گڑھے سے دہن تک: بلوچستان کے کھڈی کباب کے منفرد ذائقے کا راز کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کی ایک دکان پر فضل محمد نے چاولوں کی کئی پلیٹیں بکری کے پیٹ میں بھر دیں۔ چاولوں کا یہ پکوان پستے بادام کے ساتھ تیار ہوتا ہے جسے مصالحے لگا کر تین گھنٹے کے لیے دکان میں رکھ چھوڑتے ہیں۔ پہلے فضل محمد نے بکری کا چاک شدہ پیٹ سیا اور اسے سیخ میں پرویا، پھر سلگتے ہوئے کوئلوں سے بھرے ایک گڑھے میں لٹکا دیا۔ پھر اس زیر زمین اوون نما چولہے کو ایک دھاتی چادر سے ڈھانپ کر اس پر مزید کوئلے رکھ دیئے اور ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ اب بس انہیں تین گھنٹے انتظار کرنا ہے۔

رقبے کے لحاظ سے بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ گوشت کے نہایت لذیذ پکوانوں کے لیے مشہور ہے جن سے منہ میں پانی بھر آئے۔ ملک کے لذیذ کھانوں کی روایت میں نمایاں مقام کا حامل پکوان، کھڈی کباب - کوئلوں سے بھرے گڑھے میں تیارکردہ مرغوب گوشت - ان میں سے ایک ہے جو پنجاب، سندھ، اور خیبر پختونخوا سے کھانے کے شوقین افراد کو یہاں کھینچ لاتا ہے۔

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں کوئلوں کے گڑھے میں پکنے کے لیے چاول بھرے کھڈی کباب تیار
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں کوئلوں کے گڑھے میں پکنے کے لیے چاول بھرے کھڈی کباب تیار

صوبے کے سب سے زیادہ دلفریب اور روایتی پکوانوں کے لیے فضل محمد کی دکان کا نام ہر گھر میں جانا جاتا ہے۔ انہیں ان کے والد، عبدالحنان سے اس پکوان کی تیاری کا ہنر ورثے میں ملا جنہوں نے کوئٹہ کے چشمہ چوزئی میں 1993 میں اپنی دکان کھولی تھی۔

عرب نیوز سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ"کھڈی کباب ہمارا لذیذ روایتی پکوان ہے جسے لوگ اس کے منفرد ذائقے کی وجہ سے بہت پسند کرتے ہیں۔ پشتون قبائلی بچھڑے کے کھڈی کباب پسند کرتے ہیں لیکن بلوچ اور دیگر اقوام کے لوگ کوئلوں پر پکانے کے لیے اپنے ساتھ بکریاں لاتے ہیں۔"

محمد نے کہا کہ تیاری کا یہ طریقہ اس کھانے کو خاص بناتا ہے اور ایک منفرد ذائقہ دیتا ہے۔

مصالحوں سے بھرا بکرا سیخ میں پروا کر پکنے کے لئے تیار: عرب نیوز
مصالحوں سے بھرا بکرا سیخ میں پروا کر پکنے کے لئے تیار: عرب نیوز

انہوں نے وضاحت کی:"کھڈی کباب کو آگ پر یا گڑھے کے بغیر نہیں بنا سکتے۔ اس لیے ہم نے دکان کے اندر گڑھے کھودے ہوئے ہیں تاکہ بچھڑے اور بکری کے گوشت کا ذائقہ برقرار رہے کیونکہ اسے ہلکی آنچ پر تقریباً تین گھنٹے پکانا ہوتا ہے۔ یہ گڑھا تقریباً چار فٹ گہرا ہوتا ہے۔"

آج کوئٹہ میں 12 سے زیادہ کھڈی کباب کی دکانیں ہیں جہاں مصالحوں کا اپنا اپنا الگ امتزاج ہے۔ اس کے باوجود، کچھ گاہک گوشت کے ساتھ صرف نمک استعمال کرتے ہیں تاکہ اس کا قدرتی لطف ملے۔"

"گوشت کا ذائقہ بڑھانے کے لیے ہم اپنے خاص مصالحہ جات استعمال کرتے ہیں جس میں لہسن، ادرک، سرخ مرچ، اور سرکے کا امتزاج ہوتا ہے۔ جب مصالحہ گوشت میں اچھی طرح رچ بس جاتا ہے تو ہم گڑھے میں کوئلے رکھ دیتے ہیں اور بچھڑے اور بکری کو ہلکی آنچ پر پکاتے ہیں۔

محمد نے عرب نیوز سے گفتگو میں کھڈی کباب کی تیاری کی پیچیدگی کے بارے میں بتایا کہ ہم مٹی کے ایک سیل شدہ ڈھکن سے گڑھے کو ڈھانپ کر اوپر اور کوئلے رکھ دیتے ہیں۔

تمام مسلم دنیا نے جون کے آخر میں عید الاضحیٰ منائی جس میں مختلف الانواع مرغوب پکوانوں کے ساتھ کھانے اور ملنے جلنے کا خوب اہتمام ہوتا ہے۔ تاہم، بلوچستان میں کئی قبائلی پھر بھی اپنے قربانی کے جانوروں کے ساتھ کھڈی کباب کی دکانوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ انہیں کوئلے والے زیر زمین چولہوں پر پکایا جائے۔

 کوئلوں کے گڑھے میں چاول بھرے کھڈی کباب کو دم دینے کے لوہے کے ڈھکن پر کوئلے ڈالے جا رہے ہیں: عرب نیوز
کوئلوں کے گڑھے میں چاول بھرے کھڈی کباب کو دم دینے کے لوہے کے ڈھکن پر کوئلے ڈالے جا رہے ہیں: عرب نیوز

چاول بھرے کھڈی کباب ایک مقبول عام انتخاب ہیں۔ اس میں کشمش، پستے، اور باداموں سے بھرے چاول بچھڑے کے پیٹ میں بھر کر پکائے جاتے ہیں۔ انہیں مہارت سے دھاگے کی مدد سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقی اور نہایت خوش کن ذائقے سے بھرپور ہوتے ہیں۔

ایسے ہی ایک گاہک، اقبال شاہ، عید الاضحیٰ کے تقریباً 12 دن بعد اپنا بچھڑا کھڈی کباب کی دکان پر لائے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ"بلوچستان کے لوگ بچھڑے اور بکری کا گوشت پسند کرتے ہیں کیونکہ اسے پکانے کا طریقہ نہایت منفرد ہے جو پاکستان کے کسی اور صوبے میں نہیں مل سکتا۔ انگاروں سے بھرے گڑھے میں پک کر گوشت اور ہڈیاں نہایت نرم و ملائم ہو جاتے ہیں۔"

شاہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے لیے کھڈی کباب کی ایک خصوصی دعوت عید کے بعد کی جس میں صرف کھڈی کباب شامل تھے اور یہ دیگر پکوانوں کے بغیر تھی کیونکہ اس کا اپنا ایک لطف اور ذائقہ ہے (جو کسی اور کھانے میں نہیں)۔

چاول بھرے بچھڑے کی تیاری کے لیے کھڈی کباب بنانے والے 4500 روپے (16.09 ڈالر) لیتے ہیں۔ لیکن چاولوں کے بغیر بھی یہ 3500 (12.51 ڈالر) میں دستیاب ہے۔ جو گاہک پورا بچھڑا نہیں خرید سکتے، ان کے لیے صرف کندھے کے پیس بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

کوئٹہ کے رہائشی، محمد عمران حمید نے اپنے دوستوں کے لیے گھر پر کھڈی کباب کی دعوت کی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تعداد میں لوگوں کے لیے کھڈی کباب ایک مثالی انتخاب ہے کیونکہ اس سے گوشت کے شوقین افراد کو ان کا دل پسند ذائقہ ملتا ہے۔ کوئلوں کی ہلکی آنچ پر پکنے کی وجہ سے اس کا ایک منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔ گڑھے سے نکالنے کے فوری بعد اسے کھا لینا چاہیے ورنہ ٹھنڈا ہوکر یہ سخت ہو جاتا ہے۔

جب رات ہوئی اور محمد کی دکان پر کھانے کی تیاری مکمل ہوئی تو انہوں نے ڈھکن اٹھا کر پکا ہوا گوشت احتیاط سے باہر نکالا اور اپنے شوقین گاہکوں کو پیش کر دیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ"میرے گاہکوں کی اکثریت سردیوں میں کھانے کا آرڈر کرتی ہے لیکن اس سال عید الاضحیٰ گرمیوں میں آئی ہے، پھر بھی مجھے آرڈرز ملے ہیں۔" محمد نے بتایا اور یہ بھی مزید کہا کہ عید کے تین دنوں کے دوران انہوں نے سو سے زائد کھڈی کباب تیار کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں