شام میں بے گھر افراد کے کیمپوں کو جان بوجھ کر بمباری میں نشانہ بنانے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایک چونکا دینے والی نئی رپورٹ میں جنگ زدہ شام میں اندرونی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پی) کے کیمپوں کوجان بوجھ کرمہلک بم باری میں نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

شام کے انصاف اور احتساب مرکز کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق کا عنوان:’’تحفظ کے لیے بے تاب، تباہی کے لیے ہدف: شام میں آئی ڈی پی کیمپوں پر جان بوجھ کر حملے‘‘ ہے۔اس میں اس بات کے شواہد سامنے آئے ہیں کہ شامی اور روسی مسلح افواج نے غیر لڑاکا علاقوں کے طور پر واضح شناخت کے باوجود شہریوں کے کیمپوں کو بار بار اپنی بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔

سنہ 2011ء سے اب تک شامی تنازع کے دوران میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ شامی بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں سے قریباً ستر لاکھ افراد کو شام کے اندر ہی زبردستی بے گھر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں شامی حکومت اور روس سمیت اس کے اتحادیوں کو 2014ء سے 2022ء تک آئی ڈی پی کیمپوں پر دانستہ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔اس سے قبل ہونے والے کچھ حملوں کی میڈیا میں مذمت کی گئی تھی لیکن یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ یہ حملے محض حادثاتی یا قریبی فوجی اہداف تک محدود نہیں تھے بلکہ آئی ڈی پی کیمپوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا حکومت اور اس کے اتحادیوں کی سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔

تفتیش کاروں نے شام کے تنازع کو دستاویزی شکل دینے والی 20 لاکھ سے زیادہ ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جو بیانات کے نام سے اپنے ڈیٹا بیس میں محفوظ ہیں۔سوشل میڈیا، میڈیا چینلز اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اس مواد کا حوالہ دے کر محققین نے شواہد کی صداقت کی تصدیق کی اور جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے ایک واضح نمونہ کی نشان دہی کی ہے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 'ان میں سے کئی حملے خاص طور پر تباہ کن تھے کیونکہ ان حملوں میں خیمہ بستیوں کو نشانہ بنانے کے لیے روس کے مہیا کردہ کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کیا گیا تھا جبکہ ان خیمہ بستیوں کے مکین فضائی یا توپ خانے کے حملوں سے مکمل طور پرغیر محفوظ تھے۔ان حملوں کے متاثرین کو پہلے ہی متعدد بار نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے باوجود ان کی عارضی پناہ گاہوں پر حملے کیے گئے اور انھیں باربار بے گھر ہونے پر مجبور کردیا گیا۔

رپورٹ میں ایسے 17 واقعات کی نشان دہی کی گئی ہے جہاں آئی ڈی پی کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں سے ایک کے سوا باقی تمام میں شامی حکومت یا اس کے اتحادی ملوث ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بم دھماکوں سے قبل نشانہ بنائے گئے کیمپوں کی جاسوسی کی گئی تھی، جس سے ان حملوں کی دانستہ نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نقیر جیسے کچھ کیمپوں پر متعدد مواقع پر دوبارہ حملے کیے گئے۔

رپورٹ میں 2014 سے 2022 تک الکبیر اورعابدین کے دیہات کے قریب کیمپوں اور کفرجلیس کے گاؤں قح کے مضافات کے قریب کیمپوں سمیت مخصوص واقعات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شامی افواج اور ان کے اتحادیوں کو ان کیمپوں کی سویلین نوعیت کے بارے میں پہلے سے علم تھا مگر شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اس علم کو نظرانداز کرتے ہوئے حملے کیے،جس سے معصوم شہریوں کو بے پناہ نقصان اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک مثال میں رپورٹ کے مصنفین نے بتایا کہ 29 اکتوبر 2014 کی علی الصباح ریڈیو کے ذریعے انتباہ سنا گیا تھا کہ جنگی طیاروں کی نگرانی کرنے والی رصدگاہوں نے شمال مغرب میں واقع قصبے خان شیخون کے اوپر پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں میں سے ایک کو نشان زد کر لیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ کس طرح اس علاقے، خاص طور پر آئی ڈی پی کیمپ کے آس پاس کی جگہوں جیٹ لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے بھاری فضائی بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔عینی شاہد نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا:’’اہل دیہہ نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور پہلے سے تیار کیے گئے بڑے گڑھوں میں چلے گئے۔ ہم انھیں غار کہتے ہیں۔ لیکن کیمپ کے رہائشیوں کے پاس اپنے خیموں میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘‘۔

وہ بتاتے ہیں:’’ہم نے ہیلی کاپٹر کو براہ راست کیمپ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ہم نے اسے کیمپ کے اوپر اڑتے ہوئے اور ایک بیرل بم کو اس پر گرتے ہوئے دیکھا۔ بیرل بم کیمپ کے مضافات میں گرا تھا۔ ہمیشہ کی طرح ہیلی کاپٹر دوسرا بیرل بم گرانے کے لیے واپس آیا، جو کیمپ کے عین وسط میں گرایا گیا تھا‘‘۔

کیمپ کے رہائشی اس وقت چیخ اٹھے جب انسانی اعضاء بیرل بم کے ٹکڑوں کے پھٹنے سے ادھر ادھر بکھر گئے۔اس دھماکے کے زور سے پھٹے ہوئے تمام خیمے اڑ گئے اور اس طرح غائب ہو گئے جیسے وہ وہاں کبھی نہیں تھے۔اس کے بعد آگ بجھانے والے ٹرک اور سویلین گاڑیاں زخمیوں کی مدد اور مرنے والوں کی تدفین کے لیے تیزی سے وہاں پہنچے تھے۔

رپورٹ میں فراہم کردہ قانونی تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کے کیمپوں پر جان بوجھ کر کیے گئے یہ حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپوں سمیت شہریوں اور شہری اشیاء کو نشانہ بنانے کی ممانعت ہے۔ مزید برآں، شہریوں کو زبردستی گھروں سے بے دخل کرنا یا ان کے لیے غیر ضروری مصائب کا سبب بننا،اس فریم ورک کے تحت جرائم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے آئی ڈی پی کیمپوں پر بار بار کیے جانے والے حملے نہ صرف آبادی کے انتہائی کمزور طبقوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں بلکہ بے گھر افراد کی واپسی اور بحالی میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔

اس رپورٹ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ شامی حکومت بین الاقوامی انسانی قوانین کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔فی الحال ان حملوں میں بچ جانے والوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے کوئی قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔

تاہم، اگر ذمہ دار افراد ان ممالک میں پائے جاتے ہیں جہاں عالمگیر دائرہ اختیار کا اطلاق ہوتا ہے، تو ان کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔احتساب کے حصول کے لیے ہائبرڈ کورٹ کے قیام یا بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ان جرائم پر دائرہ اختیار دینے کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

گذشتہ سال اقوام متحدہ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں گنجان آبادی والے آئی ڈی پی کیمپوں پر اندھا دھند حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت ممنوع ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں