مریضوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک، برطانیہ میں ہسپتال بند کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں مریضوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک برتے جانے کی شکایت کے بعد ایک ہسپتال کو بند کردیا گیا۔

برکشائر کے ایک دماغی ہسپتال میں غلط کام کی اطلاع دینے والے مریضوں نے اسے فوری طور پر بند کرنے کے فیصلے کے بعد خوشی کا اظہار کیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہسپتال میں جاری منظم بدسلوکی کے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکام نے ایکشن لے کر اس ہسپتال کو مستتقل طور پر بند کردیا۔

سکینڈل کی زد میں آنے والے ایکٹیو کیئر گروپ کے تحت ذہنی صحت کے ہسپتال ٹیپلو منور کے مالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسے دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کو منسوخ کر رہا ہے۔

برکشائر میں میڈن ہیڈ یونٹ کے عملے کو ای میل کے ذریعے ہسپتال بند کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ اس ہسپتال کے سابق مریض جو ہسپتال کے خلاف لابنگ کر رہے تھے خبر سن کر انتہائی خوشی میں رو دئیے۔

یہ بندش گروپ پر مہینوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد ہوئی ہے۔ نجی خبر رساں ادارے نے 50 سے زیادہ مریضوں کے ساتھ برتی جانے والی زیادتوں کا انکشاف کیا تھا۔ رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور سماجی نگہداشت کے ادارے نے دماغی صحت کے مریضوں کی تمام خدمات کے بارے میں ملک گیر انکوائری شروع کردی۔ رپورٹس میں بتایا جاتا رہا کہ حکومت ذہنی صحت کی سہولیات میں بدسلوکی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ہسپتال کی بندش کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی محکمہ صحت و سماجی نگہداشت نے کہا کہ دماغی صحت کے مریض اعلیٰ معیار کی دیکھ بھال کے مستحق ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس میں بات سامنے آئی کہ اس ہسپتال میں مریضوں سے جانوروں کی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ مریضوں کا ضرورت سے زیادہ علاج کیا جاتا۔ نقل و حرکت کو کم کرنے کے لیے ان کو زخمی کردیا جاتا ہے۔

ٹیبلو منور ہسپتال کے متعلق پولیس کی تفتیش اس وقت شروع ہوئی جب ایک 14 سالہ لڑکی کی موت کے بعد کیئر کوالٹی کمیشن کے ذریعہ فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔ اسی طرح ایک بچے کے ساتھ زیادتی کا معاملہ سامنے آنے پر بھی تحقیقات کی گئیں۔

"ایکٹو کیئر گروپ" نے اس سال مارچ میں "ٹیبلو منور ہسپتال" میں بچوں کی سروس بند کر دی تھی لیکن تقریباً دو ماہ بعد اسے بالغوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا۔

ہسپتال کے خلاف مہم چلانے والے گروپ میں اس گروپ کے ہسپتالوں میں داخل رہنے والے 100 سے زیادہ مریض اور ان کے لواحقین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں