کالا کوٹ پہننے کے شوقین پاکستانی وکیل نے 100 کلوگرام وزن کیسے کم کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

احمد یار ہمایوں سر ہلا کر مسکرائے، اس ہفتے کے آغاز میں جنوب مغربی پاکستان کے شہر کوئٹہ کی ایک ضلعی عدالت میں وکلاء سے باتیں کرتے ہوئے، سیاہ سوٹ میں ملبوس وہ پرسکون اور پراعتماد نظر آتے تھے۔

بیشتر وکلاء کے لیے سیاہ کوٹ پہننا ایک معمول کی بات ہے جسے اٹارنی کا یونیفارم سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ہمایوں کے لیے اس خاص سوٹ میں فٹ ہونا ایک محنت طلب طویل سفر کا اختتام تھا- اس سفر میں انہیں ایک خواب کو حقیقت بنانا تھا اور اس کے لیے 20 ماہ میں 100 کلوگرام وزن کم کرنا تھا۔

ہمایوں، جن کا وزن کبھی 165 کلوگرام ہوا کرتا تھا، نے عرب نیوز کو بتایا کہ "(قانون کی تعلیم کرنے کے دوران) 2020ء میں نے اپنے دوستوں کو وکلاء کے پیشہ ورانہ سیاہ یونیفارم کے بارے میں بات کرتے دیکھا لیکن اس سے میں افسردہ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا (یہ سوچ کر) کہ میں اس قدر زیادہ وزن کے ساتھ یہ یونیفارم کیسے پہنوں گا؟ مجھے وکیل بننے کا بہت جنون تھا اور یہ پیشہ میری زندگی میں ایک نیا موڑ لے کر آیا جہاں میں اپنے جسم کو درست شکل میں ڈھالنے اور یونیفارم زیب تن کرنے میں کامیاب ہو گیا۔"

ہمایوں کا وزن پانچ سال کی عمر سے ہی بڑھنا شروع ہو گیا تھا اور اتنا بڑھ گیا کہ ان کے لیے خود سے چلنا پھرنا دوبھر ہو گیا۔ موٹاپے پر ہم جماعتوں اور ہمسایوں کے طعنوں نے اس کی مشکل میں اور زیادہ اضافہ کر دیا۔

ہمایوں کے والد نے عرب نیوز کو بتایا کہ "کچھ دوست اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ہم جماعت اور ہمسایوں کے لڑکے اسے تنگ کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے ظاہر ہے کہ ہم تھوڑا پریشان تھے۔"

بیرسٹر مظفر اعظم عمرانی کوئٹہ کے سٹی سکول آف لاء میں قانون کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ کیسے اس نوجوان وکیل کے دوست اور اساتذہ پریشان رہتے تھے کیونکہ پیشہ ورانہ زندگی میں اس کا وزن رکاوٹ تھا اور اس کے لیے چلنا تک دوبھر تھا۔ انہوں نے کہا کہ "آج ہمارے معاشرے میں کئی لوگوں کے لیے وزن گھٹانا بہت مشکل ہو گیا ہے لیکن احمدیار نے سخت محنت سے ہمارے لیے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ اگر ہم صحیح خوراک کھائیں تو وزن گھٹانا ممکن ہے۔"

اگرچہ ہمایوں کے گھر والوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے بیشک ڈاکٹر اور مذہبی علماء سے رابطہ کیا۔ لیکن آخر کار ہمایوں نے خود ایک سخت ڈائیٹ پلان پر عمل کیا اور اپنی جسامت میں شاندار تبدیلی کے کر آئے۔

وہ دن میں زیادہ تر صرف ایک کھانے تک محدود ہو گئے، دو سال تک گندم کی روٹی نہیں کھائی، روزانہ دو گھنٹے جم میں ورزش کی، اور بکثرت بیڈمنٹن کھیلا۔ انہوں نے اپنے سیل فون پر خوراک کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک کیلوری کاؤنٹر ڈاؤن لوڈ کیا اور فٹنس ایپس پر بھی انحصار کیا۔ اور راہنمائی کے لیے فیس بُک اور دیگر سوشل میڈیا سائیٹس کا بھی رخ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب، ایک دن وکیل کے سیاہ کوٹ میں فٹ ہونے کی "شدید خواہش" کی بدولت ممکن ہوا۔ "جب میں اپنے مکمل تبدیل شدہ جسم وکلاء کا مخصوص یونیفارم پہنتا ہوں تو میں خود کو نہایت خوش قسمت سمجھتا ہوں اور اس کرم نوازی پر اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے اس مقصد کو حاصل کرنے میں میری مدد کی۔"

اس بات کی خوشی صرف ہمایوں کو نہیں ہے۔ ان کے والد کہتے ہیں کہ "جب میں اپنے بیٹے کو وکلاء کے یونیفارم میں ملبوس عدالت جاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے انتہا درجے کی خوشی ہوتی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں