90 برس کی عمر میں پانچویں شادی رچانے والے دلہا نے کنواروں کو کیا مشورہ دیا

شادی دین کا حفاظت کا ذریعہ اور رب تعالیٰ کا فضل ہے: ناصر بن دحیم کا شادی کی خوشی سے متعلق ’’العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں معمر ترین دلہا سامنے آ گیا۔ 90 سال کی عمر میں سعودی شہری ناصر بن دحیم بن وھق المرشدی العتیبی نے پانچویں مرتبہ شادی کی تو سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کا چرچا ہو گیا۔

خبر اس وقت بڑے پیمانے پر پھیل گئی ناصر بن دحیم کے پوتے نے ویڈیو پوسٹ کی اور کہا ’’میرے دادا کو یہ شادی مبارک ہو، یہ شادی ان کے لیے خوشحالی اور اولاد لائے‘‘

معمر ناصر بن دحیم نے اپنی اس شادی سے متعلق ’’ العربیہ‘‘ کے مارننگ شو میں خصوصی انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پیرانہ سالی میں شادی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کی۔ اس سے دین اسلام اور شوہر، بیوی، اصحاب اور عزیزوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ شادی رب کا ایک فضل شمار ہوتی ہے۔

اینکر نے جب سوال کیا ’’کہ آج کل نوجوان تو شادی کے خیال سے ہی گھبراتے ہیں، ایسے میں آپ کو پیرانہ سالی میں شادی کی کیا سوجھی؟‘‘

ناصر بن دحیم نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’کہ میں تو دوسری، تیسری شادی کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ ازدواجی زندگی رب العالمین کے لیے ایمان اور عزت ہے۔ یہ انسان کے لیے باعث راحت اور اور اس کے لیے دنیا کی زندگی کا لطف ہے۔ انہوں نے کہا میں شادی سے انکار کرنے والے نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ اپنے دین اور دنیا کے متاع کی حفاظت چاہتے ہو تو شادی کر لو۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے ہنی مون پر خوش ہوں کیونکہ شادی ایک جسمانی سکون اور لطف ہے۔ انہوں نے کہا بڑھاپا شادی کو نہیں روکتا۔ میرے 4 بچے ہیں اور ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ میرے بچوں کے بھی اب بچے ہیں۔ میں خود اب بھی اپنے مزید بچوں کا خواہش مند ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں