کویتی ارکان پارلیمان کی پلاسٹک سرجری پر پابندی لگانے کی تجویز کا سوشل میڈیا پر مذاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

کویتی قومی اسمبلی میں پانچ ارکان نے کلینکس اور صحت کے مراکز میں پلاسٹک سرجری اور ٹیٹو پر پابندی کے قانون کی تجویز پیش کر دی جس پر سوشل میڈیا پر تنازع پیدا ہوگیا اور بہت سے افراد نے ان افراد کی تضحیک شروع کر دی۔ ارکان پارلیمنٹ محمد ھایف، حمدان عازمی، فھد مسعود، محمد مطیر اور حمد العبید نے پلاسٹک سرجری کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک قانون کی تجویز پیش کی۔

تجویز میں یہ کہا گیا ہے کہ پلاسٹک سرجری کے لیے درخواستوں کی جانچ کے لیے خصوصی کمیٹی کی منظوری ضروری کی جائے۔ مجوزہ بل میں پلاسٹک سرجری کی درخواستوں کی جانچ کے لیے وزارت صحت میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا کہا گیا۔

انہوں نے چہرے اور انگلیوں کی پلاسٹک سرجری سے پہلے اور بعد میں وزارت داخلہ کو مطلع کرنے اور خلاف ورزی کرنے والے کو پانچ سال سے زیادہ قید اور ایک ہزار دینار سے کم جرمانہ عائد کرنے کی بھی تجویز دی۔

اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد ملک میں ایک تنازع پیدا ہوگیا۔ اس تجویز کے حامی اور مخالفین نے ایک دوسرے پر طنز و تنقید شروع کر دی۔ اس حوالے سے ہیش ٹیگ "پلاسٹک سرجریز فائیو ایئرز پنشمنٹ" ٹرینڈ کرتا رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں