’’ہم کام نہیں کر سکتے‘‘:خلیج کا موسم گرما معمول سے زیادہ گرم کیوں محسوس ہوتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دنیا کا زیادہ تر حصہ اس وقت ریکارڈ درجہ حرارت کی لپیٹ میں ہے، اس لیے اعصام جنیدی کے بارے میں سوچیں، جو سیارے کے گرم ترین علاقوں میں سے ایک خلیج میں کاریں دھونے کام کرتے ہیں۔

دبئی میں ایک بیرونی کار پارک میں اپنے کام سے کچھ وقت کے لیے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے مصری تارک وطن کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اس سال بھٹی جیسی گرمی کی اور بھی زیادہ شدت محسوس ہورہی ہے۔

جنیدی کہتے ہیں کہ ’’یہ موسم گرما دیگر برسوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ مشکل لگ رہاہے‘‘۔ وہ ہر روز 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 ڈگری فارن ہائیٹ) کے درجہ حرارت میں کام کرتے ہیں اور گاڑیاں دھو کر اور چما کر یومیہ 25 درہم (6.80 ڈالر) تک کما لیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دوپہرکے آغاز سے سہ پہر تین ساڑھے تین بجے کے درمیان، ہم آسانی سے کام نہیں کر سکتے۔واضح رہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال متحدہ عرب امارات میں ہر سال ہی ناقابل برداشت گرمی ہوتی ہے۔ وہ اس سال اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 28 کی میزبانی کرے گا جہاں دنیا عالمی شدت (گلوبل وارمنگ) پر اپنے ردعمل کو مہمیزدینے کی کوشش کرے گی۔

متحدہ عرب امارات کے شہروں میں شدید گرمی میں ایئر کنڈیشن ماحول ہی میں گھروں، دفاتر اور شاپنگ مالوں میں گزارہ ہوسکتا ہے لیکن کم زور معیشتوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن مزدوروں کو یہ سہولت حاصل نہیں۔کم اُجرت پر ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔انھیں یخ بستہ ائیرکنڈیشروں ہی سہولت حاصل ہے اور نہ وہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کرکام کرسکتے ہیں۔

دبئی میں اس وقت ان تارکِ وطن مزدوروں کے علاوہ دوپہر میں اوقات میں سڑکیں بڑی حد تک ویران ہیں۔دستی کام کرنے والے بہت سے مزدوروں کو دن کے گرم ترین گھنٹوں میں لازمی آرام کا وقفہ کیا جاتا ہے۔

توانائی سے مالا مال صحرائی خطے کے تمام ممالک کی ایسی ہی کہانی ہے۔ سعودی عرب کے پڑوس میں مواقع جزیرہ نما ملک بحرین میں جولائی میں اوسط درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ 2017 میں بحرین میں 42.1 سینٹی گریڈ (107.8 فارن ہائیٹ) درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دو ہفتے قبل سعودی عرب میں 18 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے 48 ڈگری سینٹی گریڈ (118 فارن ہائیٹ) درجہ حرارت میں حج کی سعادت حاصل کی تھی۔حج کے رکن اعظم وقوف عرفات کے وقت ہزاروں افراد گرمی کی شدت کا شکارہوئے تھے۔

کویت میں، جہاں باقاعدگی سے دنیا کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جاتا ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں پارہ 50 سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر سکتا ہے۔اس وقت بھی وہاں گرمی کی شدت کا 60 سینٹی گریڈ تک احساس ہوتا ہے۔

اعصام جنیدی درست کہتے ہیں کہ یہ موسم گرما غیر معمولی طور پر گرم لگ رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے کو دنیا بھر میں ریکارڈ کیا گیا گرم ترین ہفتہ قراردیا گیا ہے اور خلیج میں نمی کی لہر سے بھی حبس زدہ ماحول ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات کے احمد حبیب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’لوگ حیران ہیں کہ کیا درجہ حرارت معمول سے بھی زیادہ ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ نمی میں نسبتاً اضافہ پہلے سے ہی زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ مل کر گرمی کا اور زیادہ احساس دلا رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کچھ علاقوں میں درجہ حرارت کا ’حقیقی احساس‘55-60 سینٹی گریڈ (131-140 فارن ہائیٹ) کے درمیان رہا ہے۔

خلیج کی شدید گرمی اور زیادہ نمی ایک خطرناک مرکب ہے کیونکہ ایسے حالات میں انسانی جسم جلد پر پسینے سےخود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس امتزاج کی پیمائش گیلے کپڑے میں لپٹے تھرمامیٹر کے ذریعے کی جاتی ہے تاکہ "گیلے بلب کے درجہ حرارت" کا حساب لگایا جا سکے ۔یہ پسینے کی بخارات کی وجہ سے کم ہوسکتا ہے۔

خلیج ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں گیلے بلب کا درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ (95 فارن ہائیٹ) سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ انسانی بقا کی حد ہے جس سے آگے گرمی کا دباؤ عمر، صحت اور تن درستی سے قطع نظر گھنٹوں کے اندر مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی سے اضافہ اس صدی کے آخر تک خلیجی خطے کے کچھ حصوں کو ناقابل رہائش بنادے گا۔

کویت میں ماہر موسمیات عیسیٰ رمضان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ توقع ہے کہ رواں ماہ کے وسط سے 20 اگست تک درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور یہ سائے میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ (122 فارن ہائیٹ) تک پہنچ سکتا ہے۔

سرکاری پیشین گوئیوں کے مطابق بحرین میں ہفتے کے آخر تک ہوا میں نمی کا تناسب 90 فی صد تک پہنچ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ (108 سے 111 فارن ہائیٹ) کے درمیان رہے گا۔

مشکل کام

ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کے براق الاحمد اور فاؤنڈیشن فار کلائمیٹ ریسرچ کے ڈومینک روئے کے اندازوں کے مطابق اگر گلوبل وارمنگ پر قابو نہ پایا گیا تو خلیج میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔

خلیج میں تارکین وطن مزدوروں کی ہلاکتوں پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں پر مشتمل اتحاد وائٹل سائنز نے جون میں اپنی ایک رپورٹ شائع کی تھی ۔اس کے نتائج کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں اگر عالمی درجہ حرارت میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوتا ہے تو 2100ء تک 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ (104 فارن ہائیٹ) درجہ حرات والے دنوں کی تعداد میں 98 فی صد اضافہ ہوگا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح عالمی سطح پر 3 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے کویت، بحرین اور سعودی عرب کو اس صدی کے آخر تک ایک سال میں 180 دن 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

احمد نے وائٹل سائنز پارٹنرشپ کو بتایا کہ ’’یہ حالات انسانی معاشروں کو ان طریقوں سے بری طرح متاثر کر سکتے ہیں جنھیں ہم ابھی سمجھنا شروع ہو رہے ہیں‘‘۔

شدید گرمی اور نمی پہلے ہی خلیج میں بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کی ایک حقیقت ہے۔جنوب ایشیائی ممالک اور مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ڈلیوری موٹر سائیکل سواراسی شدید گرمی میں کام کرتے ہیں اوروہ کھانے اور دیگر پیکج لے کر خلیجی شہروں کو عبور کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک مصر سے تعلق رکھنے والے محمد رجب نے دبئی کی ایک گلی میں بتایا کہ ’’ہمارا پیشہ بہت مشکل ہے۔ہم ہمیشہ سورج کی براہ راست تمازت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں