سیاہ مرجان سے بنائی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں اصلی موتیوں سے بنی تسبیحات پائی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہیرے، نیلم، یاقوت اور زمرد جیسے قیمتی پتھر بھی تسبیح سازی میں استعمال ہوتے ہیں۔

قیمتی دھاتیں جیسے چاندی اور سونا، جانوروں کی ہڈی، ہاتھی دانت، اور آبنوس کی لکڑی کو بھی تسبیح بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خلیجی ممالک میں عنبر کی سب سے زیادہ مانگ ہے جو ایک قدرتی مادہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر صنوبر کے درخت سے سے نکلنے والی گوند ہوتی ہے جو برسوں گزرنے کے بعد یہ ایک ٹھوس مواد کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہ جتنا پرانا ہوگا، اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

عنبر کا ایک گرام بعض اوقات ایک گرام سونے سے زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ، وزن اور عمر بھی تسبیح کی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں، ایک تسبیح کی قیمت بعض اوقات 56 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

عنبر عام طور پر سنہری پیلا، گہرا پیلا ، بھورا اور سیاہ رنگ میں ہوتا ہے۔

تسبیح کی قیمت پر ایک اور اہم عامل جو اثر انداز ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خام مال کن ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

جرمن عنبر کو اس کے رنگ اور شفافیت کی وجہ سے بہترین قسم سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد پولش عنبر کی زیادہ مانگ ہوتی ہے، اور پھر بالٹک ممالک سے حاصل کیے جانے والے عنبر کو پسند کیا جاتا ہے۔ تسبیح کی قیمت اس میں رنگوں کے اختلاط پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

رنگ ، خوشبو اور خوبصورتی کے علاوہ، عنبر مستقبل کے لیے ایک منافع بخش سرمایہ ہے، کیونکہ عمر بڑھنے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا رنگ گہرا ہونے لگتا ہے۔ اور یہ زیادہ خوبصورت ہوجاتا ہے، مالک اسے بیچنا چاہے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

تسبیح کی صنعت اب صرف عام لکڑی تک محدود نہیں رہی بلکہ دیگر غیر معمولی اور بیش قیمت مواد کے استعمال کے علاوہ اسے اختراعی شکلوں اور ڈیزائنوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ اب دنیا بھر میں لاکھوں ڈالر کی صنعت ہے۔

مگر اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تمام زمانوں، تہذیبوں ، اقوام وممالک اور مذاہب میں تسبیح کو عبادات میں اہم مقام دیا جاتا ہے قطع نظر اس کے کہ اس کی مادی حیثیت کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں