مصر نے اہرام کے ٹوٹنے سے متعلق گردش کرنے والی تصاویر کی حقیقت بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا پر اہرام کی ایسی تصاویر بڑے پیمانے پر گردش کرنے لگیں جس میں دکھایا گیا تھا کہ اہرام کا کچھ حصہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اہرام کی ٹوٹ پھوٹ سوشل میڈیا ویب سائٹ کے ٹرینڈز میں سر فہرست آگئی۔ صارفین میں سے ایک نے گیزا ہرم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہمیں پتھر ہی پتھر نظر آ رہے ہیں۔

مصری سیاحت اور نوادرات کی وزارت کے ایک سرکاری ذریعے نے "قاہرہ 24" کو بتایا کہ گردش کرنے والی تصاویر غلط ہیں اور ان کا تعلق گیزا کے اہراموں سے نہیں ہے۔ یہ دھشور کا اہرام یا خم دار اہرام ہے۔ یہ ان اہراموں میں سے ایک ہے جنہیں چوتھے خاندان کے پہلے بادشاہ کنگ سینفرو نے بنایا تھا۔ اس اہرام کو اپنے خم کی وجہ سے خم دار ہرم کہا جاتا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اہرام کا منہدم ہونے والا حصہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ یہ اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ حرم کی ابتدا 55 ڈگری زاویہ پر تھی لیکن ایک حصہ میں زاویہ 43 ڈگری ہے جس کی وجہ سے پتھر گرتے ہیں۔

یاد رہے اس خم دار اہرام کے دو داخلی دروازے ہیں۔ ایک دروازہ شمال کی طرف جدید لکڑی کی سیڑھیوں کے ساتھ ہے۔ دوسرا داخلی دروازہ مغربی جانب اونچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں