لندن میں عرب آرٹ کی سب سے بڑی نمائش کا انعقاد

نمائش میں آرٹ کے 150 سے زیادہ فن پارے جمع کئے گئے، اماراتی فنکار بھی شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لندن میں عرب آرٹ کی سب سے بڑی نمائش منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس نمائش میں آرٹ کے 150 سے زیادہ فن پارے جمع کئے گئے ہیں۔ نمائش میں متحدہ عرب امارات کے فنکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

نیلام گھر کرسٹیز کے مطابق "عرب دنیا کا جدید اور عصری فن" کے عنوان سے شو کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس میں 80 سال پر محیط خطے اور مختلف میڈیم پر مشتمل آئٹمز شامل ہیں۔

ناقابل فروخت "کوکابا: برجیل آرٹ فاؤنڈیشن کی جھلکیاں" میں صنفی توازن پر مشتمل مجموعہ ہے۔ اس میں تقریباً 100 فن پارے ہیں۔ "امارتی آرٹ کا ازسر نو تصور کیا گیا: حسن شریف اور ہم عصر آوازیں" کے عنوان سے ایک حصہ سرکردہ فنکار کے اطرف گھومتا ہے۔ اس میں قرض اور فروخت کے لیے اشیاء شامل ہیں۔

نمائش کے دونوں حصے مشہور اور غیر معروف ناموں سے پینٹنگز، مجسمے اور تنصیبات پیش کرتے ہیں۔

نمائش کی کیوریٹر اور کرسٹیز مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے نائب چیئرمین ردا مومنی نے شو کے افتتاحی دن گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاص ہے کیونکہ ہم برجیل آرٹ فاؤنڈیشن کے جمع کرنے کی مشق پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں 50 فیصد مرد اور 50 فیصد خواتین ہیں۔ یہ سب عرب دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہیں۔

"کوکابا" کے اہم حصوں میں 1970 کی دہائی کے وسط سے شامی مصور مروان کا "ہیڈ"، 1960 کی دہائی کے آخر میں پینٹ کردہ لبنانی مصور سامیہ اوسیران جومبلاٹ کی "فارمیٹو ریڈی ایشن" اور مصری مصور اور کارکن انجی افلاطون کی ’’ ڈریمز‘‘ نام کی تصویر شامل ہے۔

اماراتی سیکشن شریف کے کثیر شعبی کام کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اس سیکشن میں نوجوان ٹیلنٹ کو بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ کرسٹیز لندن کے ہیڈکوارٹر میں جاری نمائش میں داخلہ مفت ہے اور یہ نمائش 23 اگست تک جاری رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں