بی بی سی کے معروف میزبان ہیو ایڈورڈز کوفحش تصاویر کے الزامات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے معروف نیوز اینکر ہیو ایڈورڈز کو ان کی اہلیہ نے بی بی سی کے پریزنٹر کے طور پر نامزد کیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک نوجوان کو فحش تصاویر کے لیے ہزاروں پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

ایڈورڈز نے ستمبر میں ملکہ ایلزبتھ کی وفات کا اعلان کیا تھا اور انھوں نے صدی کے آغاز کے بعد سے برطانیہ میں ہونے والے سب سے بڑے ایونٹس کی کوریج کی قیادت کی ہے۔ان میں انتخابات، شاہی شادیاں اور 2012 کے اولمپکس شامل ہیں۔

ایڈورڈز کی اہلیہ وکی فلنڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ذہنی صحت اور اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے یہ بیان اس وقت دے رہی ہیں جب سن اخبار کی ابتدائی رپورٹ خبروں کے ایجنڈے پر چھائی ہوئی تھی اور کئی دنوں تک قیاس آرائیاں جاری تھیں۔

انھوں نے کہا:’ہیو ذہنی صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہیں‘۔ بی بی سی کے مطابق، فلنڈ نے ایک بیان میں کہا،’’جیسا کہ اچھی طرح سے دستاویزکیا گیا ہے، حالیہ برسوں میں ان کے شوہر کا شدید ڈپریشن کا علاج کیا گیا ہے‘‘۔

گذشتہ چند دنوں کے واقعات نے معاملات کو بہت خراب کر دیا ہے، انھیں ایک اور سنگین واقعے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں وہ مستقبل قریب میں رہیں گے۔

ان سے متعلق سب سے پہلے جمعہ کے روز اس وقت خبر سامنے آئی جب سن ٹیبلائیڈ نے انکشاف کیا کہ بی بی سی کے معروف پریزینٹر نے ایک نوجوان کو تین سال تک فحش تصاویر کے لیے 35 ہزار پاؤنڈ (45 ہزار ڈالر) ادا کیے۔

اس کی اشاعت کے بعد بی بی سی نے میزبان کو معطل کر دیا لیکن اس کا نام نہیں لیا۔ اس کے بعد بی بی سی کے کئی ستاروں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آن لائن قیاس آرائیوں کے بعد وہ اس معاملے میں ملوّث نہیں ہیں۔

بی بی سی کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جب وہ پریزنٹر کے خلاف دعوے کی تحقیقات کرنے، ان کی نج کی زندگی کا تحفظ کرنے، ان الزامات کا عوامی طور پر جواب دینے اور سوشل میڈیا پر شکوک و شبہات کے دائرے میں آنے والے دیگر پیش کاروں کے تحفظ کی کوشش کررہا تھا۔

انگلینڈ میں جنسی تعلقات کے لیے رضامندی کی عمر 16 سال ہے لیکن 18 سال سے کم عمر کے کسی شخص کی تصاویر کو چائلڈ پورنوگرافی قرار دیا جا سکتا ہے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس نے الزامات کی جانچ مکمل کر لی ہے اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ کوئی مجرمانہ جرم کیا گیا تھا۔اس نے کہا کہ پولیس کی جانب سے مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

ایڈورڈز کے پانچ بچے ہیں،وہ 1984 سے بی بی سی کے لیے کام کر رہے ہیں اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اس کے فلیگ شپ 10 بجے کے نیوز بلیٹن کی میزبانی کر رہے ہیں۔ وہ نشریاتی ادارے میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے نیوز پریزینٹر ہیں اور وہ 435،000 سے 439،999 پاؤنڈ بینڈ (قریباً 565،000 ڈالر) میں کماتے ہیں۔

فلنڈ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس بیان سے میڈیا کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جن کا اثر ایڈورڈز کے بی بی سی کے ساتھیوں پر پڑا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 'ان کے شوہر صحت یاب ہونے کے بعد شائع ہونے والی خبروں کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں‘‘۔بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی اندرونی تحقیقات جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں