پاکستانیوں کے لیے منفرد اور حقیقی شامی پکوان تیار کرنے والے خاندان سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"شام میں جاری خانہ جنگی سے تنگ آ کر آبائی وطن چھوڑ کر پاکستان ہجرت پر مجبور ایک شامی خاندان نے تین سال قبل کھانا فراہم کرنے کی گھریلو سروس کا آغاز کیا اور اب یہ خاندان ملک کے ساحلی شہر، کراچی میں بڑھتے ہوئے گاہکوں کو حقیقی عرب پکوانوں سے محظوظ کر رہا ہے۔" یہ بات 'دمشق ڈیزرٹس' نامی ہوم فوڈ سروس کے شریک مالک نے بتائی۔

یخنی میں تیار کردہ phyllo ڈیزرٹ، کنافہ، اور چھوٹے ٹکڑوں میں کٹے ہوئے تازہ گوشت کا شوارما آج دمشق سویٹس کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اشیاء ہیں۔ دمشق سویٹس یوسف عاصم البرماوی اور ان کی ہمشیرہ کی ندرت فکر کی عکاس ہے۔

البرماوی جو اپنے والدین اور دو بہن بھائیوں کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے تھے، نے کراچی میں اپنے گھر پر عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ "ابتدا میں یہ کام محدود تھا لیکن پھر وسیع ہوتا گیا۔" ان کی بہن نے گھر کے کچن میں مشرقِ وسطیٰ کے خاص کھانے، حمص اور فلافل تیار کیے تھے۔ انہوں نے اپنا نام بتانے اور تصویر کھنچوانے سے انکار کر دیا۔

"ابتداً، میں اور میری بہن ہی اس کاروبار کو چلا رہے تھے لیکن طلب میں اضافہ ہوا تو میرے والدین بھی ہماری مدد کرنے لگے۔ ایک ذاتی آئیڈیا سے یہ خاندانی آئیڈیا اور پھر خاندانی کاروبار بن گیا۔"

گھریلو کھانے کے کاروبار کا آئیڈیا دراصل پاکستانی دوستوں نے دیا۔

البرماوی نے بتایا کہ "ہم گھر پر ان کی میزبانی کر رہے تھے اور انہوں نے ہمارے کھانا کھا کر بہت پسند کیا۔ وہ ہمارے بنائے ہوئے کھانے پر بہت حیران تھے۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔"

اس کے بعد اس انٹرپرینیور نے بہن کے ساتھ مل کر فہرست طعام بنائی، اور جلدی تیار ہو جانے والے کھانوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جو اسی دن یا ایک دن پہلے تیار ہو سکتے تھے۔ پھر تشہیر کا مرحلہ آیا جس میں ان کے بہن بھائی نے رشتے داروں اور احباب تک زبانی بات پہنچائی۔

"ہم زیادہ تر حقیقی یعنی لوگوں کے ذریعے ہونے والی مارکیٹنگ پر انحصار کرتے ہیں۔" البرماوی نے اس بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی انحصار کیا۔

دمشق ڈیزرٹس کو زیادہ تر آرڈرز واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعے ملتے ہیں۔ زیادہ تر گاہک البرماوی کے گھر سے اپنے آرڈرز لے جاتے ہیں جبکہ یہ قریبی علاقوں میں ہوم ڈیلیوری بھی کرتے ہیں۔

البرماوی نے کہا کہ کھانوں کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مخصوص اجزائے ترکیبی پاکستان میں دستیاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم کئی کھانوں کی پیشکش کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تمام ضروری اجزاء دستیاب نہیں سو ہم وہی بناتے ہیں جو یہاں مل جائے۔"

کریم یا پنیر کی تہوں کے ساتھ چینی کے شیرے میں ڈبو کر بنائی گئی پیسٹری، کنافہ، کمپنی کی مقبول ترین ڈش ہے۔ اور گلیوں میں ملنے والا آئٹم شوارما ہے جس میں چھوٹے بڑے یا دیگر طرح کے گوشت کی تہوں کو سیخ پر بھونا اور پیٹا بریڈ کے ساتھ یا اس میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔

کھجور بھرا مکھنی بسکٹ یا خطائی اور ایک مقبول شامی پیسٹری، بسبوسہ گاہکوں کی پسندیدہ ہیں۔

البرماوی نے بتایا کہ "ہمیں ابتدا ہی سے بہت زیادہ بڑا اور مثبت ردعمل ملا ہے۔ ہم اپنے کھانے روایتی طریقوں سے بناتے ہیں۔" شوارما کی مثال لے لیں جو دمشق ڈیزرٹس، اچار اور لہسن کی چٹنی کے ساتھ تیار کرتے ہیں تاکہ اس کا حقیقی ذائقہ ملے۔

البرماوی نے کہا کہ "ہم (اصل ترکیب میں) کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرتے۔ ہم شوارما میں تھوڑی سی تبدیلی کر سکتے ہیں۔ صرف گاہک کی ترجیح کے مطابق ہم اسے تھوڑا اور چٹپٹا بنا سکتے ہیں۔"

بلاشبہ، دمشق ڈیزرٹس کے کھانوں کا راز اصل تراکیب کے قریب رہنا ہے۔ کھانا بنانے والے البرماوی نے کہا کہ "یہ کسی تبدیلی کے بغیر اور حقیقی ہے۔ یہ شام میں ملنے والے کھانوں ہی کی طرح ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں