سعودی علاقہ ’’ العلا‘‘سیاحتی مقام میں تبدیل، مقامی آبادی میں بھی تبدیلی آرہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کا تاریخی علاقہ ’’ العلا‘‘ دنیا کے اہم سیاحتی مقام میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ مقامی آبادی بھی خود کو علاقے میں ہونے والی عالمی نوعیت کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرتی جارہی ہے۔

سعودی عرب کے ‘‘ ویژن 2030‘‘ کے تحت العلا کو دنیا کی سیاحت کا بڑا مقام بنایا جارہا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس ویژن کے تحت العلا میں نوجوان بھی تیزی سے تبدیلی اپنا رہے ہیں۔

ملک کا یہ شمالی حصہ کبھی ایک خوابیدہ بستی تھا تاہم اب یہ علاقہ لگژری ہوٹلوں، ریستورنٹس اور عجائب گھروں کے لیے ایک ہاٹ سپاٹ بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس سے علاقے کے شاندار ثقافتی ورثے کے شاندار قدرتی مناظر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ یہاں 2 ہزار سال قدیم چٹانوں کو کٹ کر بنائے گئے الحجر کا مقبرے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

مقامی شہری سالم علینزی نے ’’العربیہ انگلش‘‘ سے گفتگو میں علاقے کے عروج کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور کہا کہ اس علاقے کو بیرونی دنیا سے برسوں سے نظر انداز کر رکھا تھا۔ تاہم اب اس قصبے کے حوالے سے جوش و خروش بڑھ رہا ہے۔

21 سالہ سالم نے بتایا وہ یہاں ٹور گائیڈ کے طور پر کام کرتا ہے اور جولائی 2017 میں رائل کمیشن برائے العلا کے قیام سے پہلے کبھی کسی غیر ملکی سے نہیں ملا تھا۔ طیبہ یونیورسٹی کے انگریزی کے طالب علم کو وہ لمحہ یاد ہے جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے العلا کو بین الاقوامی سیاحتی مقام بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

سالم نے کہا ہم سب حیران تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ العلا ورثے کے لیے مشہور ہے۔ اس کی قدیم تاریخ ہے لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی اور کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی ۔

جب ہم اس علاقے کے پہاڑوں اور دیگر خوبصورت مناظر کو دیکھتے تو ہمیشہ کہتے کہ یہ ایک مشہور شہر بننے والا ہے لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں یہ ایک چھوٹے سے شہر کی طرح تھا۔ یہاں صرف ایک سپر مارکیٹ تھی اور کچھ نہیں تھا۔ یہاں کوئی تقریب نہیں ہوتی تھی۔ یہاں کام ہوتا، پڑھائی ہوتی یا سونا ہوتا تھا۔

لیکن کئی سال گزرنے کے بعد اب اس علاقے کا اپنا ایئرپورٹ ہے، یہاں سیاحوں کی سہولیت کے لیے لگ بھگ ہوٹلوں میں 700 کمرے ہیں۔ اب یہ علاقہ اپنے متعدد لگژری ریستورنٹس پر فخر کرتا ہے۔

آر سی یو کے چیف ٹور ازم آفیسر فلپ جونز نے کہا کہ یہ علاقہ ڈرامائی طور پر بدل گیا ہے، ہم 2019 میں 25 ہزار زائرین سے 2022 میں ایک لاکھ 85 ہزار زائرین تک پہنچ گئے ہیں۔ علاقے نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ کووڈ 19 وبا کے زمانے میں بھی اس علاقے میں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی رہی۔

علاقے کی ترقی میں ایک اہم عنصر مقامی رہائشیوں کو پیش کردہ سکالرشپ پروگرام تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ مہمان نوازی، کھانے اور تقریبات کے نئے مواقع سے مستفید ہوں۔

جونز نے تسلیم کیا کہ بہت سے مقامی لوگ اپنے شہر کو سیاحتی مقام کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بہت پرجوش تھے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مقامی لوگ خاص طور پر نوجوان سعودی پرجوش ہیں، وہ تبدیلی کو قبول کر رہے ہیں اور وہ خود اس تبدیلی کا حصہ ہیں۔

فلپ نے مزید کہا کہ مقامی افراد اس صنعت میں ملازمتیں مل رہی ہیں جو۔ پانچ سال قبل مقامی افراد کے پاس ایک کسان، ایک استاد، ایک نرس بننے جیسے محدود آپشنز تھے۔ لیکن اب ان کے پاس ہوٹلوں، ریستورنٹس، دکانوں اور دیگر تمام مقامات پر کام کرنے کے مواقع ہیں۔ اس لیے ہم مقامی کمیونٹی بالخصوص نوجوان سعودی مرد و خواتین کی طرف سے بہت زیادہ جوش و خروش دیکھ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں