بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے لو لگنے کے کیسز میں اضافہ: اماراتی ڈاکٹرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے ہونے والی بیماریاں جیسا کہ لو لگنا پورے ملک میں بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس سال پہلی مرتبہ درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے قومی مرکز نے ہفتے کو ابو ظہبی کے الدرفہ میں دوپہر 2:30 پر 50.1 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا اور اتوار کو اسی جگہ دوبارہ بھی یہی درجۂ حرارت رہا۔

پارہ چڑھ جانے کی بنا پر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ رہائشی شدید گرم موسم میں اپنا خیال رکھیں اور گرمی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کریں۔

میڈیور ہاسپٹل، ابو ظہبی کے صدر شعبہ اور جنرل پریکٹیشنر، ڈاکٹر الپا پراشانت میشرم نے العربیہ کو بتایا کہ "گرمی سے ہونے والی بیماریوں کی علامات میں مبتلا افراد کی تعداد میں یو اے ای کے ڈاکٹروں نے اضافہ دیکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا کہ پورے ملک کے سال بہ سال ٹرینڈز میں یہ دیکھا جا رہا ہے۔


گرمی سے متعلقہ بیماریوں کی شدت میں اضافہ

تاہم ڈاکٹر نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایسی بیماریوں کی شدت بھی بڑھی ہے۔

"گذشتہ چند سالوں میں ہم نے گرمی سے ہونے والی بیماریوں کی اقسام میں تبدیلی دیکھی ہے۔ ماضی میں یہ زیادہ تر ہلکی ہوتی تھیں مثلاً گرمی سے ہونے والا عضلاتی تناؤ اور جسم میں پانی کی شدید کمی۔ لیکن حالیہ برسوں میں ہم زیادہ تشویش ناک کیسز دیکھے ہیں مثلاً لو لگنا۔ اس کی زیادہ تر وجہ لوگوں کا بیرونِ خانہ گرمی میں رہنا ہے۔‘‘

ڈاکٹر نے کہا کہ مخصوص عمر اور علاقے کے افراد کا گرمی کی بیماریوں سے متأثر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ ان میں بچے اور بزرگ شامل ہیں، چونکہ ان افراد کے جسم کے درجۂ حرارت کو معمول پر آنے میں زیادہ وقت صرف ہوتا ہے تو ان کے متأثر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔"

ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ دائمی اور دیرینہ امراض مثلاً ذیابیطس، دل کا مرض، اور موٹاپے کا شکار افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اسی طرح جو افراد گھر سے باہر کام یا ورزش کرتے ہیں، وہ سورج کی تمازت اور گرمی سے زیادہ متأثر ہوتے ہیں جس سے گرمی کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


محفوظ رہیں

ڈاکٹر نے کہا کہ گرمی کی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے، بالخصوص سال کے گرم ترین مہینوں میں، لوگوں کو زیادہ مقدار میں مشروبات پی کر پانی کی ضرورت پوری کرنی چاہیے۔

انہوں نے مشورہ دیا، "پیاس نہ لگے تو بھی پانی پئیں۔ دن کے گرم ترین حصے میں زیادہ جسمانی مشقت سے گریز کریں۔ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو صبح سویرے یا شام کو کریں جب درجۂ حرارت ٹھنڈا ہو۔ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ڈھیلے ڈھالے اور ہلکے رنگوں کے کپڑے پہنیں۔ اگر گرمی، غنودگی، سستی، یا متلی محسوس ہو تو ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر تھوڑا وقفہ لے لیں۔ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچنے کے لیے سن سکرین کا استعمال کریں۔ گرمی کی بیماریوں کی علامات سے آگہی حاصل کریں اور ایسی علامات ظاہر ہونے پر فوراً طبی امداد حاصل کریں۔"

مصفیٰ میں واقع لائف ہاسپٹل میں انٹرنل میڈیسن کے مشیر، ڈاکٹر بیجو فیضال نے بھی العربیہ کو بتایا کہ انہوں نے گرمی کی بیماریوں میں اضافے کا رجحان دیکھا ہے بالخصوص بیرون خانہ کام کرنے والوں میں۔"

پندرہ جولائی سے 15 ستمبر کے دوران ملک میں دوپہر کے وقت لازمی وقفہ متعارف کروانے کے باوجود ایسا ہوا ہے۔ اس پالیسی کے تحت 12:30 سے 3 بجے دوپہر تک لوگوں کے بیرونی کام کرنے پر پابندی ہے۔

ڈاکٹر فیضال نے کہا کہ "ہم ایسے کیسز میں خاصا اضافہ دیکھ رہے ہیں بالخصوص تعمیرات جیسے بیرونی کام کرنے والے افراد میں۔ گرمی کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریضوں میں زیادہ تر درمیانی عمر کے وہ لوگ ہیں جو بیرونی کام کرتے ہیں۔"

تاہم، ڈاکٹر فیضال نے کہا کہ "یو اے ای کے دوپہر کے وقفے کے قانون نے حالیہ سالوں میں ایسے افراد کی تعداد کم کر دی ہے - مثلاً تعمیراتی کام کرنے والے افراد - جن کو بیماری کے باعث طبی امداد کی ضرورت ہو۔ یہ تبدیلی، شعور میں اضافے اور کمپنیوں کے بہتر کردہ حفاظتی اقدامات کے مرہونِ منت ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں، ہمیں کافی تعداد میں ایسے کیسز دیکھنا پڑتے تھے جو بعض اوقات روزانہ 10-20 سے زیادہ ہو جاتے تھے۔ تاہم، اب یہ رجحان کم ہوا ہے۔ بیرونی کارکنان کے لیے آرام کے لازمی وقفے کے نفاذ نے اس میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مزید یہ کہ اب کارکنان میں گرمی کی بیماریوں کے لیے حفاظتی اقدامات کا بہتر شعور ہے۔ کمپنیاں شعور پیدا کرنے کے لیے ایسے کیمپس منعقد کر رہی ہیں جو بیماری کے انسداد اور ابتدائی علامات کو پہچاننے کے لیے راہ نمائی کرتے ہیں۔"

بیرونی کارکنان کے علاوہ ایسے مریضوں کو بھی ڈاکٹر فیضال دیکھتے ہیں جو انسانی جسم پر شدید گرمی میں رہنے کے ممکنہ اثرات سے بےخبر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے جسم میں ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے ایک قدرتی نظام ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ پڑے تو اس سے جسم کے انہضام اور خلیاتی افعال خراب ہو سکتے ہیں۔ نتیجتاً، جسم کے مختلف اعضاء متأثر ہو سکتے ہیں، عضلات سے شروع ہو کر گردوں اور دل تک اس کے ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی میں طویل وقت کے لیے رہنے کے نتیجے میں اعضاء کی خرابی کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے بالخصوص لو لگنے کے شدید کیسز میں۔

مزید برآں، دماغ پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر حواس اور شعور کی خرابی۔ گرمی کی بیماریوں کی مختلف اقسام ہیں جن میں سب سے زیادہ تشویش ناک لو لگنا ہے۔ ایسے معاملات میں، مریض کی پسینہ خارج کرنے کی اہلیت پر فرق پڑتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کافی متأثر ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے شخص کا جسمانی درجۂ حرارت کافی حد تک بڑھ کر 41 سے 42 ڈگری تک جا سکتا ہے جو کہ خطرناک حد تک زیادہ ہے اور اکثر اس کے ساتھ متعدد اعضاء کی خرابی کی علامات ہوتی ہیں۔"


گرمی اور تھکن کی علامات سے آگاہ رہیں

جو دوسری جانب کم شدید کیفیت ہے جہاں عموماً مریض کو شدید عضلاتی تناؤ کے ساتھ حد سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔ یا جلدی مسائل کے ساتھ ہلکے عضلاتی تناؤ کی شکایت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر فیضال نے کہا کہ "گرمی کی بیماریوں کی علامات اور ان کو پہچاننے کے بارے میں آگہی بہت ضروری ہے۔ اگر کسی کو شدید سر درد، متلی، دھندلی نظر، حد سے زیادہ پسینہ آنے کا تجربہ ہو یا اس نے کافی سے زیادہ مقدار میں پانی پیا ہو تو اس سے درجۂ حرارت کو ریگولیٹ کرنے کے نظام میں خرابی ظاہر ہوتی ہے۔

ایسے حالات میں فوری ایکشن لینا بہت اہم ہے۔ پہلے، اس شخص کو جلد از جلد کسی ٹھنڈی جگہ منتقل کر دیں۔ پھر جسم کے درجۂ حرارت کو کم کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ پینے کے لیے ٹھنڈا پانی دیں لیکن اگر وہ بےہوش ہے تو نہ دیں کیونکہ یہ ان کے پھیپھڑوں میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس کی بجائے، انہیں ٹھنڈی جگہ منتقل کرنے اور فوراً ایمبولینس بلانے پر توجہ دیں تاکہ مناسب طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔"

ڈاکٹر نے کہا کہ لوگوں کو گرمی کے مطابق اپنی روزمرہ عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ باہر کام کرتے ہیں تو درمیان میں مناسب وقفہ لینا ضروری ہے۔

"سایہ دار یا ایئر کنڈیشنڈ جگہ پر جا کر باقاعدگی سے وقفہ لیں اور جسم کو ٹھنڈا ہونے دیں۔ اگر آپ ٹھنڈی جگہ سے گرم جگہ منتقل ہو رہے ہیں تو نئے مقام سے ہم آہنگ ہونے کے لیے خود کو مناسب وقت دیں۔ اپنے جسم کو گرمی کے مطابق رفتہ رفتہ ایڈجسٹ ہونے دیں۔ جب بھی ممکن ہو تو ڈھیلے ڈھالے، ہلکے، اور ہوادار کپڑوں کا انتخاب کریں۔ اس سے جسم کو بہتر طور پر ہوا لگے گی اور زیادہ مؤثر طریقے سے اس کا درجۂ حرارت ترتیب پائے گا۔

یاد رکھیں کہ گرمی کی بیماریوں کے معاملے میں پرہیز کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کافی مقدار میں مشروبات، ترجیحاً پانی پئیں۔ اور دن کے گرم ترین حصوں میں جسمانی مشقت کو محدود کر دیں۔ اپنی خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی زیادہ کر دیں۔ چائے، کافی، اور الکوحل سے پرہیز کریں۔"

کینیڈین سپیشلسٹ ہاسپٹل میں ذیابیطس کی ماہر، ڈاکٹر سرلا کماری نے کہا کہ درجۂ حرارت کے 50 ڈگری سے تجاوز کر جانے کے سبب لوگوں کو محفوظ رہنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے۔ بیرونی مثلاً سیلز اور مارکیٹنگ، ہاتھ سے کرنے والا کام، اور تعمیراتی کام کرنے والے افراد کو صحت کے مسائل کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ دائمی مسائل میں مبتلا بچوں اور بزرگوں کو گرمی کی بیماریوں کا زیادہ سامنا ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ہم ہاسپٹل میں نقاہت، تھکن، سر درد، توانائی کی کمی، اور عضلاتی تناؤ کے کئی مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ پانی کی کمی کا شکار افراد میں متلی، بےترتیب دھڑکن، اور متغیر جلد کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کو دن کے گرم اوقات میں گھر میں رہنے، اچھی طرح پانی پینے، ہلکے سوتی کپڑے پہننے، اور ہیٹ اور چشمے کے استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔"

دنیا کے کئی علاقوں میں گرمی کی شدید لہر کی خبریں مل رہی ہیں۔ اٹلی نے اتوار کو 16 شہروں میں گرمی کی شدت کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیے جبکہ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں جنوبی یورپ میں پارہ شدید بلند ہو گا۔

سپین، اٹلی، اور یونان جن کو پہلے ہی کئی دنوں سے بہت بلند درجۂ حرارت کا سامنا ہے، وہاں اس سے زراعت کو نقصان پہنچا اور سیاح پناہ کی تلاش میں رہے۔

دبئی کے کینیڈین سپیشلسٹ ہاسپٹل کے جنرل فزیشن، ڈاکٹر دیپ بھٹاچاریہ کہتے ہیں کہ "تمام دنیا میں درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اور یو اے ای کے لوگوں کو گرمی کی بیماریوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ یہ یو اے ای کے لیے نئی بات نہیں ہے؛ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ ہر ایک کا گرمی کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان ہے لیکن مخصوص عمر اور علاقوں کے افراد کے متأثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے بلند درجۂ حرارت نے ہر ایک کے لیے گرمی کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

اسی طرح، ایم بی زیڈ شہر کے بارین انٹرنیشنل ہاسپٹل میں انٹرنل میڈیسن کے ماہر، ڈاکٹر عظیم عبدالسلام نے کہا کہ "انہوں نے بھی حال ہی میں ایسے مریضوں میں اضافہ دیکھا ہے جن میں گرمی میں رہنے سے ہونے والی بیماریوں کی ممکنہ مہلک علامات تھیں۔ عالمی حدت کی وجہ سے گرمی کی بیماریاں کئی سالوں سے بڑھتی رہی ہیں اور آئندہ سالوں میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں واقع ممالک کے علاقے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے حوالے سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ہمیں اپنے ہاسپٹل میں گرمی کے جن مسائل کا سب سے زیادہ سامنا ہوتا ہے، ان میں پانی کی کمی، دھوپ میں جھلس جانا، گرمی سے ہونے والی تھکن اور عضلاتی تناؤ شامل ہیں۔ جب جسم شدید بیرونی درجۂ حرارت میں رہتا ہے تو لو لگ سکتی ہے جو شدید کیفیت ہے اور مہلک ہو سکتی ہے۔ لوگوں کو شدید گرمی میں رہنے سے ہونے والی علامات کے بارے میں معلومات دینا بہت ضروری ہے۔ یہ علامات تھکن، غنودگی، عضلاتی تناؤ، متلی، پسینہ آنا، تیز دھڑکن اور گہرے رنگ کا پیشاب آنا ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں