بیروت: مشتعل لبنانی نے بینک مینجر کو یرغمال بنا کر اپنی جمع شدہ رقم وصول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ناراض لبنانی اپنی جمع پونجی واپس لینے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کی یہ رقم 2019 کے اواخر سے "بینک آف مصر اینڈ لبنان" کی بیروت برانچ میں روک لی گئی تھی۔ ناراض لبنانی نے پیر 10 جولائی کو بینک کی اس برانچ پر دھاوا بول دیا اور بینک مینجر جد بو چید کو یرغمال بنا لیا۔

عمر الاعور نے ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ ایک مائع لے کر جا رہے تھے۔ یہ جلتا ہوا تیزاب تھا۔ اس نے کہا میں اس وقت تک باہر نہیں آؤں گا جب تک 6500 ڈالر کی جمع رقم واپس نہیں وصول کر لوں چاہے یہ میری لاش پر بھی ہو۔ یعنی چاہے وہ مجھے موت تک حراست میں رکھ لیں۔

"ڈپازٹرز کرائی" ایسوسی ایشن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ڈیپازیٹر عمر الاعور نے ’’بینک آف مصر و لبنان‘‘ کے برانچ مینیجر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس کی جمع کرائی گئی پوری رقم جو 6500 ڈالر ہے اس کے حوالے کردی جائے۔

اس کے بعد دوسری ٹویٹ میں بتایا گیا کہ الاعور نے اپنی رقم وصول کرنے کے بعد بینک چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اسے بیروت کے ایک پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ ایسوسی ایشن نے تیسری ٹویٹ میں ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زندگی مضبوط شخص کے لئے ہے کمزوروں کے لئے نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں